نئی دہلی:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں شادی کے نام پر دھوکا دہی کا ایک ایسا انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے درجنوں خاندانوں کو حیران اور پریشان کردیا۔ دیواس میں 40 سے زائد نوجوان اجتماعی شادی کی تقریب میں دلہنوں کا انتظار کرتے رہے، لیکن گھنٹوں انتظار کے باوجود کوئی دلہن تقریب میں نہ پہنچی اور بالآخر دولہوں اور ان کے اہل خانہ کو معلوم ہوا کہ وہ مبینہ فراڈ کا شکار ہوچکے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں 42 دولہوں اور ان کے خاندانوں کو دھوکا دینے کا الزام ہے۔
رپورٹس کے مطابق دیواس سے تعلق رکھنے والے ابھیشیک ورما کے خاندان کو بھی بیٹے کی شادی کے لیے رشتے کی تلاش تھی۔ اسی دوران ایک شخص نے خود کو میرج میچ میکر ظاہر کرتے ہوئے خاندان سے رابطہ کیا اور شادی کے لیے رشتہ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ مبینہ طور پر خاندانوں کو بتایا گیا کہ اجتماعی شادی کے پروگرام میں یتیم لڑکیوں سے ان کی شادی کرائی جائے گی اور اس مقصد کے لیے انہیں تصاویر میں سے اپنی پسند کی لڑکی کا انتخاب کرنا ہوگا۔
دولہوں اور ان کے خاندانوں کو مختلف لڑکیوں کی تصاویر دکھائی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو معلوم ہوا کہ مبینہ ملزمان نے سوشل میڈیا سے نوجوان خواتین کی تصاویر حاصل کرکے انہیں ممکنہ دلہنوں کے طور پر خاندانوں کو دکھایا تھا۔ دولہوں سے شادی کی تیاریوں اور اجتماعی تقریب میں شرکت کے نام پر مختلف رقوم بھی وصول کی گئیں۔
پولیس کے مطابق ہر خاندان سے تقریباً 10 ہزار سے 25 ہزار بھارتی روپے تک وصول کیے گئے۔ بعض متاثرین سے دسمبر یا دیگر اخراجات سمیت مختلف رقم لینے کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔ مبینہ طور پر خاندانوں کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ دیواس کے ایک مذہبی مقام پر اجتماعی شادی کی تقریب منعقد ہوگی، جہاں ان کی باقاعدہ شادی کرائی جائے گی اور بعض خاندانوں کو اضافی سہولیات یا تحائف کا بھی لالچ دیا گیا۔
شادی کے مقررہ روز تقریباً 40 سے زائد دولہے اپنے خاندانوں اور عزیزوں کے ہمراہ صبح کے وقت مقررہ مقام پر پہنچ گئے۔ کئی نوجوان شادی کے لباس میں ملبوس تھے اور انہیں امید تھی کہ کچھ ہی دیر میں ان کی زندگی کا اہم ترین دن شروع ہونے والا ہے۔ تاہم وقت گزرتا گیا لیکن دلہنوں کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔
دولہوں اور ان کے اہل خانہ نے کئی گھنٹے تک انتظار کیا۔ رپورٹس کے مطابق بعض متاثرین رات تک دلہنوں کی آمد کا انتظار کرتے رہے، لیکن جب نہ کوئی دلہن پہنچی اور نہ ہی مبینہ میچ میکر کی جانب سے تسلی بخش جواب ملا تو انہیں اندازہ ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ بالآخر متاثرین پولیس کے پاس پہنچے اور فراڈ کی شکایت درج کرائی۔
پولیس کے مطابق متاثرہ افراد زیادہ تر دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے 20 سے 40 سال کی عمر کے مرد ہیں۔ حیران کن طور پر پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرین کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ سماجی شرمندگی اور بدنامی کے خوف سے متعدد خاندان پولیس سے رابطہ کرنے سے گریز کررہے ہیں۔
اس کیس میں پولیس نے مبینہ میچ میکر اور اس کے ساتھیوں کے خلاف دھوکا دہی کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ دستیاب پولیس معلومات کے مطابق چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، جن میں سے ایک میاں بیوی کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ ملزمان نے متاثرین سے رابطہ کیسے کیا، لڑکیوں کی تصاویر کہاں سے حاصل کیں، کتنے خاندانوں سے رقم وصول کی اور اس فراڈ میں مزید کتنے افراد ملوث ہوسکتے ہیں۔
یہ واقعہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اجتماعی شادیوں کا مقصد عام طور پر مالی طور پر کمزور خاندانوں کے لیے شادی کے اخراجات کو کم کرنا ہوتا ہے، لیکن بعض مقامات پر شادی، مالی مدد، تحائف یا دیگر مراعات سے متعلق وعدوں نے فراڈ کرنے والوں کے لیے بھی مواقع پیدا کیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران اجتماعی شادیوں کے گرد دھوکا دہی کے واقعات نے اس نظام میں شفافیت اور تصدیق کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔
دیواس کے واقعے نے شادی کے لیے رشتہ تلاش کرنے والے خاندانوں کے لیے بھی ایک اہم سوال اٹھا دیا ہے کہ محض تصاویر، کسی ثالث کی بات یا زبانی یقین دہانی کی بنیاد پر کسی رشتے کو حتمی شکل دینا کس قدر خطرناک ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں دولہا یا خاندان نے ممکنہ دلہن یا اس کے خاندان سے براہِ راست ملاقات نہ کی ہو، وہاں فراڈ کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
دیواس کا واقعہ محض چند خاندانوں سے رقم بٹورنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ سماجی دباؤ اور شادی کے نام پر ہونے والے فراڈ کی ایک سنگین مثال بھی ہے۔ شادی کو زندگی کا لازمی مرحلہ سمجھنے اور جلد از جلد رشتہ طے کرنے کی خواہش بعض خاندانوں کو ایسے افراد پر اعتماد کرنے پر مجبور کرسکتی ہے جو خود کو رشتے کروانے والا یا بااعتماد ثالث ظاہر کرتے ہیں۔
اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ درجنوں دولہے ایک ہی مقام پر جمع ہوئے، لیکن کسی نے یہ تصدیق نہیں کی کہ جن خواتین سے ان کی شادی ہونی ہے وہ واقعی موجود بھی ہیں یا نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جذبات اور شادی کی خواہش بعض اوقات بنیادی تصدیقی عمل کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔
عوامی رائے
عوامی سطح پر اس واقعے پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی جیسے حساس معاملے میں کسی بھی ثالث یا میچ میکر پر مکمل اعتماد کرنے کے بجائے خاندانوں کو ممکنہ رشتے اور متعلقہ خاندان کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
کچھ لوگوں کے مطابق اس قسم کے واقعات متاثرین کے لیے صرف مالی نقصان نہیں بلکہ سماجی اور ذہنی دباؤ کا بھی سبب بنتے ہیں، کیونکہ شادی کے لیے جمع ہونے والے خاندان کو تقریب کے دن ہی حقیقت کا علم ہوا۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق رشتے کے معاملات میں شناخت، خاندان، رہائش اور دیگر بنیادی معلومات کی تصدیق انتہائی ضروری ہے۔ اگر کسی رشتے کے لیے رقم پہلے سے طلب کی جائے یا کسی شخص کو صرف تصاویر کی بنیاد پر دلہن یا دولہا منتخب کرنے پر مجبور کیا جائے تو ایسے معاملے میں اضافی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا سے تصاویر حاصل کرکے جعلی شناخت یا فرضی پروفائل بنانے کا خطرہ بھی موجود ہے، اس لیے صرف تصویر دیکھ کر کسی شخص کی شناخت یا پس منظر کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا مناسب نہیں۔
شادی اعتماد کا رشتہ ہے، لیکن اعتماد کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی تصدیق کو نظرانداز کردیا جائے۔ رشتہ کروانے والے افراد اور اداروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی شناخت اور خدمات کے بارے میں واضح معلومات فراہم کریں۔ دوسری جانب خاندانوں کو بھی کسی قسم کی رقم ادا کرنے سے پہلے مکمل تحقیق کرنی چاہیے تاکہ شادی کی خواہش فراڈ کا ذریعہ نہ بن جائے۔
دیواس کے 40 سے زائد دولہوں کا واقعہ بظاہر ایک عجیب و غریب خبر لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ چھپا ہوا ہے۔ شادی کے لیے پریشان خاندان جب کسی شخص کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں تو بعض اوقات اس کی باتوں کی مکمل تصدیق نہیں کرتے۔ یہی غفلت فراڈ کرنے والوں کے لیے راستہ بنا دیتی ہے۔
اس واقعے کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ رشتہ چاہے کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے، تصدیق کے بغیر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ تصویر، فون کال یا کسی ثالث کی یقین دہانی کافی نہیں؛ ممکنہ رشتے، خاندان اور شادی کی تقریب سے متعلق تمام معلومات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
دوسری جانب متاثرین کو سماجی شرمندگی کے خوف سے خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ فراڈ کی اطلاع بروقت پولیس کو دینے سے نہ صرف رقم کی وصولی یا قانونی کارروائی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں بلکہ دیگر خاندانوں کو بھی اسی دھوکے سے بچایا جاسکتا ہے۔
نوٹ: اس رپورٹ میں فراڈ اور ملزمان سے متعلق الزامات پولیس اور دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔ حتمی قانونی ذمہ داری عدالت کے فیصلے سے طے ہوگی۔





















