ٹورین:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) اٹلی کے شہر ٹورین کے کاسیلی ایئرپورٹ پر حکام اس وقت حیران رہ گئے جب ایک مسافر کے سامان کی تلاشی کے دوران مگرمچھ کا سوکھا ہوا سر برآمد ہوا۔ عجیب و غریب واقعے کے بعد متعلقہ حکام نے نہ صرف مگرمچھ کے سر کو قبضے میں لے لیا بلکہ مسافر کے خلاف محفوظ جنگلی حیات کی غیر قانونی درآمد کے الزام میں قانونی کارروائی بھی شروع کردی ہے۔
اطالوی حکام کے مطابق مسافر میامی سے استنبول کے راستے ٹورین کے کاسیلی ایئرپورٹ پہنچا تھا۔ معمول کی جانچ اور کسٹمز کارروائی کے دوران اس کے سامان کا معائنہ کیا گیا تو بیگ کے اندر سے ایک خشک کیا ہوا مگرمچھ کا سر برآمد ہوا۔ یہ سر عام پیکنگ پیپر میں لپیٹا گیا تھا اور سامان کے اندر اس انداز سے رکھا گیا تھا کہ اسے دورانِ سفر اور ابتدائی جانچ کے دوران چھپایا جاسکے۔
اطالوی مالیاتی پولیس اور کسٹمز حکام کے مطابق مگرمچھ کا سر Crocodylia spp. سے تعلق رکھتا ہے اور یہ ان جنگلی حیات کی اقسام میں شامل ہے جن کی بین الاقوامی تجارت پر واشنگٹن کنونشن یا CITES کے تحت پابندیاں اور مخصوص شرائط عائد ہیں۔ حکام نے بتایا کہ مسافر کے پاس اس جانور کے نمونے کو قانونی طور پر درآمد کرنے کے لیے ضروری سرٹیفکیٹ یا لائسنس موجود نہیں تھا، جس کے باعث اسے ضبط کرلیا گیا۔
مگرمچھ کا سر کاغذ میں لپیٹ کر سامان میں چھپایا گیا
حکام کے مطابق خشک کیا گیا مگرمچھ کا سر عام براؤن یا پیکنگ پیپر میں لپٹا ہوا تھا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس انداز میں پیک کیے جانے سے بظاہر مقصد اسے سفر کے دوران چھپانا اور روانگی کے مقام پر سکیورٹی یا کسٹمز کی نظروں سے بچانا تھا۔
تاہم اٹلی پہنچنے کے بعد کسٹمز اور مالیاتی پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والی تلاشی میں یہ غیر معمولی چیز سامنے آگئی۔ حکام نے فوری طور پر مگرمچھ کے سر کو قبضے میں لے لیا اور مسافر کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی۔
اطالوی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اٹلی میں محفوظ اور نایاب جانوروں کی غیر قانونی تجارت روکنے کے لیے ایئرپورٹس پر نگرانی سخت کی گئی ہے۔ خاص طور پر ایسے مسافروں کے سامان کی جانچ پر توجہ دی جا رہی ہے جو جنگلی حیات اور غیر ملکی جانوروں کی تجارت کے حوالے سے زیادہ خطرے والے علاقوں سے سفر کرتے ہیں۔
CITES کے تحت محفوظ جانوروں کی تجارت پر پابندیاں
مگرمچھ اور متعدد دیگر جنگلی جانوروں کی بین الاقوامی تجارت کو واشنگٹن کنونشن یعنی CITES کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔ اس بین الاقوامی معاہدے کا مقصد ایسے جانوروں اور پودوں کو غیر قانونی تجارت سے تحفظ فراہم کرنا ہے جن کی بقا کو انسانی سرگرمیوں سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
کسی محفوظ نسل کے جانور یا اس کے جسمانی حصے کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے لیے مخصوص اجازت ناموں، سرٹیفکیٹس اور دیگر قانونی تقاضوں کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ مذکورہ واقعے میں حکام کے مطابق مسافر یہ مطلوبہ دستاویزات پیش نہیں کرسکا، جس کے بعد کارروائی کی گئی۔
مسافر کو کتنی سزا ہوسکتی ہے؟
اطالوی ذرائع کے مطابق مسافر کو فی الحال حراست میں لینے کے بجائے آزاد چھوڑتے ہوئے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ محفوظ نسل کے جانور کا نمونہ مطلوبہ سرٹیفکیٹ یا لائسنس کے بغیر درآمد کرنے کے الزام میں اسے 20 ہزار سے 2 لاکھ یورو تک جرمانے یا 6 ماہ سے ایک سال تک قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم حتمی سزا کا انحصار قانونی کارروائی اور عدالت کے فیصلے پر ہوگا۔
حکام اب اس بات کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ مگرمچھ کا سر کہاں سے حاصل کیا گیا، اسے کس مقصد کے لیے اٹلی لایا جا رہا تھا اور آیا یہ محض ایک غیر قانونی سووینئر تھا یا اس کے پیچھے جنگلی حیات کی تجارت سے متعلق کوئی بڑا نیٹ ورک موجود ہے۔
سیاح اکثر غیر معمولی چیزوں کو سووینئر سمجھ کر خرید لیتے ہیں
جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق اداروں کے مطابق بعض مسافر بیرون ملک سفر کے دوران جانوروں کے جسمانی حصے، کھالیں، دانت، خول یا دیگر اشیا بطور یادگار خرید لیتے ہیں اور انہیں اپنے سامان میں رکھ کر واپس لے آتے ہیں۔ بعض افراد کو یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ ایسی اشیا کو سرحد پار لے جانے کے لیے مخصوص اجازت نامہ درکار ہوسکتا ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ لاعلمی کسی محفوظ نسل کے جانور یا اس کے جسمانی حصے کو غیر قانونی طور پر درآمد کرنے کے معاملے میں قانونی ذمہ داری سے مکمل طور پر بری نہیں کرتی۔ اسی لیے مسافروں کو بیرون ملک سے جنگلی حیات سے متعلق کوئی چیز خریدنے سے پہلے اس کے قانونی تقاضوں کی تصدیق کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
اٹلی میں جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت پر کریک ڈاؤن
اطالوی حکام کی جانب سے جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔ اٹلی کو یورپ میں غیر ملکی اور محفوظ جانوروں کی غیر قانونی تجارت کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس تجارت میں بعض اوقات منظم جرائم پیشہ گروہ ملوث ہوتے ہیں، تاہم کچھ معاملات میں عام سیاح بھی غیر قانونی جنگلی حیات کی اشیا خرید کر انجانے میں انہیں اپنے ملک منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ٹورین ایئرپورٹ پر سامنے آنے والا واقعہ اسی وسیع تر مسئلے کی ایک غیر معمولی مثال ہے، جہاں ایک مسافر اپنے سامان میں عام سووینئر کے بجائے محفوظ جنگلی حیات کے ایک جانور کا خشک سر لے کر سفر کر رہا تھا۔
یہ واقعہ بظاہر عجیب ضرور ہے لیکن اس کے پیچھے جنگلی حیات کے تحفظ کا ایک سنجیدہ مسئلہ موجود ہے۔ دنیا بھر میں نایاب جانوروں کے جسمانی حصوں کو غیر قانونی طور پر سووینئر، سجاوٹ یا دیگر مقاصد کے لیے خریدا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر ایسے جانوروں کی تجارت کو قوانین کے ذریعے محدود کیا گیا ہے۔
عوامی رائے
مسافر کے سامان سے مگرمچھ کا خشک سر ملنے کی خبر نے یقیناً لوگوں کو حیران کیا ہے۔ عام طور پر لوگ ایئرپورٹ پر منشیات، ممنوعہ اشیا یا غیر قانونی سامان پکڑے جانے کی خبریں سنتے ہیں، لیکن جانور کا خشک سر سامان سے برآمد ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ عوامی سطح پر ایسے واقعات جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین سے آگاہی کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق کسی بھی جانور کے جسمانی حصے کو بیرون ملک سے خرید کر لانے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت اور مطلوبہ دستاویزات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ CITES کے تحت محفوظ انواع سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی نہ صرف قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے بلکہ غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی تجارت کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔
جنگلی حیات صرف قدرتی ماحول کا حصہ نہیں بلکہ عالمی ماحولیاتی نظام کا اہم جزو ہے۔ نایاب جانوروں کو محض سووینئر یا سجاوٹی اشیا سمجھ کر خریدنا ان کی غیر قانونی تجارت کو تقویت دے سکتا ہے۔ ایئرپورٹس پر ایسی کارروائیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے قوانین کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
مسافر کے بیگ سے مگرمچھ کا خشک سر ملنا یقیناً حیران کن واقعہ ہے، لیکن اصل سبق یہ ہے کہ بیرون ملک سے کوئی بھی جانور، اس کا جسمانی حصہ یا جنگلی حیات سے بنی چیز خریدنے سے پہلے اس کے قانونی تقاضے ضرور معلوم کیے جائیں۔ ایک لمحے کا شوق یا سووینئر بعد میں بھاری جرمانے یا قانونی کارروائی کا سبب بن سکتا ہے۔
نوٹ: یہ رپورٹ دستیاب اطالوی حکام اور معتبر میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر عوامی آگاہی کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ مسافر کے خلاف کارروائی جاری ہے، اس لیے حتمی قانونی ذمہ داری یا جرم کا فیصلہ عدالت کرے گی۔





















