تحریر: ایم اے زیب رضا خان
زندگی میں بدتمیزی، غصہ اور بے صبری کو اکثر محض مزاج کی خرابی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ بہت مرتبہ ان رویوں کے پیچھے انسان کی ذہنی تھکن، معاشی دباؤ، نامکمل ذمہ داریاں، غیر حقیقی توقعات اور اپنی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ اٹھانے کی عادت کارفرما ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کو اپنے وسائل سے بڑا کر لیتا ہے، اپنی ترجیحات کو منتشر کر دیتا ہے اور ہر کام کو بیک وقت مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ذہن ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں معمولی سی رکاوٹ بھی غصے کا سبب بن جاتی ہے۔ یوں برداشت کم نہیں ہوتی بلکہ انسان کے اندر موجود ذہنی گنجائش مسلسل استعمال ہوتے ہوتے جواب دینے لگتی ہے۔
ہماری معاشرتی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے کامیابی کو مصروفیت کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ جو شخص ہر وقت مصروف دکھائی دے، اسے کامیاب سمجھا جاتا ہے، جبکہ یہ سوال بہت کم پوچھا جاتا ہے کہ وہ مصروف کس مقصد کے لیے ہے، اس کی ترجیحات کیا ہیں اور اس دوڑ کا اختتام کہاں ہوگا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر کام بیک وقت کرنا کامیابی نہیں، بلکہ درست وقت پر درست کام کرنا دانائی ہے۔ انسان اگر ایک کام مکمل ہونے سے پہلے پانچ نئے کام اپنے ذمہ لے لے تو اس کے پاس کام تو بہت ہوں گے، مگر اطمینان، یکسوئی اور معیار باقی نہیں رہے گا۔
محدود آمدنی میں بڑھتی ہوئی ضروریات، مہنگائی، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، علاج، گھر کے اخراجات اور روزگار کی غیر یقینی صورتِ حال نے عام آدمی کی زندگی کو پہلے ہی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں اگر خواہشات بھی لامحدود ہوں تو انسان کے اندر بے چینی پیدا ہونا فطری ہے۔ مسئلہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب ہم اپنی حقیقی معاشی حالت کو قبول کرنے کے بجائے دوسروں کی زندگی کو اپنا معیار بنا لیتے ہیں۔ کسی کے پاس بڑی گاڑی ہے، کسی کا گھر وسیع ہے، کوئی بیرونِ ملک سفر کر رہا ہے، کوئی مہنگے لباس پہن رہا ہے مگر ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہر انسان کی آمدنی، ذمہ داریاں، حالات اور ترجیحات مختلف ہیں۔
معاشرتی اقدار کا حسن اسی میں ہے کہ انسان دوسروں کی خوشی سے خوش ہونا سیکھے، مگر اپنی زندگی کا سکون دوسروں کے معیارِ زندگی کے حوالے نہ کرے۔ دکھاوا، مقابلہ اور لوگوں کی رائے کا خوف انسان کو ایسے فیصلوں کی طرف لے جاتا ہے جو اس کی مالی استطاعت سے باہر ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آمدنی محدود رہتی ہے، اخراجات بڑھتے جاتے ہیں اور ذہنی دباؤ گھر کے ماحول میں منتقل ہونے لگتا ہے۔ پھر معمولی بات پر غصہ، معمولی اختلاف پر تلخی اور معمولی رکاوٹ پر بدتمیزی جنم لینے لگتی ہے۔
اعتدال دراصل محرومی کا نام نہیں بلکہ شعوری انتخاب کا نام ہے۔ اعتدال یہ سکھاتا ہے کہ ضرورت اور خواہش میں فرق کیا جائے، ضروری اور غیر ضروری اخراجات کو الگ کیا جائے، ہر کام کے لیے مناسب وقت مقرر کیا جائے اور اپنی زندگی کو ایسی دوڑ نہ بنایا جائے جس میں منزل سے زیادہ رفتار اہم ہو جائے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر مسئلے کا فوری حل ضروری نہیں۔ بعض معاملات وقت مانگتے ہیں، بعض رشتے برداشت مانگتے ہیں، بعض فیصلے تحقیق مانگتے ہیں اور بعض خواب مسلسل محنت مانگتے ہیں۔ جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ اکثر انسان کو ایک مسئلے سے نکال کر دوسرے مسئلے میں داخل کر دیتا ہے۔ اس لیے رک جانا ہمیشہ ناکامی نہیں ہوتا؛ کبھی کبھی رکنا ہی بہتر سمت میں آگے بڑھنے کی پہلی علامت ہوتا ہے۔
رشتوں میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ گھر میں والدین، اولاد، میاں بیوی، بہن بھائی اور دوست سب اپنی اپنی توقعات لے کر زندگی گزارتے ہیں۔ اگر ہر شخص صرف یہ چاہے کہ دوسرا اسے سمجھے تو فاصلے بڑھیں گے، لیکن اگر انسان یہ سوچ لے کہ مجھے پہلے دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے تو بہت سے اختلافات خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ برداشت کا مطلب ہر غلط بات کو قبول کرنا نہیں؛ برداشت کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کے باوجود انسان اپنی زبان، رویے اور فیصلے پر قابو رکھے۔
آج کے دور میں ذہنی سکون کا ایک بڑا ذریعہ اپنی ترجیحات طے کرنا ہے ۔ ہر دعوت میں جانا ضروری نہیں، ہر بحث میں حصہ لینا ضروری نہیں، ہر خبر پر ردِعمل دینا ضروری نہیں، ہر شخص کو خوش کرنا ضروری نہیں اور ہر خواہش کو پورا کرنا بھی ضروری نہیں۔ انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی توانائی ان کاموں پر صرف کرے جو اس کی زندگی، خاندان، کردار اور مستقبل کے لیے حقیقی اہمیت رکھتے ہیں۔
معاشی مشکلات کا مقابلہ بھی اسی شعور سے ممکن ہے۔ آمدنی بڑھانے کی کوشش ضرور ہونی چاہیے، مگر اخراجات کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ بجٹ صرف حساب کتاب کا نام نہیں بلکہ مستقبل کے ساتھ وفاداری کا نام ہے۔ آج کی غیر ضروری خواہش کو روک لینا کل کی بڑی پریشانی سے بچا سکتا ہے۔ جو شخص اپنی محدود آمدنی میں بہتر منصوبہ بندی سیکھ لیتا ہے، وہ بسا اوقات اس شخص سے زیادہ مطمئن زندگی گزارتا ہے جو زیادہ کماتا ہے مگر اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو بھی یہ سبق دینا ہوگا کہ زندگی مقابلے کا میدان نہیں جہاں ہر وقت دوسروں سے آگے نکلنا ضروری ہو۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان کل کے اپنے آپ سے بہتر ہو۔ اپنی تعلیم میں بہتری، اپنے کردار میں مضبوطی، اپنے معاملات میں دیانت، اپنے اخراجات میں توازن، اپنے وقت کی قدر اور اپنے رشتوں میں احترام یہ وہ کامیابیاں ہیں جنہیں کسی سوشل میڈیا کی نمائش کی ضرورت نہیں۔
غصہ آنے سے پہلے اگر انسان خود سے صرف ایک سوال کر لے کہ ” کیا یہ معاملہ واقعی اتنا بڑا ہے کہ میں اپنا سکون قربان کر دوں؟ ” تو بہت سے جھگڑے پیدا ہونے سے پہلے ختم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح کسی خواہش کو پورا کرنے سے پہلے اگر یہ سوچ لیا جائے کہ ” کیا یہ میری ضرورت ہے یا محض دوسروں کو دیکھ کر پیدا ہونے والی خواہش؟ ” تو بہت سے معاشی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
زندگی ہمیں ہر روز ایک نیا سبق دیتی ہے ۔ کبھی حالات ہمیں سکھاتے ہیں کہ کم وسائل میں زیادہ بہتر منصوبہ بندی کیسے کی جاتی ہے، کبھی ناکامی ہمیں بتاتی ہے کہ راستہ بدلنے کی ضرورت ہے، کبھی رشتوں کی تلخی ہمیں اپنی زبان کی قدر سکھاتی ہے اور کبھی معاشی مشکل ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اصل آسودگی چیزوں کی کثرت میں نہیں بلکہ ضروریات، خواہشات اور وسائل کے درمیان توازن میں ہے۔
اس لیے زندگی کو آسان بنانے کے لیے دنیا کو بدلنا ہمیشہ ضروری نہیں کبھی کبھی اپنی ترجیحات بدلنا کافی ہوتا ہے۔ اپنے بوجھ کو پہچانیے، غیر ضروری ذمہ داریاں کم کیجیے، ایک وقت میں ایک اہم کام کیجیے، اپنی استطاعت کے مطابق خواہشات رکھیے، دوسروں سے موازنہ چھوڑ دیجیے اور اپنے رویے پر اختیار حاصل کیجیے۔ یاد رکھیے، جو انسان اپنی خواہشات کو حقیقت کے تابع کر لیتا ہے، اسے حالات کم شکست دیتے ہیں۔
برداشت کوئی کمزوری نہیں، اعتدال کوئی محرومی نہیں اور سادگی کوئی ناکامی نہیں۔ اصل طاقت یہ ہے کہ انسان کے پاس اختیار ہو مگر وہ بے قابو نہ ہو، غصہ آئے مگر زبان قابو میں رہے، خواہش پیدا ہو مگر عقل اس کی رہنمائی کرے، مشکلات آئیں مگر امید ختم نہ ہو۔
زندگی کا سکون زیادہ حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ جو حاصل ہے اسے شعور، شکر، منصوبہ بندی اور اعتدال کے ساتھ استعمال کرنے میں ہے۔ جب انسان اپنی حقیقت کو قبول کرتے ہوئے اپنی کوشش جاری رکھتا ہے تو مشکلات راستہ ضرور روکتی ہیں، مگر منزل چھین نہیں سکتیں۔





















