اسلام آباد:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) پاکستان نے سعودی عرب کے مختلف شہروں میں حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق سعودی عرب پر کیے جانے والے حملے نہ صرف مملکت کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ پاکستان نے زخمی ہونے والے افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی بھی مکمل حمایت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ سفیر سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصول کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ حالیہ حوثی حملوں میں سعودی عرب کے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف اس نوعیت کے حملے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور یمن کے تنازع کے پائیدار اور پرامن حل کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے اپنے شہریوں، رہائشیوں، سرزمین اور قومی اثاثوں کے دفاع کے جائز حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
مکہ معاہدے کے تحت مشاورت جاری
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت جاری مشاورت کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق تینوں ممالک کے درمیان اس معاہدے کے تحت رابطہ اور مشاورت جاری ہے جبکہ مستقبل میں یکساں سوچ رکھنے والے دیگر ممالک کے لیے بھی اس معاہدے کے دروازے کھلے رہنے کی بات کی گئی ہے۔
حالیہ علاقائی صورتحال میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی و سفارتی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکستان نے اس معاملے میں واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے حوالے سے اس کے مؤقف میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کے بعد اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا ہے۔
بھارت پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے علاوہ یورپ، امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی بھارت کے دہشت گردی سے متعلق کردار کے شواہد موجود ہیں۔
پاکستان کی جانب سے بھارت پر یہ الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان مختلف علاقائی اور سکیورٹی معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔ دفتر خارجہ نے ماضی میں بھی دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی کردار پر اپنے تحفظات عالمی فورمز پر اٹھائے ہیں۔
نارووال میں مندر سے متعلق بھارتی دعوے مسترد
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے نارووال کے علاقے آدھا سراج میں ہندو مندر سے متعلق کیے گئے دعووں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مؤقف کے برعکس مندر کی عمارت 21 جولائی کو ہونے والی موسلادھار بارشوں کے باعث متاثر ہوئی تھی۔
پاکستانی حکام کے مطابق واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے صورتحال کا جائزہ لیا اور عمارت کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کیے۔ ترجمان نے بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ حقائق کو مسخ کرکے پاکستان میں اقلیتوں کے حوالے سے گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں سے متعلق معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنے ہاں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے اپنے ریکارڈ پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
پاکستان نے 5 ستمبر 2026 کو بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر سہارنپور میں ایک قدیم مسجد کی مسماری کی بھی شدید مذمت کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس واقعے کو اسلامی ورثے اور مذہبی آزادی سے متعلق سنگین معاملہ قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مذہبی مقامات اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل قبضہ اس خطے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے مطابق جموں و کشمیر کا مسئلہ اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود اور حل طلب ہے۔
یاسین ملک کی صحت پر پاکستان کو تشویش
ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے حریت رہنما یاسین ملک کی بگڑتی ہوئی صحت پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے بھارتی عدالتی نظام کے حوالے سے اپنا مؤقف دنیا کے سامنے رکھا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ وہ یاسین ملک اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کو عالمی فورمز پر اٹھاتا رہے گا اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
نیپال کے سیلاب متاثرین کے لیے 100 ٹن امداد
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں کے لیے 100 ٹن ضروری اشیا بھیجی گئی ہیں۔ وزیراعظم اور نائب وزیراعظم نے نیپالی سفارت خانے کا دورہ کرکے سیلاب میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
پاکستان کی جانب سے امدادی سامان کی فراہمی کو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان اگلے سال ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کرے گا
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان آئندہ سال 4 سے 11 اپریل تک ساؤتھ ایشین گیمز کی میزبانی کرے گا۔ آٹھ روزہ کھیلوں کے مقابلے اسلام آباد، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں منعقد کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق کھیلوں میں شرکت کے لیے دعوت نامے اولمپک ایسوسی ایشن کے ذریعے متعلقہ ممالک کو بھجوائے جا چکے ہیں۔ پاکستان نے امید ظاہر کی ہے کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک ان مقابلوں میں شرکت کریں گے، تاہم کسی ملک کی شرکت ہو یا نہ ہو، پاکستان طے شدہ پروگرام کے مطابق گیمز کا انعقاد کرے گا۔
گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی حمایت
ترجمان دفتر خارجہ نے چین کے گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 160 ممالک نے اس اقدام کی حمایت کا اظہار کیا ہے جبکہ 60 سے زائد ممالک گلوبل گورننس کے دوست ممالک کے گروپ میں شامل ہوچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار میڈی ایشن نے بھی باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کے مطابق عالمی سطح پر گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے لیے وسیع حمایت سامنے آ رہی ہے اور پاکستان نے اس اقدام کی حمایت کے ساتھ اس پر فعال عملدرآمد میں بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان کا واضح اور دوٹوک مؤقف اس کی علاقائی سفارت کاری کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی دوست اور اہم شراکت دار ہے، اس لیے سعودی خودمختاری اور سلامتی کے حوالے سے اسلام آباد کا مضبوط مؤقف قابلِ فہم ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنی یکجہتی برقرار رکھتے ہوئے خطے میں کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے۔
عوامی رائے
پاکستانی عوام کی ایک بڑی تعداد سعودی عرب کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہم سمجھتی ہے۔ ایسے میں سعودی شہریوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں پر پاکستان کی جانب سے مذمت اور اظہارِ یکجہتی کو عمومی طور پر مثبت نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ تاہم عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ خطے میں جنگ کا دائرہ مزید نہ پھیلے اور مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
ماہرین کی رائے
علاقائی امور کے ماہرین کے مطابق سعودی عرب پر حملوں سے یمن کا تنازع دوبارہ ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے سفارتی رابطے، علاقائی تعاون اور دفاعی شراکت داری کے درمیان توازن برقرار رکھنا اہم ہوگا۔ خصوصاً بحیرہ احمر، باب المندب اور خلیجی راستوں کی صورتحال عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ حالیہ حملوں کے باعث عالمی سطح پر توانائی کے تحفظ کے خدشات مزید بڑھے ہیں۔
سعودی عرب کی سلامتی پورے خطے کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔ کسی بھی ملک کی خودمختاری اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا اس کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، تاہم ساتھ ہی خطے میں امن اور مذاکرات کے راستے کھلے رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے اور حوثی حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے واضح مؤقف کے ساتھ ساتھ ایسا سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جس سے تنازع مزید ممالک تک پھیلنے کے بجائے مذاکرات کی طرف بڑھے۔ جنگ کا دائرہ جتنا وسیع ہوگا، اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تجارت اور توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
نوٹ: اس رپورٹ میں متعلقہ فریقین کے مؤقف کو ان کے بیانات کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔ جہاں کسی ملک یا فریق پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، انہیں بطور الزام ہی پیش کیا گیا ہے۔





















