روس کے سائنسدانوں نے ایک ایسی ویکسین تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جسے کینسر کے علاج میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں کینسر ایک جان لیوا اور پیچیدہ بیماری سمجھی جاتی ہے، جس کے علاج کے لیے برسوں سے کیمو تھراپی، ریڈی ایشن اور سرجری جیسے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ان طریقوں کے باوجود مریضوں کو اکثر شدید تکالیف کا سامنا رہتا ہے اور بیماری کے دوبارہ لوٹنے کا خطرہ بھی برقرار رہتا ہے۔ ایسے حالات میں روسی ماہرین کی تیار کردہ یہ نئی mRNA ویکسین ایک امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے جو اس مرض کے علاج میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔
ویکسین کے کلینیکل استعمال کی تیاری
اس ویکسین کو "اینٹرو مکس” کا نام دیا گیا ہے، اور روسی فیڈرل میڈیکل اینڈ بائیولوجیکل ایجنسی کی سربراہ، ویرونیکا اسکوورتسوا نے باضابطہ طور پر اس کی تیاری کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ویکسین کے پری کلینیکل ٹرائلز کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ان ابتدائی آزمائشوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ویکسین نہ صرف مؤثر ہے بلکہ محفوظ بھی ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دنیا میں کسی بھی دوا یا ویکسین کو عام استعمال کے لیے لانے سے پہلے اس کے کئی مراحل میں تجربات کیے جاتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ انسانی صحت کے لیے محفوظ اور کارآمد ہے۔
ویکسین کے ابتدائی نتائج
پری کلینیکل تجربات کے دوران یہ ویکسین کئی حوالوں سے کامیاب ثابت ہوئی۔ سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ ویکسین نے رسولیوں (Tumors) کے سائز کو کم کرنے کی صلاحیت دکھائی۔ مزید یہ کہ اس نے کینسر کے خلیوں کی افزائش کی رفتار کو بھی نمایاں حد تک سست کر دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ویکسین نہ صرف کینسر کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ علاج کے دوران مریض کی حالت کو بھی بہتر کر سکتی ہے۔ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ویکسین بار بار استعمال کے لیے بھی محفوظ قرار دی گئی ہے، جو کہ کینسر جیسے مرض کے طویل علاج میں ایک بڑی کامیابی ہے۔
ویکسین کی انفرادی تیاری
اس ویکسین کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ ہر مریض کے جینیاتی مواد کے مطابق انفرادی طور پر تیار کی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں، ہر مریض کے RNA کے ڈیٹا کو مدنظر رکھتے ہوئے ویکسین تیار کی جائے گی تاکہ علاج زیادہ مؤثر ہو سکے۔ یہ ایک بالکل نیا طریقہ ہے جو کینسر کے موجودہ علاج کے مقابلے میں زیادہ ٹارگٹڈ اور شخصی (Personalized) علاج فراہم کرے گا۔ جدید میڈیکل سائنس میں Personalized Medicine کو مستقبل کی سمت تصور کیا جاتا ہے، اور یہ ویکسین اسی جدت کی عملی شکل ہے۔
کینسر کی مختلف اقسام پر کام
ابتدائی طور پر یہ mRNA ویکسین آنتوں کے کینسر (Colorectal Cancer) کے علاج کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ بیماری دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے اور اکثر دیر سے تشخیص ہونے کی وجہ سے مہلک ثابت ہوتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ سائنسدان اس ویکسین کی دیگر اقسام کے کینسر پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ ان میں گلائیو بلاسٹوما شامل ہے جو دماغ کا ایک نہایت خطرناک سرطان ہے اور عموماً علاج کے بعد بھی تیزی سے واپس آجاتا ہے۔ اسی طرح میلانومہ، جو جلد کے کینسر کی ایک مہلک قسم ہے، پر بھی یہ ویکسین آزمایا جا رہا ہے۔ اگر یہ تجربات کامیاب ہوئے تو یہ ویکسین مختلف اقسام کے کینسر کے لیے انقلابی علاج بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین کی رائے
طبی ماہرین نے اس نئی پیش رفت کو آنکولوجی (کینسر کے علاج کے علم) میں ایک سنگِ میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین مستقبل میں کینسر کے علاج کے روایتی طریقوں کو بدل سکتی ہے۔ کیمو تھراپی اور ریڈی ایشن جیسے طریقے جہاں مریض کو جسمانی طور پر کمزور کر دیتے ہیں، وہیں یہ mRNA ویکسین زیادہ ہدف شدہ (Targeted) علاج فراہم کرے گی جس سے سائیڈ ایفیکٹس کم ہوں گے اور علاج کے نتائج بہتر نکل سکیں گے۔
پس منظر اور تجزیہ
کینسر دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ہر سال تقریباً ایک کروڑ افراد کینسر سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ صرف پاکستان میں ہی سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کینسر کا شکار ہوتے ہیں، اور ان میں بڑی تعداد ایسے مریضوں کی ہوتی ہے جو بروقت تشخیص یا مؤثر علاج نہ ہونے کے سبب جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
پچھلی چند دہائیوں میں میڈیکل سائنس نے کینسر کے علاج کے لیے کئی نئی راہیں نکالی ہیں، جن میں امیونوتھراپی، ٹارگٹڈ ڈرگز اور mRNA ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ mRNA ویکسین کا تصور کووڈ-19 کے دوران دنیا بھر میں مقبول ہوا، جب Pfizer اور Moderna جیسی کمپنیوں نے کورونا وائرس کے خلاف mRNA ویکسین تیار کی۔ اب اسی ٹیکنالوجی کو کینسر جیسے پیچیدہ مرض کے علاج میں استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
روس کی یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دنیا تیزی سے Personalized Medicine کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ علاج ایک جیسے سب مریضوں کے لیے نہیں بلکہ ہر مریض کی جینیاتی ساخت اور بیماری کی نوعیت کے مطابق تیار کیا جائے گا۔ اس سے علاج کی کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔
البتہ اس ویکسین کے مکمل اثرات جاننے کے لیے ابھی مزید کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے، کیونکہ پری کلینیکل نتائج ہمیشہ انسانی آزمائشوں میں وہی کامیابی نہیں دہراتے۔ پھر بھی، اگر یہ ویکسین بڑے پیمانے پر کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف کینسر کے علاج کے طریقے بدل دے گی بلکہ اس بیماری سے جڑی خوف اور بے بسی کو بھی کم کرے گی۔
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ روس کی یہ ویکسین طب کی دنیا میں ایک نئی امید ہے۔ اگر یہ اپنی آزمائشوں میں کامیاب رہی تو آنے والے برسوں میں لاکھوں مریضوں کی زندگیاں بچانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ میڈیکل سائنس کی سمت اب روایتی علاج سے ہٹ کر زیادہ سائنسی، انفرادی اور جدید طریقوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔





















