اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)اگر باورچی خانے میں چینی کے چند دانے گر جائیں، کھیر کا ایک قطرہ فرش پر ٹپک جائے یا مٹھائی کا کوئی چھوٹا ٹکڑا میز کے نیچے رہ جائے تو چند ہی لمحوں بعد وہاں چیونٹیوں کی لمبی قطار نظر آنا ایک عام بات ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی منظر دکھائی دیتا ہے، لیکن سائنس دانوں کے مطابق اس کے پیچھے فطرت کا ایک نہایت منظم، مؤثر اور حیرت انگیز حیاتیاتی نظام کام کر رہا ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق چیونٹیوں کی اس غیرمعمولی صلاحیت کا سب سے بڑا راز ان کی انتہائی طاقتور حسِ شامہ اور اینٹینا (سینگ نما اعضا) ہیں۔ یہی اینٹینا انہیں ایسے کیمیائی سگنلز محسوس کرنے کے قابل بناتے ہیں جنہیں انسان نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی سونگھ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے چیونٹیاں بہت معمولی مقدار میں گری ہوئی میٹھی خوراک کا بھی فوری سراغ لگا لیتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہر چیونٹی کالونی میں مزدور چیونٹیوں کا ایک مخصوص گروہ مسلسل خوراک کی تلاش میں رہتا ہے۔ یہ چیونٹیاں دیواروں کی دراڑوں، فرش کے کناروں، دروازوں کی دہلیز اور باورچی خانے کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتی رہتی ہیں۔ جیسے ہی انہیں چینی، شربت، مٹھائی یا کسی بھی میٹھی چیز کا ذرہ ملتا ہے، وہ فوراً اس کی شناخت کر لیتی ہیں۔
2021 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کے اینٹینا اور اگلی ٹانگوں پر موجود خصوصی ذائقہ محسوس کرنے والے ریسیپٹرز انہیں صرف چھونے سے بھی یہ جاننے کی صلاحیت دیتے ہیں کہ سامنے موجود چیز میٹھی ہے یا نہیں۔ یہی خصوصیت انہیں خوراک کی فوری شناخت میں مدد فراہم کرتی ہے۔
خوراک ملنے کے بعد اصل حیرت انگیز مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ خوراک دریافت کرنے والی چیونٹی اکیلے واپس نہیں جاتی بلکہ راستے میں فیرومونز (Pheromones) نامی ایک خاص کیمیائی مادہ چھوڑتی جاتی ہے، جو دوسری چیونٹیوں کے لیے رہنمائی کا کام کرتا ہے۔
یہ فیرومونز ایک قدرتی نیوی گیشن سسٹم کی طرح کام کرتے ہیں۔ دوسری چیونٹیاں اسی کیمیائی خوشبو والے راستے کی پیروی کرتے ہوئے سیدھا خوراک تک پہنچ جاتی ہیں۔ امریکی محکمہ زراعت کی زرعی تحقیقاتی سروس کے مطابق یہ نظام اتنا مؤثر ہے کہ بعض ماہرین نے اسے جدید گوگل میپس سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ یہ پوری کالونی کو درست راستہ دکھانے میں مدد دیتا ہے۔
1993 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ کیمیائی راستے تقریباً 47 منٹ تک مؤثر رہتے ہیں، جو دوسری مزدور چیونٹیوں کے جمع ہونے اور خوراک کو کالونی تک منتقل کرنے کے لیے کافی وقت فراہم کرتے ہیں۔
ماہرینِ حشرات کا کہنا ہے کہ چیونٹیوں کے اینٹینا صرف سونگھنے کے لیے استعمال نہیں ہوتے بلکہ وہ آپس میں رابطہ قائم کرنے، سمت کا تعین کرنے، خطرات کی نشاندہی کرنے اور اپنی کالونی کے افراد کو پہچاننے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر کسی وجہ سے چیونٹیوں کے اینٹینا متاثر ہو جائیں تو ان کے لیے نہ صرف خوراک تلاش کرنا بلکہ اپنی کالونی تک واپس پہنچنا بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق چیونٹیوں کا یہ اجتماعی اور کیمیائی مواصلاتی نظام فطرت کے مؤثر ترین حیاتیاتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی منظم تعاون، بہترین رابطہ اور غیرمعمولی حسِ شامہ انہیں چند لمحوں میں معمولی سے معمولی میٹھی خوراک تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے، جو قدرت کے حیرت انگیز شاہکاروں میں سے ایک ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق چیونٹیوں کا یہ منظم نظام اس بات کی بہترین مثال ہے کہ قدرت میں چھوٹے سے چھوٹے جاندار بھی حیرت انگیز صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی باہمی رابطہ کاری اور اجتماعی نظم و ضبط جدید ٹیکنالوجی کے کئی نظاموں کے لیے بھی تحقیق کا موضوع بن چکا ہے۔
عوامی رائے
یہ دلچسپ سائنسی معلومات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے قدرت کے اس حیرت انگیز نظام پر حیرت کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے تبصرہ کیا کہ روزمرہ زندگی میں نظر آنے والی معمولی چیزوں کے پیچھے بھی سائنس کے حیران کن راز پوشیدہ ہوتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ حیاتیات کے مطابق چیونٹیوں کا فیرومون پر مبنی مواصلاتی نظام اجتماعی ذہانت (Collective Intelligence) کی بہترین مثال ہے۔ اسی نظام کی بدولت ہزاروں چیونٹیاں بغیر کسی مرکزی رہنما کے انتہائی منظم انداز میں خوراک تلاش کرنے اور اپنی کالونی کی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔
قدرت کی دنیا میں موجود چھوٹے جاندار بھی غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ چیونٹیوں کا منظم نظام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ باہمی تعاون، مؤثر رابطہ اور منظم حکمت عملی کامیابی کی بنیادی کنجیاں ہیں۔
میری رائے میں چیونٹیوں کی زندگی اس حقیقت کی بہترین مثال ہے کہ فطرت میں ہر مخلوق ایک منظم نظام کے تحت کام کرتی ہے۔ انسان کے لیے بھی اس میں تعاون، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا ایک اہم سبق پوشیدہ ہے۔





















