صحت بخش غذاؤں سے متعلق نئی تحقیق نے ماہرین کو بھی چونکا دیا

پالک، بادام اور شکر قندی میں موجود قدرتی مرکب بعض آئی بی ڈی مریضوں کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے

(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ )پالک، بادام اور شکر قندی جیسی غذاؤں کو عام طور پر صحت کے لیے مفید اور غذائیت سے بھرپور سمجھا جاتا ہے، تاہم ایک نئی تحقیق نے آنتوں کی سوزش کی بیماری (آئی بی ڈی) میں مبتلا افراد کے لیے ان غذاؤں سے متعلق ایک اہم پہلو سامنے لایا ہے۔

امریکا کے یو این سی اسکول آف میڈیسن کی تحقیق کے مطابق پودوں سے حاصل ہونے والی بعض غذاؤں میں قدرتی طور پر موجود مرکب آکسیلیٹ ایسے افراد میں آنتوں کی سوزش کو مزید بڑھانے میں کردار ادا کرسکتا ہے جو پہلے ہی آئی بی ڈی کا شکار ہوں۔

یہ تحقیق طبی جریدے سیلولر اینڈ مالیکیولر گیسٹرونٹیرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی میں شائع ہوئی ہے، جس میں محققین نے آئی بی ڈی کے مریضوں اور صحت مند افراد کے آنتوں کے ٹشوز، خوراک اور فضلے میں آکسیلیٹ کی مقدار کا جائزہ لیا۔ تحقیق کے دوران چوہوں اور خلیوں پر بھی تجربات کیے گئے تاکہ آکسیلیٹ اور آنتوں کی سوزش کے درمیان ممکنہ تعلق کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔

آکسیلیٹ جسم میں کیا کرتا ہے؟

محققین کے مطابق صحت مند افراد میں خوراک کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والے آکسیلیٹ کی بڑی مقدار فضلے کے ذریعے جسم سے خارج ہوجاتی ہے۔ اس عمل میں آنتوں کے مخصوص ٹرانسپورٹر پروٹینز اہم کردار ادا کرتے ہیں، جو آکسیلیٹ کے جذب اور اخراج کو منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم تحقیق میں سامنے آیا کہ آئی بی ڈی کے مریضوں میں SLC26A2 اور SLC26A3 نامی ٹرانسپورٹر پروٹینز کی مقدار نمایاں طور پر کم تھی۔

یہ کمی السرٹیو کولائٹس اور کروہن ڈیزیز دونوں میں مبتلا افراد میں دیکھی گئی، جو آئی بی ڈی کی دو اہم اقسام ہیں۔

تحقیق کے مطابق آنتوں کے ٹشوز میں سوزش جتنی زیادہ تھی، ان ٹرانسپورٹر پروٹینز کا اظہار بھی اتنا ہی کم پایا گیا۔ اس سے محققین کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ آنتوں میں موجود سوزش اور آکسیلیٹ کے جسم میں عمل کے درمیان ایک ممکنہ تعلق موجود ہوسکتا ہے۔

کیا پالک اور بادام کھانا چھوڑ دیں؟

تحقیق کے نتائج سامنے آنے کے بعد یہ سوال بھی اہم ہوگیا ہے کہ اگر پالک، بادام اور شکر قندی جیسی غذاؤں میں آکسیلیٹ موجود ہوتا ہے تو کیا آئی بی ڈی کے تمام مریضوں کو ان غذاؤں سے مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے؟

محققین کے مطابق ایسا نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔

تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ ہر آئی بی ڈی مریض کو پالک، بادام، شکر قندی یا آکسیلیٹ والی دیگر غذائیں لازماً اپنی خوراک سے نکال دینی چاہئیں۔ ہر مریض کی بیماری کی شدت، جسمانی کیفیت اور غذائی ضروریات مختلف ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آئی بی ڈی میں مبتلا افراد کے لیے خوراک میں بڑی تبدیلی خود سے کرنا مناسب نہیں، بلکہ کسی بھی مخصوص غذا کو کم یا ختم کرنے سے پہلے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

تحقیق کی اہمیت کیا ہے؟

اس تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ آئی بی ڈی میں مبتلا افراد کے لیے خوراک اور آنتوں کی سوزش کے درمیان تعلق ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ بعض غذائیں ایک شخص کے لیے قابلِ برداشت ہوسکتی ہیں لیکن دوسرے مریض میں علامات کو متاثر کرسکتی ہیں۔

نئی تحقیق اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کوئی غذا عمومی طور پر صحت بخش سمجھی جاتی ہے یا نہیں، بلکہ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ بیماری کی مخصوص حالت میں جسم اس غذا کے اجزا کے ساتھ کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

محققین کے مطابق آکسیلیٹ کے حوالے سے سامنے آنے والے یہ نتائج مستقبل میں آئی بی ڈی کے مریضوں کے لیے غذائی حکمتِ عملی بہتر بنانے اور بیماری کے دوران مخصوص غذائی اجزا کے کردار کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

یہ تحقیق ایک اہم حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ صحت بخش غذا کا تصور ہر فرد کے لیے یکساں نہیں ہوسکتا۔ عام طور پر پالک، بادام اور شکر قندی جیسی غذاؤں کو صحت مند خوراک کا حصہ سمجھا جاتا ہے، لیکن کسی مخصوص بیماری میں مبتلا افراد کے لیے یہی غذائیں مختلف اثرات پیدا کرسکتی ہیں۔

تاہم اس تحقیق کو بنیاد بنا کر کسی بھی غذا کو مکمل طور پر نقصان دہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ مریض اپنی بیماری کی نوعیت اور جسمانی ضرورت کے مطابق ماہرِ صحت سے غذائی رہنمائی حاصل کریں۔

عوامی رائے

ایسی تحقیقات عام لوگوں میں صحت اور خوراک کے حوالے سے دلچسپی بڑھاتی ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر تحقیق کے نتائج کو اکثر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تحقیق نے آکسیلیٹ اور آئی بی ڈی کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی ہے، ہر مریض کے لیے کسی مخصوص غذا کو خطرناک قرار نہیں دیا۔

ماہرین کی رائے

تحقیق کے نتائج اس بات کی مزید وضاحت کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں کہ آئی بی ڈی کے دوران آنتوں میں غذائی اجزا کا جذب اور اخراج کس طرح تبدیل ہوتا ہے۔ خاص طور پر ٹرانسپورٹر پروٹینز میں کمی اور سوزش کے درمیان تعلق مستقبل کی تحقیق کے لیے اہم موضوع ہوسکتا ہے۔

صحت سے متعلق کسی بھی نئی تحقیق کو سمجھتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ ایک تحقیق کے نتائج کو تمام مریضوں پر یکساں لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ آئی بی ڈی کے مریضوں کو اپنی خوراک کے بارے میں فیصلے تحقیق کی سرخی دیکھ کر نہیں بلکہ اپنے معالج اور ماہرِ غذائیت کے مشورے سے کرنے چاہئیں۔

یہ تحقیق ہمیں یہ سمجھنے کا موقع دیتی ہے کہ صحت بخش غذا بھی مخصوص طبی حالات میں مختلف اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ اس لیے متوازن خوراک کے ساتھ ساتھ اپنی جسمانی کیفیت کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ مستقبل میں اگر مزید تحقیق آکسیلیٹ کے کردار کو واضح کرتی ہے تو ممکن ہے آئی بی ڈی کے مریضوں کے لیے زیادہ مخصوص اور ذاتی نوعیت کی غذائی رہنمائی سامنے آسکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین