تہران:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ایران اور امریکا کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ میں ایک بار پھر خطرناک شدت آگئی ہے۔ امریکی افواج کی جانب سے 5 ایرانی تیل بردار ٹینکرز تباہ کیے جانے کے بعد ایران کے پاسداران انقلاب نے اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے اور آبنائے ہرمز میں 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اردن کے علاقے الازرق کے قریب امریکی فوج کے زیر استعمال اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ حملے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم اردن نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے 20 میں سے 18 میزائل راستے میں ہی تباہ کردیے، جبکہ باقی دو میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ایک امریکی عہدیدار نے بھی کہا کہ اردن میں ایرانی میزائل حملہ مؤثر ثابت نہیں ہوا اور تمام امریکی فوجی محفوظ ہیں۔
آبنائے ہرمز میں 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے اردن کے حملے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں بھی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں دو امریکی بحری جہاز اور 8 تیل بردار ٹینکر شامل تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ایک ایسے علاقے سے گزرنے کی کوشش کررہے تھے جسے تہران نے ’’ممنوع اور غیر محفوظ‘‘ قرار دیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں بحری جہازوں کو شدید نقصان پہنچا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایرانی کارروائی امریکا کی جانب سے 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کو تباہ کیے جانے کے ایک روز بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان حملوں کی ویڈیو بھی جاری کی اور کہا کہ ایرانی ٹینکرز کے خلاف کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دو روز کے دوران امریکی بحری جنگی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے دو مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں کی گئی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق ان واقعات میں کوئی امریکی شہری ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
روبیو کی سخت وارننگ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کی جانب سے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش جاری رکھتا ہے تو امریکا بھی ایرانی تیل بردار جہازوں کو تباہ کرتا رہے گا۔
روبیو نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران جتنی مرتبہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے یا نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا، اتنی ہی مرتبہ ایرانی ٹینکرز کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کا یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان جاری ’’جوابی کارروائی‘‘ کے خطرناک سلسلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 5 ایرانی تیل بردار جہازوں کے خلاف کارروائی اس لیے کی گئی کیونکہ امریکی حکام کا دعویٰ تھا کہ یہ جہاز ایسے نیٹ ورک کا حصہ تھے جو ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے مالی وسائل فراہم کرتا تھا۔
خلیج میں تجارتی جہاز بھی خطرے کی زد میں
ایرانی دھمکیوں کا دائرہ صرف امریکی فوجی اہداف تک محدود نہیں رہا۔ ایران نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں کے قریب موجود تیل بردار جہازوں کو بھی خبردار کیا ہے۔
بحری سلامتی سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خورفکان میں ایک مائع قدرتی گیس بردار جہاز کو نقصان پہنچا ہے، تاہم اس واقعے کے ذمہ دار کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔
ایسی صورتحال میں خلیج فارس میں موجود تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز پہلے ہی شدید کشیدگی کا مرکز بن چکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق منگل کے روز صرف 6 کموڈیٹی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ 10 دن کی تقریباً 12 جہازوں کی اوسط سے نمایاں طور پر کم ہے۔ بحری آمدورفت میں یہ کمی خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتی ہے۔
عالمی تیل منڈی پر براہِ راست اثر
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں میں شمار ہوتی ہے اور یہاں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ عالمی سپلائی کے لیے بڑے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
تازہ کشیدگی کے بعد بدھ کی ابتدائی تجارت میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔ رائٹرز کے مطابق برینٹ کی قیمت 99 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی تھی جبکہ مارکیٹ میں مزید اضافے کے خدشات موجود تھے۔
عالمی منڈیوں میں یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف تیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات مہنگائی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ
ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ محاذ آرائی اب صرف دونوں ممالک کے فوجی اہداف تک محدود نہیں رہی۔ اردن میں امریکی اڈے، خلیج میں بحری جہاز، ایرانی تیل بردار ٹینکرز اور آبنائے ہرمز کی تجارتی آمدورفت سب اس تنازع کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔
اسی دوران ایران کے اتحادی حوثیوں نے بھی سعودی عرب کے مختلف شہروں پر حملے کیے ہیں، جس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر تنازع کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں فوجی حملوں کے ساتھ اقتصادی دباؤ بھی جنگ کا اہم ہتھیار بن گیا ہے۔ امریکا ایرانی تیل کی برآمدات اور ٹینکرز کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ ایران آبنائے ہرمز اور خطے میں امریکی فوجی اہداف کو دباؤ میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔
اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی کارروائی کا جواب مزید بڑی کارروائی سے دے رہے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کسی ایک بحری یا میزائل حملے سے بھی بڑے علاقائی تصادم کا آغاز ہوسکتا ہے۔
عوامی رائے
خطے کے عوام کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ امریکا اور ایران کی جنگ مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں نہ لے۔ اردن، خلیجی ممالک اور یمن پہلے ہی اس کشیدگی کے اثرات محسوس کررہے ہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کے عوام کے لیے سب سے اہم مسئلہ توانائی کی قیمتیں ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہی تو اس کا براہِ راست اثر پٹرول، بجلی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں مسلسل بحری کشیدگی عالمی توانائی کے نظام کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ اگر تجارتی جہازوں کی آمدورفت مزید کم ہوتی ہے تو عالمی مارکیٹ میں سپلائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر بھی جاسکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف تیل کی قیمت کا نہیں بلکہ انشورنس، شپنگ اخراجات اور متبادل بحری راستوں کی لاگت میں اضافے کا بھی ہے۔ طویل جنگ کی صورت میں یہ عوامل عالمی مہنگائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
ایران اور امریکا کی موجودہ لڑائی نے ثابت کردیا ہے کہ جدید جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ تیل کے ٹینکر، تجارتی راستے، بندرگاہیں اور عالمی منڈیاں بھی جنگ کا حصہ بن سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی معیشت کے لیے خطرناک ہے، اس لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق کسی ایسے مقام تک نہ پہنچیں جہاں تجارتی جہازوں کی مکمل آمدورفت رک جائے۔ عالمی طاقتوں کو بھی جنگ کے دائرے کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔
پانچ ایرانی ٹینکرز کی تباہی کے بعد ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’جوابی کارروائی‘‘ کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ اب معاملہ صرف جنگی جہازوں تک محدود نہیں رہا بلکہ تیل بردار اور تجارتی جہاز بھی خطرے کی زد میں آرہے ہیں۔ اگر ایک تجارتی جہاز کو غلط فہمی یا شناخت کے مسئلے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔
برینٹ خام تیل کا 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنا اس بحران کے عالمی معاشی اثرات کی ابتدائی علامت ہے۔
میرے نزدیک اس وقت اصل خطرہ یہ نہیں کہ امریکا یا ایران اپنی طاقت دکھانے کی کوشش کررہے ہیں، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ طاقت کا مظاہرہ ایک ایسے حادثے کو جنم دے سکتا ہے جس کے بعد دونوں ممالک کے لیے پیچھے ہٹنا مشکل ہوجائے۔ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت برقرار رکھنا پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
نوٹ: اس رپورٹ میں ایرانی اور امریکی حکام کے دعووں کو متعلقہ فریقین سے منسوب کرکے بیان کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں 10 بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے سے متعلق ایرانی دعووں کی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، جبکہ اردن اور امریکا نے امریکی اڈے پر حملے کے مؤثر ہونے کے ایرانی دعوے کو مسترد کیا ہے۔





















