ملک کے مجموعی قرضے اور واجبات 94.2 کھرب روپے تک جا پہنچے

حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران ہر دن اوسطاً 25.4 ارب روپے کا قرضہ اٹھایا،سٹیٹ بینک

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے جاری کردہ سالانہ قرضہ بلیٹن نے ملک کی معاشی حالت کے بارے میں تشویش ناک حقائق سامنے لائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جون 2025 کے اختتام پر پاکستان کا عوامی قرضہ ریکارڈ 80.5 کھرب روپے تک جا پہنچا ہے، جو پچھلے مالی سال (جون 2024) کے مقابلے میں 9.3 کھرب روپے یا 13 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اس اضافے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت نے مالی سال 2024-25 کے دوران ہر دن اوسطاً 25.4 ارب روپے کا قرضہ اٹھایا، جو ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے بوجھ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ نہ صرف معیشت کی کمزور بنیادوں کو مزید متاثر کر رہا ہے بلکہ یہ ’’فسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لیمیٹیشن ایکٹ 2005‘‘ کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ اس قانون کے تحت، حکومت ہر سال عوامی قرضے کو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.5 سے 0.75 فیصد تک کم کرنے کی پابند ہے، مگر موجودہ اتحادی حکومت کی جانب سے اس پابندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔ نتیجتاً، قرضہ اب جی ڈی پی کے 70.2 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو گزشتہ سال کے 67.8 فیصد سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ قانون کے مطابق، قرضے کی یہ شرح 2032-33 تک 50 فیصد تک لانا لازم ہے، لیکن موجودہ رجحانات اس ہدف سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ مزید انکشاف کرتی ہے کہ ملک کے مجموعی قرضے اور واجبات 94.2 کھرب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں، جو جی ڈی پی کا 82.1 فیصد بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملکی مالیاتی استحکام کے لیے سنگین خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خاص طور پر، قرضوں پر سود کی ادائیگیاں ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، پچھلے مالی سال میں ملک کا آدھے سے زائد بجٹ – یعنی تقریباً 9.5 کھرب روپے – صرف قرضوں پر سود ادا کرنے میں صرف ہوا۔ یہ رقم نہ صرف ترقیاتی منصوبوں اور عوامی بہبود کے لیے دستیاب وسائل کو کم کر رہی ہے بلکہ معیشت کو مزید قرضوں کے جال میں پھنسا رہی ہے۔

بیرونی قرضوں کی صورت حال بھی تشویش ناک ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرضہ 1.7 کھرب روپے بڑھ کر 23.4 کھرب روپے تک جا پہنچا ہے، حالانکہ اس دوران روپے کی قدر میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ بیرونی قرضوں میں قلیل مدتی قرضوں کی بڑھتی ہوئی شرح ایک خاص خطرے کی علامت ہے، کیونکہ یہ قرضوں کی واپسی پر دباؤ بڑھاتے ہیں اور کرنسی بحران کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) کے 25 ویں بیل آؤٹ پیکیج کا حصہ ہے، جس کے تحت 7 ارب ڈالر کی امداد حاصل کی جا رہی ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صرف آئی ایم ایف کو گزشتہ مالی سال کے دوران 162 ارب روپے (تقریباً 570ملین ڈالر) سود کی مد میں ادا کیے گئے، جو ملکی خزانے پر اضافی بوجھ ہے۔

مزید برآں، حالیہ بدترین سیلابوں نے معیشت پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔ سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کی بحالی کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت نے بجٹ خسارے کو بڑھا دیا ہے، جو قرضوں میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مالیاتی خسارہ اپنی تاریخی سطح کے قریب پہنچ گیا تو قرضہ جی ڈی پی کے 70 فیصد سے بھی تجاوز کر جائے گا، جو قرض کی پائیداری کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اس صورت حال میں، پاکستان کو بیرونی امداد پر انحصار بڑھانے کے بجائے اندرونی اصلاحات پر توجہ دینی چاہیے تاکہ معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے۔

اسے بھی پڑھیں: معیشت کیلئے اچھی خبر، موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کر دی

اسٹیٹ بینک کی یہ رپورٹ حکومت، معاشی ماہرین اور عوام کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو ملکی معیشت مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اب تک اس رپورٹ پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اسے "حکومتی ناکامی” قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں بحث کا مطالبہ کیا ہے۔

قرضوں سے نکلنے کے ممکنہ راستے

اگرچہ پاکستان کی موجودہ قرضہ بحران سنگین ہے، لیکن مثبت سوچ اور ٹھوس حکمت عملیوں کے ذریعے اس سے نکلا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک تفصیلی تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے جس میں قرضوں کو کم کرنے اور معیشت کو مستحکم بنانے کے عملی اقدامات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ تجاویز عالمی معاشی ماہرین کی سفارشات، کامیاب ممالک کی مثالوں (جیسے ترکی اور انڈونیشیا کی قرضہ کم کرنے کی کوششیں) اور پاکستان کی مقامی صلاحیتوں پر مبنی ہیں۔ کلیدی بات یہ ہے کہ یہ اقدامات فوری، درمیانی اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر مبنی ہوں، جن میں حکومت، نجی شعبے اور عوام کی شراکت شامل ہو۔

مالیاتی اصلاحات اور بجٹ خسارے کو کم کرنا: سب سے پہلے، حکومت کو مالیاتی خسارے کو کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے لیے ٹیکس نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے، جیسے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، امیر طبقے پر پروگریسو ٹیکس لگانا اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے ڈیجیٹل ٹریکنگ سسٹم متعارف کروانا۔ مثال کے طور پر، اگر ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو موجودہ 10-11 فیصد سے بڑھا کر 15-18 فیصد تک لایا جائے تو سالانہ 2-3 کھرب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، غیر ضروری اخراجات جیسے سرکاری پروٹوکول اور سبسڈیز کو کم کرکے بجٹ کو متوازن بنایا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات قرضوں پر انحصار کو کم کریں گے اور سود کی ادائیگیوں کو کم کرنے میں مدد دیں گے۔

برآمدات میں اضافہ اور درآمدات پر کنٹرول: پاکستان کی معیشت کو قرضوں سے نجات دلانے کے لیے برآمدات کو بڑھانا کلیدی ہے۔ ٹیکسٹائل، زراعت اور آئی ٹی سیکٹرز پر توجہ دے کر برآمدات کو دوگنا کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، نئی مارکیٹوں جیسے افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں رسائی حاصل کرنے کے لیے تجارتی معاہدے کیے جائیں۔ درآمدات کو کم کرنے کے لیے مقامی پیداوار کو فروغ دیا جائے، جیسے توانائی کے شعبے میں قابل تجدید ذرائع (سولر اور ونڈ) کو اپنانا تاکہ تیل کی درآمد پر انحصار کم ہو۔ اگر برآمدات میں 10-15 فیصد سالانہ اضافہ حاصل کیا جائے تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگا، جو بیرونی قرضوں کو کم کرنے میں مدد دے گا۔

قرضوں کی ری سٹرکچرنگ اور آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل: موجودہ آئی ایم ایف پیکیج کو مکمل کرتے ہوئے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کی جائے، جیسے قرضوں کی مدت بڑھانا یا سود کی شرح کم کرنا۔ چین، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک سے قرضوں کی شرائط کو نرم بنانے کے لیے سفارتی کوششیں کی جائیں۔ طویل مدتی طور پر، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے اندرونی اصلاحات پر زور دیا جائے۔ مثال کے طور پر، پرائیویٹائزیشن پروگرام کو تیز کرکے سرکاری اداروں جیسے پی آئی اے اور اسٹیل مل کو نجی شعبے میں منتقل کیا جائے، جو سالانہ اربوں روپے کی بچت کر سکتا ہے۔

انسانی سرمائے اور انفراسٹرکچر کی ترقی: تعلیم، صحت اور سکل ڈویلپمنٹ پر سرمایہ کاری کرکے انسانی سرمائے کو بہتر بنایا جائے۔ یہ نہ صرف بے روزگاری کم کرے گا بلکہ پیداواریت بڑھائے گا، جو جی ڈی پی میں اضافے کا سبب بنے گا۔ انفراسٹرکچر پروجیکٹس جیسے سی پیک فیز II کو مکمل کرکے معیشت کو بوسٹ دیا جائے۔ سبز معیشت (گرین اکانومی) کو فروغ دے کر عالمی فنڈنگ حاصل کی جائے، جیسے کاربن کریڈٹس اور گرین بانڈز، جو قرضوں کی جگہ ماحول دوست فنانسنگ لائے گی۔

سیلاب اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری: حالیہ سیلابوں جیسے بحرانوں سے بچنے کے لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط بنایا جائے۔ انشورنس سکیموں اور ایمرجنسی فنڈز کو قائم کرکے نقصانات کو کم کیا جائے، جو بجٹ پر اضافی بوجھ روکے گا۔ طویل مدتی طور پر، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے جنگلات اور پانی کے ذخائر بڑھانے پر کام کیا جائے۔

ان اقدامات کو اپنانے سے پاکستان نہ صرف قرضوں سے نکل سکتا ہے بلکہ ایک مستحکم اور پائیدار معیشت کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔ کامیابی کی کلید شفافیت، سیاسی اتفاق رائے اور عوامی شراکت میں ہے۔ اگر یہ اصلاحات 3-5 سالوں میں نافذ کی جائیں تو قرضہ جی ڈی پی کی شرح کو 50 فیصد تک لایا جا سکتا ہے، جو ملکی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین