اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کی خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکچوئل عہدوں سے متعلق پالیسی میں اہم ترمیم کردی ہے، جس کے تحت اب کنٹریکچوئل پوزیشنز کو بھی خصوصی پے اسکیلز سے متعلق موجودہ پالیسی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ نے اس سلسلے میں آفس میمورنڈم جاری کردیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی 7 ستمبر 2026 کو خصوصی پے اسکیلز میں سول سرونٹس کی تقرری سے متعلق یہ پیش رفت درج کی گئی ہے۔
نئی ترمیم کے بعد مینجمنٹ پوزیشن پے اسکیلز (MPS)، پروجیکٹ پے اسکیلز (PPS) اور اسپیشل پروفیشنل پے اسکیلز (SPPS) کے ساتھ ساتھ کنٹریکچوئل عہدے بھی اس پالیسی کے دائرہ کار میں شامل ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد خصوصی نوعیت کے ان عہدوں پر سرکاری افسران کی تعیناتی کے طریقہ کار کو مزید واضح کرنا اور انہیں موجودہ پالیسی فریم ورک میں شامل کرنا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ پالیسی کے مطابق اوپن مسابقتی عمل کے ذریعے ان عہدوں کے لیے منتخب ہونے والے وفاقی سول سرونٹس کو متعلقہ عہدہ سنبھالنے کی اجازت دی جاسکے گی۔ ایسے سرکاری افسران کو ان عہدوں پر تعیناتی کے دوران ڈیپوٹیشن پر تصور کیا جائے گا۔ اس طرح افسران کو اپنی بنیادی سرکاری حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مخصوص اداروں یا عہدوں پر خدمات انجام دینے کا موقع مل سکے گا۔
نئی پالیسی میں سرکاری ملکیت رکھنے والے اداروں کو بھی واضح طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس کے تحت ایسے ادارے جن میں حکومت کی اکثریتی ملکیت اور انتظامی اختیارات موجود ہوں، پالیسی کے دائرے میں آئیں گے۔ اس تعریف میں سرکاری ملکیت کے حامل اداروں کے ساتھ وہ ادارے بھی شامل ہوں گے جہاں حکومت کے پاس اکثریتی حصص اور انتظامی کنٹرول موجود ہو۔
پالیسی میں حکومت کی تعریف کو بھی واضح کیا گیا ہے، جس کے مطابق وفاقی حکومت کے ساتھ صوبائی حکومتیں بھی اس دائرہ کار میں شامل ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ شرائط و ضوابط کے تحت وفاقی سول سرونٹس خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکچوئل عہدوں پر وفاقی یا صوبائی حکومتوں کے ماتحت اداروں میں خدمات انجام دے سکیں گے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق نئی شرائط بنیادی طور پر وفاقی حکومت کے سول سرونٹس پر لاگو ہوں گی۔ ایسے افسران جو اوپن مسابقتی عمل کے ذریعے خصوصی پے اسکیل یا کنٹریکچوئل عہدے کے لیے منتخب ہوں گے، ان کی تعیناتی ڈیپوٹیشن پالیسی کے تحت کی جائے گی اور ان پر ڈیپوٹیشن سے متعلق شرائط و ضوابط بھی لاگو ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے پالیسی میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرکاری اداروں، خودمختار اداروں اور سرکاری ملکیتی کمپنیوں میں خصوصی نوعیت کے عہدوں کے لیے تجربہ کار اور پیشہ ور افسران کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ نئی پالیسی کے ذریعے ایسے افسران کو اوپن اور مسابقتی طریقہ کار کے تحت ان عہدوں تک رسائی دینے کا راستہ مزید واضح کیا گیا ہے۔
اس پیش رفت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ خصوصی پے اسکیلز کے ساتھ اب کنٹریکچوئل پوزیشنز کو بھی ایک ہی پالیسی فریم ورک میں لایا گیا ہے۔ اس سے سرکاری افسران کے لیے ایسے عہدوں پر تعیناتی کے حوالے سے موجود انتظامی طریقہ کار میں یکسانیت پیدا ہونے کی توقع ہے۔
وزارتِ خزانہ کی سرکاری دستاویزات میں حالیہ دنوں کے دوران سول سرونٹس کے پے اسکیلز اور الاؤنسز سے متعلق متعدد فیصلے بھی درج کیے گئے ہیں، جن میں 21 جولائی 2026 کو سول سرونٹس کے بنیادی پے اسکیلز اور الاؤنسز میں نظرثانی بھی شامل ہے۔
خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکچوئل عہدوں کو ایک ہی پالیسی کے دائرے میں لانے کا بنیادی فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ سرکاری افسران کے لیے ایسے عہدوں پر تعیناتی کا طریقہ کار زیادہ واضح اور منظم ہوجائے۔ تاہم اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ اوپن مسابقتی عمل کو کس حد تک شفاف رکھا جاتا ہے اور میرٹ کی بنیاد پر افسران کا انتخاب کس انداز میں کیا جاتا ہے۔ اگر مسابقتی طریقہ کار حقیقی معنوں میں شفاف رہا تو یہ فیصلہ سرکاری اداروں میں تجربہ کار افسران کی تعیناتی کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
عوامی رائے
سرکاری ملازمین کے حلقوں میں اس پالیسی کو ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، بالخصوص ان افسران کے لیے جو اپنی سرکاری ملازمت برقرار رکھتے ہوئے خصوصی نوعیت کے عہدوں پر کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم ملازمین کی جانب سے یہ توقع بھی کی جائے گی کہ نئی پالیسی پر عمل درآمد میں کسی قسم کی پسند و ناپسند کے بجائے میرٹ اور شفافیت کو بنیادی اصول بنایا جائے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکچوئل عہدوں پر تعیناتی کے لیے واضح قواعد ادارہ جاتی نظم و نسق کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری افسران کو ڈیپوٹیشن کے تحت ایسے عہدوں پر کام کرنے کا موقع ملنے سے سرکاری تجربے کو مختلف اداروں میں استعمال کیا جاسکے گا، تاہم پالیسی کے عملی نتائج کا انحصار اس کے شفاف اور یکساں نفاذ پر ہوگا۔
روزنامہ تحریک کے نزدیک حکومت کی جانب سے پالیسی میں ترمیم ایک انتظامی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کے مثبت نتائج اسی صورت میں سامنے آسکتے ہیں جب خصوصی پے اسکیلز اور کنٹریکچوئل عہدوں پر تقرری کے لیے میرٹ، شفاف مسابقت اور واضح معیار کو یقینی بنایا جائے۔ سرکاری عہدوں پر تقرری کے عمل میں شفافیت ہی اس فیصلے کی کامیابی کی اصل بنیاد بن سکتی ہے۔
میرے نزدیک اس فیصلے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کنٹریکچوئل پوزیشنز کو خصوصی پے اسکیلز کی پالیسی میں باقاعدہ شامل کردیا گیا ہے۔ اگر اوپن مسابقتی عمل واقعی غیرجانبدار اور میرٹ پر مبنی رکھا گیا تو اس سے قابل اور تجربہ کار سول سرونٹس کو اپنی صلاحیتیں مختلف سرکاری اداروں میں استعمال کرنے کے بہتر مواقع مل سکتے ہیں۔ تاہم حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس پالیسی کا فائدہ صرف مخصوص افسران تک محدود نہ رہے بلکہ اہل امیدواروں کے لیے یکساں مواقع دستیاب ہوں۔





















