لاہور:منہاج یونیورسٹی لاہور کے طلبہ نے گزشتہ روز لاہور کے علاقہ چوہنگ کے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ طلبہ نے سیلاب زدگان کے کیمپوں میں جا کر متاثرہ خاندانوں میں کھانے پینے کی اشیاء اور اور راشن تقسیم کیا۔
منہاج یونیورسٹی لاہور کےطلبہ بس کے ذریعے سیلاب زدگان کے کیمپوں میں پہنچے اور کھانے پینے کی اشیاء اور راشن تقسیم کیا ۔کیمپوں میں مقیم متاثرہ خاندانوں نے منہاج یونیورسٹی کی جانب سے خوراک اور راشن کی فراہمی پر منہاج یونیورسٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ۔
وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے سیلاب زدگان کی امداد کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سےلاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر اورہزاروں افراد جاں بحق ہوئے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں منہاج یونیورسٹی لاہور کی انتظامیہ اور طلبہ سیلاب زدگان کی ہر ممکن مد د کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد ہماری اولین ترجیح ہےاور سیلاب زدگان کی بحالی تک ریلیف سرگرمیوں جاری رہیں گی ۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی محمد کاشف جان نے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور کے طلبہ کی جانب سے چوہنگ کے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور امدادی سرگرمیوں میں شرکت ایک قابلِ ستائش اقدام ہے جو نہ صرف سماجی ذمہ داری کی ایک روشن مثال ہے بلکہ پاکستانی معاشرے میں تعلیمی اداروں کے مثبت کردار کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ یہ تحریر اس امدادی کارروائی کا تفصیلی تجزیہ پیش کرتی ہے، جس میں طلبہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے کردار، اس اقدام کے اثرات، اور اس کی سماجی و اخلاقی اہمیت پر روشنی ڈالی جائے گی۔

منہاج یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنی سماجی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے سیلاب متاثرین کے کیمپوں میں جا کر کھانے پینے کی اشیاء اور راشن تقسیم کیا۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ طلبہ نہ صرف تعلیمی میدان میں سرگرم ہیں بلکہ وہ معاشرتی مسائل کے حل میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ بسوں کے ذریعے کیمپوں تک رسائی اور منظم طریقے سے امداد کی تقسیم سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سرگرمی ایک سوچی سمجھی اور منظم کوشش کا نتیجہ تھی۔ طلبہ کی یہ کاوش نئی نسل کے لیے ایک مثال قائم کرتی ہے کہ کس طرح تعلیمی اداروں کے پلیٹ فارم کو سماجی بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد کا بیان اس امدادی سرگرمی کی اہمیت کو مزید واضح کرتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف سیلاب متاثرین کی مدد کو اولین ترجیح قرار دیا بلکہ اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ یہ بیان یونیورسٹی انتظامیہ کے عزم اور قائدانہ صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی قیادت میں طلبہ اور عملے کی مشترکہ کوششوں سے یہ امدادی سرگرمی ممکن ہوئی، جو کہ ایک منظم اور پائیدار امدادی پروگرام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔



سیلاب متاثرین کی جانب سے منہاج یونیورسٹی کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرنا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کا فوری اور مثبت اثر ہوا۔ کھانے پینے کی اشیاء اور راشن کی تقسیم سے متاثرہ خاندانوں کو بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل ہوئی، جو کہ مشکل حالات میں ان کے لیے بہت بڑی راحت کا باعث ہے۔ اس کے علاوہ، طلبہ کی موجودگی اور ان کا متاثرین کے ساتھ براہِ راست رابطہ ان کے حوصلے بلند کرنے اور جذباتی مدد فراہم کرنے کا باعث بنا ہوگا۔ یہ اقدام نہ صرف مادی امداد بلکہ جذباتی یکجہتی کا بھی ایک ذریعہ ثابت ہوا۔
یہ امدادی سرگرمی پاکستانی معاشرے میں سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی کے جذبے کو فروغ دیتی ہے۔ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا اور ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں۔ ایسی صورتحال میں تعلیمی اداروں کا آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا نہ صرف متاثرین کے لیے ایک امید کی کرن ہے بلکہ دیگر اداروں کے لیے بھی ایک مثال ہے۔ منہاج یونیورسٹی کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ تعلیمی ادارے صرف علم کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ وہ سماجی تبدیلی اور بہبود کے ایجنٹ کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں۔
وائس چانسلر کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ منہاج یونیورسٹی سیلاب متاثرین کی بحالی تک اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔ یہ عزم نہ صرف موجودہ بحران کے حل کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک پائیدار ماڈل بھی فراہم کرتا ہے۔ اگر دیگر تعلیمی ادارے بھی اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لیں تو مجموعی طور پر معاشرے پر اس کا اثر بہت زیادہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، طلبہ کو ایسی سرگرمیوں میں شامل کرنے سے ان میں سماجی ذمہ داری کا شعور بیدار ہوتا ہے جو ان کے مستقبل کے کردار کو مزید بہتر بنائے گا۔





















