لندن:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) چائے اور کافی دنیا بھر میں پسند کیے جانے والے مشروبات ہیں، تاہم ایک نئی بڑی تحقیق نے انہیں پینے کے درجہ حرارت کے حوالے سے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک وسیع تحقیق کے مطابق بہت زیادہ گرم چائے، کافی یا دیگر گرم مشروبات پینے کی عادت غذائی نالی کے ایک مخصوص قسم کے کینسر کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک پائی گئی ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے برطانیہ کے تقریباً 9 لاکھ 77 ہزار درمیانی عمر کے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں یو کے بائیوبینک اور ملین ویمن اسٹڈی سمیت دو بڑے مطالعات کے اعداد و شمار شامل کیے گئے اور شرکاء کا ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک فالو اَپ کیا گیا۔ مجموعی طور پر تحقیق کے دوران غذائی نالی کے کینسر کے 2,348 کیسز سامنے آئے۔
محققین نے شرکاء سے ان کے گرم مشروبات پینے کے معمول کے درجہ حرارت کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور انہیں مختلف گروپوں میں تقسیم کیا۔ ان افراد کا موازنہ کیا گیا جو اپنی چائے یا کافی کو ’’گرم‘‘ یا ’’بہت گرم‘‘ پینا پسند کرتے تھے، ان لوگوں سے کیا گیا جو مشروبات کو نسبتاً ’’نیم گرم‘‘ یا کم درجہ حرارت پر پینا پسند کرتے تھے۔
تحقیق میں سب سے اہم تعلق غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کے ساتھ سامنے آیا۔ جو افراد اپنے مشروبات کو ’’بہت گرم‘‘ پینا پسند کرتے تھے، ان میں اس مخصوص قسم کے کینسر کا خطرہ ’’گرم‘‘ یا نسبتاً کم درجہ حرارت والے مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ پایا گیا۔ تاہم غذائی نالی کے دوسرے بڑے کینسر، یعنی ایڈینوکارسینوما، کے خطرے میں اسی طرح کا تعلق نہیں ملا۔
65 ڈگری سینٹی گریڈ اہم حد کیوں ہے؟
تحقیق میں ’’بہت گرم‘‘ مشروبات کے لیے تقریباً 65 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت کو اہم حد کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ وہی درجہ حرارت ہے جسے بین الاقوامی ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر، یعنی IARC، نے بہت گرم مشروبات کے حوالے سے اپنی درجہ بندی میں استعمال کیا ہے۔
IARC نے 65 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر بہت گرم مشروبات پینے کو انسانوں میں ممکنہ سرطان پیدا کرنے والے عوامل میں ’’probably carcinogenic‘‘ یعنی ممکنہ طور پر سرطان کا سبب بننے والا قرار دیا ہے۔ اس درجہ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص جو گرم چائے یا کافی پیتا ہے اسے کینسر لازماً ہوگا، بلکہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بہت زیادہ درجہ حرارت پر مشروبات کا مسلسل استعمال خطرے سے منسلک ہوسکتا ہے۔
اصل مسئلہ چائے یا کافی نہیں، درجہ حرارت بھی ہوسکتا ہے
محققین کی توجہ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خطرہ صرف چائے یا کافی کے استعمال سے متعلق نہیں بلکہ مشروب کے درجہ حرارت سے بھی وابستہ دکھائی دیتا ہے۔ تحقیق میں مختلف گرم مشروبات کے حوالے سے دیکھا گیا کہ جب انہیں انتہائی گرم حالت میں پیا جاتا ہے تو غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بہت گرم مائع بار بار غذائی نالی کی اندرونی تہہ کو حرارتی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر ایسا عمل طویل عرصے تک جاری رہے تو خلیوں کو بار بار نقصان پہنچنے سے بیماری کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ ایک ممکنہ حیاتیاتی وضاحت ہے اور موجودہ تحقیق اس میکانزم کو قطعی طور پر ثابت نہیں کرتی۔
کتنی دیر بعد چائے پینی چاہیے؟
تحقیق کا ایک سادہ عملی پیغام یہ ہے کہ چائے یا کافی کو کپ میں ڈالنے کے فوراً بعد پینے کے بجائے اسے کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دیا جائے۔ خاص طور پر اگر مشروب اتنا گرم ہو کہ منہ یا زبان کو جلا سکتا ہو تو اسے فوراً پینے سے گریز کرنا زیادہ محتاط طرز عمل ہوسکتا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ عام طور پر چائے اور کافی کا درجہ حرارت مختلف افراد کے پینے کے طریقے، تیاری اور پسند کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ہر گرم چائے یا کافی کو 65 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
کینسر کا خطرہ مجموعی طور پر کم رہتا ہے
تحقیق کے نتائج کو سمجھتے ہوئے یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ ’’خطرہ تین گنا‘‘ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تین میں سے ایک شخص کو کینسر ہوجائے گا۔ اس تحقیق میں غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کا مجموعی خطرہ نسبتاً کم ہے، تاہم بہت گرم مشروبات پینے والوں میں نسبتاً خطرہ زیادہ پایا گیا۔
اسی طرح یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، یعنی محققین نے لوگوں کی عادات اور ان کے بعد سامنے آنے والے طبی نتائج کا جائزہ لیا۔ اس لیے اس سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں ہوتا کہ صرف بہت گرم چائے یا کافی ہی کینسر کا براہِ راست سبب بنتی ہے۔
پہلے کی تحقیقات بھی گرم مشروبات سے متعلق خطرے کی نشاندہی کرچکی ہیں
بہت گرم مشروبات اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق پر اس سے پہلے بھی مختلف ممالک میں تحقیقات ہوچکی ہیں۔ ایک بڑی سابقہ تحقیق میں چائے کا درجہ حرارت براہِ راست ناپ کر بھی اس تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا اور 60 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر چائے پینے کو غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کے زیادہ خطرے سے منسلک پایا گیا تھا۔
اس لیے نئی برطانوی تحقیق کو اس موضوع پر پہلے سے موجود شواہد میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جا رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ اس میں مغربی آبادی کے بہت بڑے گروپ کا ڈیٹا شامل کیا گیا ہے۔
چائے اور کافی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں، اس لیے اس تحقیق کو خوف پھیلانے کے بجائے احتیاط کے پیغام کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اصل مسئلہ چائے چھوڑنا نہیں بلکہ اسے انتہائی گرم حالت میں پینے سے گریز کرنا ہے۔ اگر چند منٹ انتظار کرنے سے مشروب کا درجہ حرارت کم ہوجاتا ہے تو یہ ایک آسان اور معمولی احتیاط ہے جسے روزمرہ زندگی میں اپنایا جاسکتا ہے۔
عوامی رائے
چائے کے شوقین افراد کے لیے یہ تحقیق یقیناً توجہ طلب ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو کپ میں چائے ڈالتے ہی اسے پینا شروع کردیتے ہیں۔ عوامی سطح پر بہتر یہی ہے کہ گرم مشروب کو کچھ دیر ٹھنڈا ہونے دیا جائے اور اگر وہ منہ یا زبان کو جلا رہا ہو تو اسے فوراً نہ پیا جائے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق موجودہ شواہد بہت گرم مشروبات اور غذائی نالی کے اسکویمس سیل کارسینوما کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اسے براہِ راست سبب قرار دینے میں احتیاط ضروری ہے۔ صحت کے لیے دیگر معروف خطرات، خصوصاً تمباکو نوشی اور الکحل کے استعمال سے اجتناب، بھی غذائی نالی کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے کے اہم طریقے ہیں۔
صحت کے حوالے سے معمولی سی احتیاط بھی مستقبل میں بڑے فائدے کا باعث بن سکتی ہے۔ چائے یا کافی کو کچھ دیر ٹھنڈا کرکے پینا نہ مشکل ہے اور نہ اس کے لیے کسی اضافی خرچ کی ضرورت ہے۔ اس لیے اگر بہت زیادہ گرم مشروبات سے ممکنہ خطرہ موجود ہے تو احتیاطی طور پر درجہ حرارت کم کرکے پینا ایک مناسب عادت ہوسکتی ہے۔
چائے چھوڑنے کی ضرورت نہیں، انتہائی گرم چائے چھوڑنے کی ضرورت ہے۔ اگر کپ سے بھاپ اٹھ رہی ہو اور ایک گھونٹ لیتے ہی منہ جلنے کا خدشہ ہو تو چند منٹ انتظار کرنا بہتر ہے۔ نئی تحقیق کا اصل پیغام یہی ہے کہ مشروب کی قسم کے ساتھ اس کا درجہ حرارت بھی صحت کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔ البتہ اس تحقیق کو یہ سمجھنا درست نہیں کہ گرم چائے لازماً کینسر کا سبب بنتی ہے؛ یہ ایک خطرے سے متعلق مشاہداتی تعلق ہے۔
نوٹ: یہ رپورٹ دستیاب سائنسی تحقیق اور ماہرین کے بیانات کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ بہت گرم مشروبات اور کینسر کے درمیان تعلق کو تحقیق نے ثابت شدہ واحد وجہ کے طور پر پیش نہیں کیا، بلکہ خطرے میں اضافے سے وابستگی ظاہر کی ہے۔





















