تہران:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی جاری رکھی تو تہران خلیج فارس میں ایک بحری اخراجی زون قائم کرسکتا ہے۔
محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جاری معاشی جنگ کا جواب خلیج فارس میں ایسے بحری اخراجی زون کے قیام کی صورت میں دیا جائے گا جو امریکی ناکا بندی کی حدود تک پھیلا ہوگا۔ ان کے مطابق ایران نے امریکا کو اپنے نئے میزائلوں کے ذریعے واضح پیغام دے دیا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے حوالے سے اپنی آپریشنل پوزیشن میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔ ان کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ایران امریکی بحری اور فوجی تنصیبات کو پہلے کے مقابلے میں مختلف انداز سے دیکھ رہا ہے اور کسی ممکنہ تصادم کی صورت میں اپنی حکمت عملی کو نئے انداز میں ترتیب دے چکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ایران پہلے ہی خلیج فارس میں ایک نئے محدود یا ممنوع بحری علاقے کے قیام کا اعلان کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اس علاقے کا آغاز اس مقام سے ہوسکتا ہے جہاں امریکی ناکا بندی کی حدود شروع ہوتی ہیں اور یہ خلیج کے بعض حصوں تک پھیل سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کو ایرانی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بحری آمدورفت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور اس کے ذریعے بڑی مقدار میں خام تیل اور قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی رکاوٹ کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور مختلف ممالک کی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
محسن رضائی نے اپنے بیان میں ایران کے نئے میزائلوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حالیہ دنوں میں واشنگٹن کو ان میزائلوں کے ذریعے واضح انتباہ مل چکا ہے۔ رائٹرز کے مطابق رضائی غالباً قاسم بصیر بیلسٹک میزائل کی جانب اشارہ کر رہے تھے، جسے ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی بحری جہازوں کی جانب فائر کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہاز میزائل حملوں سے بچنے میں کامیاب رہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے ایک نئے بحری راستے کے نقشے جاری کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے، جس کے ذریعے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے متبادل انتظام کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس نئے راستے کی مکمل تفصیلات اور اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے ابھی مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ کشیدگی صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں بلکہ اقتصادی پابندیوں، توانائی کی تجارت اور بحری آمدورفت بھی اس تنازع کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ تہران امریکی معاشی دباؤ کو اپنے خلاف جنگ قرار دیتا ہے جبکہ واشنگٹن ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔
خلیج فارس میں اگر واقعی کوئی وسیع بحری اخراجی زون قائم کیا جاتا ہے تو اس سے تجارتی جہازوں اور توانائی لے جانے والے ٹینکروں کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ عالمی منڈی پہلے ہی خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں کمی عالمی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
ایران کی تازہ دھمکی کو محض ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کا مرکزی محاذ بن چکے ہیں۔ اگر تہران واقعی امریکی ناکا بندی کی حدود تک بحری اخراجی زون قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے بحری اثاثوں کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
دوسری طرف ایران کے لیے بھی آبنائے ہرمز ایک حساس معاملہ ہے۔ اس راستے میں وسیع پیمانے پر رکاوٹ نہ صرف امریکا بلکہ ایران سمیت پورے خطے کی معیشتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی لیے موجودہ صورتحال میں فوجی دباؤ کے ساتھ سفارتی راستہ تلاش کرنا بھی انتہائی اہم ہوگا۔
عوامی رائے
خطے کے عوام کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کسی بڑے فوجی تصادم میں تبدیل نہ ہوجائے۔ خلیج میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں، سفری اخراجات اور دیگر اشیائے ضروریہ پر بھی عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے بھی خلیج فارس میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی معاشی دباؤ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اسے عالمی توانائی کے نظام کا ایک حساس نقطہ بناتی ہے۔ یہاں بحری آمدورفت میں بڑی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بحری اخراجی زون کے عملی نفاذ سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ ایران اسے کس طریقے سے نافذ کرتا ہے، تجارتی جہازوں کے لیے کیا قواعد مقرر کیے جاتے ہیں اور امریکا و دیگر ممالک اس اقدام پر کیا ردعمل دیتے ہیں۔ اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوگا جب کسی تجارتی یا فوجی جہاز کو روکنے کی کوشش براہِ راست فوجی تصادم میں تبدیل ہوجائے۔
خلیج فارس میں کشیدگی پہلے ہی عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ ایران اور امریکا دونوں کو یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ آبنائے ہرمز صرف کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔
بحری ناکا بندی، اخراجی زون اور فوجی محاذ آرائی کی دھمکیاں اگر عملی اقدامات میں تبدیل ہوتی ہیں تو اس کے اثرات کئی خطوں تک پھیل سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی طاقتوں کو کشیدگی کم کرنے اور بحری راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے فوری سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔
ایران کا تازہ بیان امریکا کے لیے ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے کہ تہران اقتصادی دباؤ کو صرف اقتصادی سطح پر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ اسے بحری اور فوجی ردعمل سے جوڑ رہا ہے۔ اگر یہ پالیسی عملی شکل اختیار کرتی ہے تو خلیج فارس میں پہلے سے موجود کشیدگی ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوسکتی ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کوئی بھی بڑی رکاوٹ صرف امریکا اور ایران کو متاثر نہیں کرے گی۔ دنیا کے بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک، عالمی منڈیاں اور پاکستان جیسے ممالک بھی اس کے اثرات محسوس کریں گے۔
اس لیے موجودہ صورتحال میں طاقت کے مظاہرے سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ فریقین کسی ایسے مقام تک نہ پہنچیں جہاں ایک معمولی بحری واقعہ بھی بڑے فوجی تصادم کا سبب بن جائے۔ خلیج فارس میں امن اور محفوظ بحری آمدورفت پوری عالمی معیشت کے مفاد میں ہے۔
نوٹ: اس رپورٹ میں ایرانی حکام کے بیانات اور مختلف ذرائع کی رپورٹنگ کو اسی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔ میزائل حملوں، بحری کارروائیوں اور ممکنہ اخراجی زون کے عملی نفاذ سے متعلق بعض دعوے متعلقہ فریقین کے مؤقف پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق مختلف ہو سکتی ہے۔





















