سورۂ رحمٰن کی روزانہ تلاوت نے کینسر سے صحتیابی میں اہم کردار ادا کیا، نعمان اعجاز

نعمان اعجاز نے اپنی صحتیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ان پر بہت مہربان رہا ہے

پاکستان کے سینئر اداکار نعمان اعجاز نے انکشاف کیا ہے کہ وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا رہ چکے ہیں اور انہوں نے اپنی صحتیابی کے سفر میں سورۃ الرحمٰن کی روزانہ تلاوت کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ )حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے نعمان اعجاز نے بتایا کہ جون 2024 میں ان میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کے کان کے قریب ٹیومر جبکہ معدے میں لیمفوما موجود تھا۔

بیماری کا علم ہونے کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے رحم کی دعا کی۔ نعمان اعجاز کے مطابق انہیں اسپتال کے چکروں، کیموتھراپی اور علاج کی مشکلات سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ ان کی بیماری کی وجہ سے ان کے اہلِ خانہ کو تکلیف سے گزرنا پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ خیال بھی رہتا تھا کہ شاید وہ اگلی صبح نہ اٹھ سکیں، اسی لیے وہ رات کو سونے سے قبل مختلف آیات اور دعاؤں کی تلاوت کیا کرتے تھے۔

نعمان اعجاز کے مطابق ان کے دوست گوہر بٹ نے انہیں سورۃ الرحمٰن پڑھنے کا مشورہ دیا، جس کے بعد انہوں نے روزانہ اس کی تلاوت شروع کردی۔ ان کا کہنا ہے کہ سورۃ الرحمٰن نے ان کی صحتیابی میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

ٹیومر آپریشن کے ذریعے نکال دیا گیا

اداکار نے بتایا کہ کان کے قریب موجود ٹیومر کو آپریشن کے ذریعے نکال دیا گیا، جبکہ معدے میں موجود لیمفوما بعد کے اسکینز میں نظر نہیں آیا۔

ان کے مطابق ڈاکٹروں نے جولائی میں کیموتھراپی شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم بعد میں آنے والے اسکین کے نتائج ان کے لیے حیران کن ثابت ہوئے۔

نعمان اعجاز نے اپنی صحتیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ ان پر بہت مہربان رہا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق نعمان اعجاز کا یہ تجربہ بیماری کے مشکل مرحلے میں امید، دعا اور روحانی وابستگی کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم سنگین بیماریوں میں روحانی سکون کے ساتھ مستند طبی علاج اور ماہرینِ صحت کی ہدایات پر عمل بھی ضروری ہے۔

عوامی رائے

نعمان اعجاز کے انکشاف کے بعد ان کے مداحوں کی جانب سے ان کی صحتیابی پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے ان کے لیے مزید صحت، سلامتی اور لمبی زندگی کی دعائیں بھی کی ہیں۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق بیماری کے دوران ذہنی سکون، امید اور مثبت سوچ مریض کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوسکتی ہے، تاہم کینسر جیسے مرض کے علاج کے لیے مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا اور تجویز کردہ طبی علاج پر عمل کرنا ضروری ہے۔

مشکل بیماری کے دوران اللہ تعالیٰ سے تعلق، دعا اور تلاوت انسان کو روحانی سکون اور حوصلہ فراہم کرسکتے ہیں۔ نعمان اعجاز کا تجربہ بھی اسی امید اور روحانی وابستگی کی ایک مثال ہے، تاہم طبی علاج کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

میری رائے میں نعمان اعجاز کی صحتیابی ان کے مداحوں کے لیے خوش آئند خبر ہے۔ بیماری کے مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ، دعا اور امید انسان کو حوصلہ دیتی ہے، جبکہ طبی ماہرین سے بروقت رجوع اور مناسب علاج بھی انتہائی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین