پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب سے متاثر افراد کی امداد کے لیے اقوام متحدہ سے رابطہ کرنے اور ملک میں زرعی ہنگامی حالت نافذ کرکے متاثرہ کسانوں کے بجلی کے بلوں کی معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کی حمایت سب کی ذمہ داری ہے، وزیراعظم بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثرہ گھرانوں کو مالی امداد فراہم کریں۔
سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ اور میڈیا سے گفتگو
پیر کے روز یہاں سیلاب سے تباہ حال علاقوں کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی امداد ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور میں نے وزیراعظم شہباز شریف سے گفتگو کی ہے کہ وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرہ خاندانوں کو مالی تعاون دیں۔
کسانوں کی مدد اور زرعی ایمرجنسی کی تجویز
انہوں نے کہا کہ حکومت کو کسانوں کی حمایت کرنی چاہیے، چاہے یہ قرضوں کی چھوٹ کی صورت میں ہو یا مفت بیج کی فراہمی سمیت دیگر طریقوں سے ہو، اور ساتھ ہی سیلاب کے دوران ان کسانوں کے بجلی کے بلوں کی بھی معافی ہونی چاہیے، تاہم یہ سب صرف اس صورت میں ممکن ہے جب ہم زرعی ہنگامی حالت کا اعلان کریں۔
پچھلی حکومت کا منصوبہ اور موجودہ تعاون کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت میں جب میں وزیر خارجہ تھا تو ہم سب نے مل کر سیلاب متاثرین کے لیے نئے مکانات کی تعمیر کا پروگرام شروع کیا تھا، اسی طرح وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس موجودہ سیلاب میں بھی جن افراد کا نقصان ہوا ہے، ہمیں ان کی امداد کرنی ہوگی۔
اقوام متحدہ سے اپیل کی درخواست
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ میں وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے گزارش کروں گا کہ اقوام متحدہ میں جب ہم درخواست کریں، عام طور پر دو قسم کی اپیل ہوتی ہیں: ایک ریلیف اور ہنگامی امداد کی جو اس قدرتی آفت کے دوران کے لیے ہوتی ہے اور دوسری اپیل بعد کی بحالی کے لیے یعنی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے بارے میں ہوتی ہے۔
عالمی سطح پر اپیل کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر یہ درخواست کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان کے بہت سے اتحادی ملک ہیں جو ہماری امداد کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر ہم اپیل ہی نہیں کریں گے تو یہ معاملہ کیسے آگے بڑھے گا، ہم دوست ممالک تک پہنچنے میں جتنی تاخیر کریں گے اتنا ہی زیادہ نقصان ہوگا۔
سیاسی بیان بازی سے گریز کی اپیل اور میڈیا کی تعریف
انہوں نے کہا کہ میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ یہ وقت نہیں ہے جب ہم سیاسی الزام تراشی یا ایک دوسرے پر تنقید کریں، جبکہ میں پنجاب کے میڈیا کی تعریف کرتا ہوں جو اس مشکل دور میں مثبت کوریج کر رہے ہیں، اور قدرتی آفت میں یہی مناسب طریقہ ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ سندھ میں جب ایسے واقعات ہوں تو وہاں کا میڈیا بھی آپ سے ایسا ہی کچھ سیکھے۔
خلاصہ
بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کی امداد پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے اپیل، زرعی ایمرجنسی کا اعلان، کسانوں کے بجلی بلوں اور قرضوں کی معافی، اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مالی تعاون کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پچھلی حکومت کے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کی ضرورت پر زور دیا، اور سیاسی الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے میڈیا کی مثبت رپورٹنگ کی تعریف کی۔ مجموعی طور پر، یہ بیان سیلاب زدگان کی فوری اور طویل مدتی بحالی پر مرکوز ہے، جو قومی اتحاد اور بین الاقوامی امداد کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
تفصیلی تجزیہ
بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان پاکستان میں سیلاب کی تباہی کے تناظر میں ایک جامع اور عملی نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ پہلے حصے میں، وہ فوری امدادی اقدامات جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے استعمال اور زرعی ایمرجنسی کے اعلان پر زور دیتے ہیں، جو کسانوں کی معاشی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔ یہ تجویز نہ صرف بجلی بلوں اور قرضوں کی معافی بلکہ بیج کی مفت فراہمی جیسے عملی حل بھی شامل کرتی ہے، جو سیلاب زدہ علاقوں کی زرعی معیشت کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
دوسرے، وہ پچھلی پی ڈی ایم حکومت کے دوران شروع کیے گئے منصوبوں کا حوالہ دیتے ہیں، جو تسلسل اور تجربے کی بنیاد پر موجودہ بحران کا مقابلہ کرنے کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ یہ بیان وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، جو پاکستان جیسے وفاقی نظام میں بحرانوں کے حل کے لیے کلیدی ہے۔
تیسرے، اقوام متحدہ سے اپیل کا مطالبہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔ بلاول دو قسم کی اپیلوں (فوری ریلیف اور طویل مدتی بحالی) کی وضاحت کرتے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ نہ صرف فوری امداد بلکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے دوست ممالک کی امداد حاصل کرنے میں تاخیر کے نقصانات کو بھی نمایاں کرتا ہے، جو سفارتی اور معاشی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو ہے۔
آخر میں، سیاسی بیان بازی سے گریز کی اپیل اور پنجاب میڈیا کی تعریف ایک مثبت اور اتحادی پیغام ہے، جو قدرتی آفت کے وقت قومی یکجہتی کی اہمیت کو تقویت دیتی ہے۔ یہ سندھ میڈیا کو بھی اسی طرح کی مثبت رپورٹنگ کی ترغیب دیتا ہے، جو علاقائی تقسیم کو کم کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ بیان نہ صرف پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو فروغ دیتا ہے بلکہ حکومت پر دباؤ ڈال کر متاثرین کی بہتری کے لیے ایک عملی روڈ میپ فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی کامیابی حکومت کی ردعمل اور بین الاقوامی تعاون پر منحصر ہے۔





















