کوہ پیماؤں کا پیشاب بھی ایورسٹ گلیشیئر پگھلانے کا سبب بننے لگا، نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

موسم بہار کے کوہ پیمائی سیزن میں ایورسٹ بیس کیمپ ایک عارضی خیمہ بستی کی شکل اختیار کر لیتا ہے

خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ )دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیماؤں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے ماحولیاتی اثرات سے متعلق ایک نئی تحقیق نے( حیران کن انکشاف کیا ہے۔ تحقیق کے مطابق نیپال کی جانب قائم ایورسٹ بیس کیمپ میں استعمال ہونے والے ایندھن کے ساتھ ساتھ انسانی پیشاب سے پیدا ہونے والی حرارت بھی کھمبو گلیشیئر پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔ محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2023 کے موسم بہار کے کوہ پیمائی سیزن میں بیس کیمپ کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی مجموعی حرارت اتنی تھی جو تقریباً 2 ہزار 492 ٹن برف اور برفانی تودے پگھلانے کے برابر ہے۔

یہ تحقیق نیپال کی جانب ایورسٹ بیس کیمپ کے نیچے موجود کھمبو گلیشیئر پر انسانی سرگرمیوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کی گئی۔ تحقیق میں عالمی موسمیاتی تبدیلی کے علاوہ مقامی سطح پر فوسل فیول کے استعمال اور انسانی پیشاب سے پیدا ہونے والی حرارت کو بھی زیرِ غور لایا گیا۔ نتائج سائنسی جریدے Regional Environmental Change میں شائع ہوئے ہیں۔

موسم بہار کے کوہ پیمائی سیزن میں ایورسٹ بیس کیمپ ایک عارضی خیمہ بستی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جہاں ہزاروں کوہ پیما، گائیڈز، معاون عملہ اور دیگر افراد کئی ہفتوں تک قیام کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بیس کیمپ میں صرف بنیادی سہولیات ہی نہیں رہیں بلکہ کیفے، گرم شاورز، تیز رفتار انٹرنیٹ، بڑی اسکرین والے ٹی وی اور بعض خیموں میں فرش گرم رکھنے جیسی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

محققین نے 2023 کے تقریباً 50 روزہ موسم بہار کے سیزن کا جائزہ لیا۔ اس دوران تقریباً 1,600 خیموں کو چلانے کے لیے 824 ایل پی جی سلنڈر، 18,935 لیٹر مٹی کا تیل اور 5,130 لیٹر پیٹرول استعمال کیا گیا۔ یہ ایندھن کھانا پکانے، خیموں کو گرم رکھنے اور بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوا۔

تحقیق کے مطابق ایندھن کے استعمال اور انسانی پیشاب سے منتقل ہونے والی حرارت کو ملا کر مجموعی حرارتی توانائی تقریباً 849,174 میگا جولز بنتی ہے۔ محققین نے اس توانائی کو برف اور برفانی تودے پگھلنے کے مساوی مقدار میں تبدیل کیا تو اندازہ سامنے آیا کہ یہ تقریباً 2,492 ٹن برف پگھلانے کے برابر ہوسکتی ہے۔ تاہم تحقیق میں غیر یقینی کی حد بھی بتائی گئی ہے اور یہ مقدار تقریباً 1,964 سے 3,020 ٹن کے درمیان ہوسکتی ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مذکورہ 2,492 ٹن کا عدد گلیشیئر سے اتنی مقدار میں برف براہِ راست ناپے جانے کا نتیجہ نہیں بلکہ حرارتی توانائی کی بنیاد پر نکالا گیا مساوی پگھلاؤ کا تخمینہ ہے۔

پیشاب سے روزانہ 6 ہزار لیٹر سے زائد فضلہ

تحقیق کا سب سے غیر معمولی پہلو انسانی پیشاب سے متعلق ہے۔ انتہائی بلند مقام پر جسم کو پانی کی کمی سے بچانے کے لیے کوہ پیما اور گائیڈز بڑی مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ایورسٹ بیس کیمپ میں روزانہ تقریباً 6 ہزار لیٹر سے زائد پیشاب پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق ٹھوس انسانی فضلے کو جمع کرکے پہاڑ سے نیچے منتقل کیا جاتا ہے، تاہم پیشاب کا بڑا حصہ براہِ راست گلیشیئر پر خارج کیا جاتا ہے۔ محققین نے اندازہ لگایا کہ صرف انسانی پیشاب سے منتقل ہونے والی حرارت ایک 50 روزہ کوہ پیمائی سیزن کے دوران تقریباً 154 ٹن برف پگھلانے کے برابر ہوسکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیشاب ایورسٹ گلیشیئر کے پگھلنے کی بنیادی وجہ بن گیا ہے، بلکہ تحقیق نے اسے وہاں موجود انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی اضافی حرارت کے ایک مقامی ذریعے کے طور پر شناخت کیا ہے۔

بیس کیمپ کا درجہ حرارت بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے

تحقیق میں بیس کیمپ کے گرد درجہ حرارت میں طویل مدتی تبدیلی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ محققین نے 1991 سے 2023 تک لینڈ سیٹ سیٹلائٹ تصاویر کا تجزیہ کیا اور پایا کہ ایورسٹ بیس کیمپ کے علاقے میں سطحی درجہ حرارت اوسطاً 0.28 ڈگری سینٹی گریڈ سالانہ بڑھا، جو قریبی کھمبو گلیشیئر کے مقابلے میں تقریباً دو گنا شرح ہے۔

محققین کے مطابق انسانی سرگرمیوں کا حقیقی اثر اس حساب سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے کیونکہ موجودہ اندازوں میں ہیلی کاپٹروں کی پروازوں، کوہ پیماؤں کے جسموں سے خارج ہونے والی حرارت اور سامان منتقل کرنے والے یاکس سے پیدا ہونے والی حرارت کو شامل نہیں کیا گیا۔

موسمیاتی تبدیلی اب بھی بنیادی وجہ

تحقیق کے مصنفین نے واضح کیا ہے کہ ایورسٹ اور ہمالیہ کے گلیشیئرز کے پگھلنے کی بنیادی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔ انسانی سرگرمیاں اس بڑے مسئلے کے مقابلے میں ایک اضافی مقامی دباؤ پیدا کر رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ ہزاروں لوگ ہر سال ایک گلیشیئر پر جمع ہوتے ہیں، بلکہ وہاں انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایندھن جلایا جاتا ہے، حرارت پیدا کی جاتی ہے اور بڑی مقدار میں انسانی فضلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ایک ایسے گلیشیئر پر مستقل طور پر بڑے پیمانے پر انسانی اجتماع، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے باعث تیزی سے متاثر ہو رہا ہے، طویل مدت میں پائیدار نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایورسٹ بیس کیمپ منتقل کرنے کی تجویز

تحقیق میں طویل مدت کے لیے ایورسٹ بیس کیمپ کو موجودہ برفانی مقام سے ہٹا کر کسی زیادہ مستحکم اور برف سے محفوظ علاقے میں منتقل کرنے پر غور کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ محققین کا مؤقف ہے کہ اگر کوہ پیماؤں کی تعداد اور بیس کیمپ کی سرگرمیاں اسی انداز میں بڑھتی رہیں تو مقامی ماحولیاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

ایورسٹ پر ہونے والی یہ تحقیق اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی صرف بڑے صنعتی منصوبوں یا شہروں کی آلودگی تک محدود مسئلہ نہیں۔ دنیا کے انتہائی بلند اور بظاہر دور دراز علاقوں میں بھی انسانی سرگرمیاں ماحول پر اثر ڈال رہی ہیں۔ تاہم اس معاملے میں یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ گلیشیئر پگھلنے کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے جبکہ کوہ پیمائی سرگرمیاں مقامی سطح پر اضافی حرارت اور ماحولیاتی دباؤ پیدا کر رہی ہیں۔

عوامی رائے

عوام کے لیے اس تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو یقیناً انسانی پیشاب کا گلیشیئر پگھلنے میں ممکنہ کردار ہے۔ تاہم اصل پیغام صرف حیرت یا دلچسپی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ دنیا کے حساس ماحولیاتی علاقوں میں سیاحت اور انسانی سرگرمیوں کو کس طرح زیادہ ذمہ دارانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق ایورسٹ جیسے حساس علاقے میں انسانی سرگرمیوں کو منظم کرنا ضروری ہے۔ ایندھن کے استعمال میں کمی، فضلے کی بہتر منتقلی، گلیشیئر پر براہِ راست انسانی فضلے کے اخراج کی روک تھام اور بیس کیمپ کے لیے زیادہ محفوظ مقام کا انتخاب ایسے اقدامات ہیں جو مقامی ماحولیاتی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

دنیا کی بلند ترین چوٹی صرف کوہ پیماؤں کی منزل نہیں بلکہ ایک انتہائی حساس قدرتی نظام کا حصہ بھی ہے۔ اگر انسانی سہولتوں اور سیاحت کے نام پر ایسے مقامات پر مسلسل دباؤ بڑھتا رہا تو آنے والی نسلوں کے لیے ان قدرتی ذخائر کو محفوظ رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ ایورسٹ کی مثال دنیا کے دیگر حساس سیاحتی مقامات کے لیے بھی ایک اہم سبق ہے۔

یہ تحقیق ہمیں ایک اہم بات سمجھاتی ہے کہ ماحول پر اثر صرف کسی ایک بڑے عمل سے نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹی انسانی سرگرمیوں کے مجموعے سے بھی پڑ سکتا ہے۔ ایورسٹ پر موسمیاتی تبدیلی اصل خطرہ ہے، مگر اگر وہاں انسانی سرگرمیوں سے اضافی حرارت اور فضلہ بھی مسلسل بڑھتا رہے تو مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔ اس لیے کوہ پیمائی اور سیاحت کے ساتھ ماحول کے تحفظ کو بھی برابر اہمیت دینا وقت کی ضرورت ہے۔

نوٹ: یہ رپورٹ دستیاب تحقیقی نتائج اور متعلقہ رپورٹس کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ تحقیق میں بیان کردہ 2,492 ٹن برف پگھلنے کی مقدار حرارتی توانائی کی بنیاد پر نکالا گیا تخمینہ ہے، اسے براہِ راست مشاہدہ شدہ برف کے نقصان کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین