لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ): معروف سماجی کارکن چوہدری عمران کاہلوں نے کہا ہے کہ معاشرے میں باہمی اختلافات اور تنازعات کے خاتمے کے لیے صلح اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا نہایت اہم اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ دو فریقین کے درمیان صلح کروانا صرف ایک سماجی خدمت ہی نہیں بلکہ اس کے ذریعے معاشرے میں امن، برداشت، بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔
چوہدری عمران کاہلوں نے یہ بات دو فریقین کے درمیان صلح کروانے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اختلافات اور غلط فہمیاں پیدا ہونا انسانی معاشرے کا ایک فطری حصہ ہے، تاہم سمجھدار اور درد مند افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو بڑھنے دینے کے بجائے انہیں بروقت ختم کرنے کی کوشش کریں۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بعض اوقات معمولی نوعیت کے اختلافات بروقت حل نہ ہونے کی وجہ سے بڑے تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ فریقین کے درمیان گفت و شنید، افہام و تفہیم، برداشت اور مثبت رویے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ ان کے بقول آگ بھڑکنے کے بعد اسے بجھانے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ ابتدا ہی میں ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے تنازع شدت اختیار نہ کرے۔
چوہدری عمران کاہلوں نے کہا کہ صلح کروانا یقیناً ایک بہترین اور قابلِ قدر عمل ہے۔ کسی بھی معاشرے میں امن صرف قوانین کے ذریعے قائم نہیں رہتا بلکہ اس کے لیے لوگوں کے درمیان اعتماد، برداشت، احترام اور ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھنے کا جذبہ بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر اختلاف رکھنے والے فریقین کو بات چیت کی میز پر لایا جائے تو کئی ایسے مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں جو بظاہر بہت پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاف کرنا، درگزر کرنا اور صلح کے لیے پہل کرنا معاشرے کی مثبت اقدار کا حصہ ہے۔ ہمیں ذاتی اختلافات، رنجشوں اور غلط فہمیوں کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینا چاہیے۔ ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے مسائل کو حل کرنے کی سوچ معاشرے کو زیادہ مضبوط اور پُرامن بناتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگ اپنے معمولی اختلافات کو بروقت ختم کرنے کی کوشش کریں تو نہ صرف خاندانوں اور افراد کے درمیان تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں بلکہ معاشرے میں مجموعی طور پر امن و سکون کی فضا بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں ثالثی کرنے والے افراد کو بھی غیر جانب داری، تحمل اور سمجھداری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کسی فریق کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔
اس موقع پر دونوں فریقین نے باہمی رضامندی سے اپنے اختلافات ختم کرتے ہوئے آئندہ خوشگوار تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ دونوں جانب سے صلح اور مفاہمت کے عمل کو قبول کرتے ہوئے معاملات کو خوش اسلوبی سے ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
شرکاء نے چوہدری عمران کاہلوں کی جانب سے فریقین کے درمیان صلح کروانے کی کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں امن، بھائی چارے اور رواداری کے قیام کے لیے ایسے مثبت اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معاشرے کے صاحبِ شعور اور درد مند افراد اپنے اردگرد موجود تنازعات کو ختم کروانے میں اپنا کردار ادا کریں تو کئی بڑے مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی ختم کیے جا سکتے ہیں۔
معاشرے میں اختلافات کا پیدا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ان اختلافات کو کس انداز میں حل کیا جاتا ہے۔ صلح اور مفاہمت کا عمل فریقین کو ایک دوسرے کی بات سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور اکثر ایسے مسائل ختم ہو جاتے ہیں جو ضد، انا اور غلط فہمی کی وجہ سے طویل عرصے تک برقرار رہتے ہیں۔ اس لیے معاشرتی سطح پر صلح کروانے والے افراد کا کردار قابلِ قدر ہے۔
عوامی رائے
عوامی سطح پر بھی عموماً ایسے اقدامات کو مثبت نظر سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ تنازعات کے خاتمے سے نہ صرف دو افراد یا خاندانوں کو سکون ملتا ہے بلکہ ان کے اردگرد موجود لوگوں پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ صلح کا راستہ اختیار کرنے سے دشمنی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے اور تعلقات کو دوبارہ بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔
ماہرین کی رائے
سماجی ماہرین کے مطابق تنازعات کو طول دینے کے بجائے ابتدائی مرحلے میں بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے حل کرنا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ برداشت، مکالمہ اور ایک دوسرے کے مؤقف کو سننے کا رویہ معاشرتی کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
معاشرے میں امن قائم رکھنے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روکنا اور فریقین کو صلح کے لیے آمادہ کرنا ایک مثبت معاشرتی رویہ ہے۔ ایسے اقدامات معاشرے میں نفرت کے بجائے محبت، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔
صلح ہمیشہ کمزوری نہیں بلکہ بڑے دل اور بلند ظرفی کی علامت ہوتی ہے۔ اگر کسی تنازع کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے بات چیت اور درگزر سے ختم کر دیا جائے تو اس کا فائدہ صرف دونوں فریقین کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔ ہمیں اختلافات بڑھانے والوں کے بجائے اختلافات ختم کروانے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔





















