اسلام آباد:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاک ایران تجارت جاری ہے اور پاکستان ایران کے خلاف عائد یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند نہیں، تاہم اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں عائد ہونے کی صورت میں صورتحال مختلف ہوگی۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی تجارت بین الاقوامی تجارت کے قوانین کے تابع ہے اور پاکستان پاک ایران تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر پاکستان کا مؤقف
طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر عائد کی جانے والی یکطرفہ پابندیوں اور ایسے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد ہوں تو معاملہ مختلف ہوگا، تاہم موجودہ صورتحال میں پاک ایران تجارت جاری ہے۔
فیلڈ مارشل کا دورۂ تہران، امریکا سے تعلق کی تردید
دفتر خارجہ کے ترجمان نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی کے طور پر کیے جانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا دورۂ تہران خالصتاً پاکستان کی جانب سے مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے کی جانے والی ثالثی کوششوں کا حصہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کا دورہ امریکا سے منسلک کرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں، جبکہ ایران کی قیادت نے بھی کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔
آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے بھی کوششیں جاری
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ فیلڈ مارشل کا دورہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرانے کی کوششوں کا بھی حصہ تھا۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے تمام فریق متاثر ہو رہے ہیں اور پاکستان اس معاملے کے پرامن حل کے لیے پُرامید ہے، تاہم حتمی فیصلہ تہران اور واشنگٹن کو کرنا ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورۂ تہران کے دوران آبنائے ہرمز کے معاملے پر پرخلوص کوشش کی۔
پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں تیز
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے مغربی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
ان کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی اداروں کے نمائندوں سے ٹیلیفونک گفتگو بھی ہوئی ہے، جبکہ پاکستان قیام امن کے لیے بات چیت کی بحالی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ایس سی او کی صدارت سنبھالنے کے لیے پاکستان تیار
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔
31 اگست کو بشکیک میں ایس سی او سربراہ اجلاس منعقد ہوگا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور مختلف رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔
افغانستان سے عملی اقدامات کا مطالبہ
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کو انسداد دہشتگردی کے حوالے سے زبانی دعووں کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
ان کے مطابق پاکستان ادارہ جاتی میکنزم کے قیام کے لیے تیار ہے، تاہم اگر افغان طالبان کسی کے کہنے پر پاکستان کو فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کے ذریعے غیر مستحکم کرنے کی کوشش کریں تو اسے پراکسی کہا جا سکتا ہے۔
کشمیر اور بھارت کے معاملے پر بھی سخت مؤقف
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان سابق بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے کیرانہ پہاڑوں سے متعلق دعووں کو یکسر مسترد کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخ حقائق سے بنتی ہے، بالی ووڈ انداز کے بیانیے سے نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت میں امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے پر اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو ڈیمارش کیا گیا ہے۔
اسرائیلی آبادکاری پر پاکستان کا مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کو مغربی کنارے میں بستیاں بسانے کا کوئی حق نہیں۔
ان کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی غیر قانونی قرار دے چکی ہیں، اس لیے اسرائیلی آبادکاری کے حوالے سے کیے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان کا پاک ایران تجارت جاری رکھنے کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسلام آباد اپنی خارجہ پالیسی میں اقوام متحدہ کے دائرہ کار اور اپنے قومی مفادات کو اہمیت دے رہا ہے۔ دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کو ثالثی کوششوں کا حصہ قرار دینا بھی پاکستان کے سفارتی کردار کو واضح کرتا ہے۔
عوامی رائے
پاک ایران تجارت جاری رکھنے اور ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیوں پر عمل نہ کرنے کے پاکستان کے مؤقف پر عوامی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض حلقے اسے پاکستان کے قومی اور اقتصادی مفادات کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر خطے میں بڑھتی کشیدگی کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا اہم چیلنج ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے تناظر میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں خطے کے امن اور اپنی اقتصادی ضروریات دونوں کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔
پاک ایران تجارت دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور سرحدی معیشت کے لیے اہم ہے۔ ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے، پاکستان کا سفارتی راستہ اختیار کرنا اور امن کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنا خطے میں مزید کشیدگی روکنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
میری رائے میں پاکستان کے لیے موجودہ صورتحال میں سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے اقتصادی اور قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے خطے میں امن کے لیے اپنا سفارتی کردار بھی جاری رکھے۔ ایران کے ساتھ تجارت اور امریکا کے ساتھ تعلقات دونوں پاکستان کے لیے اہم ہیں، اس لیے متوازن اور محتاط خارجہ پالیسی ہی بہتر راستہ دکھائی دیتی ہے





















