راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے اہم منصوبہ؛ جڑواں شہروں میں جدید اور تیز رفتار ٹرین کا آغاز ہوگا

جس سے دونوں شہروں کا فاصلہ محض 20 منٹ میں طے ہوگا

جڑواں شہروں—راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہریوں کے لیے ایک نئی صبح کی نوید لے کر ایک عظیم الشان منصوبہ سامنے آیا ہے، جو دونوں شہروں کے درمیان سفر کو نہ صرف تیز تر بلکہ انتہائی آرام دہ اور اقتصادی بنانے کا وعدہ کرتا ہے۔ وفاقی حکومت نے راولپنڈی کے صدر اسٹیشن سے اسلام آباد کے مارگلہ اسٹیشن تک ایک جدید اور تیز رفتار ریل سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے دونوں شہروں کا فاصلہ محض 20 منٹ میں طے ہوگا۔ یہ منصوبہ نہ صرف وقت اور ایندھن کی بچت کرے گا بلکہ شہری ٹریفک کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا، جو روزمرہ کی زندگی کو سہل بنانے کی ایک شاندار مثال ہوگا۔

منصوبے پر پیش رفت

اس اہم منصوبے پر عمل درآمد کے لیے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں طے پایا کہ اس منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا تاکہ عوام کو اس کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکے۔ اہم فیصلوں میں سے ایک یہ تھا کہ آئندہ ہفتے اس منصوبے کے فریم ورک معاہدے کو حتمی شکل دے کر دستخط کیے جائیں گے، جو اس کی تیزی سے ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔

منصوبے کی تکنیکی تفصیلات

اس ریل سروس کی کامیابی کے لیے ذمہ داریوں کی تقسیم بھی واضح کر دی گئی ہے۔ وزارت ریلوے اس منصوبے کے لیے ریلوے ٹریک کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، جبکہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اس سروس کے انتظام و انصرام کی ذمہ دار ہوگی۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ شہریوں کو عالمی معیار کی سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے جدید ٹرینیں درآمد کی جائیں گی۔ یہ ٹرینیں نہ صرف تیز رفتار ہوں گی بلکہ کم لاگت اور ماحول دوست بھی ہوں گی، جو شہریوں کے لیے ایک سستا اور پائیدار سفری متبادل پیش کریں گی۔

حکومتی رہنماؤں کے وژن کا عکاس منصوبہ

وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے اس منصوبے کو عوامی فلاح کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریل سروس ہزاروں شہریوں کی زندگیوں میں آسانی لائے گی، جو روزانہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف سفری سہولت کو بہتر بنائے گا بلکہ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالے گا، کیونکہ ایندھن کی بچت اور وقت کی قدر سے مجموعی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس منصوبے کو وزیراعظم شہباز شریف کے عوام دوست ویژن کا ایک اہم حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریل سروس شہریوں کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کے حکومتی عزم کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ منصوبہ نہ صرف جڑواں شہروں کے درمیان رابطے کو مضبوط کرے گا بلکہ شہری ترقی کے نئے امکانات کو بھی روشن کرے گا۔

وزیر مملکت طلال چوہدری نے اس منصوبے کے ماحولیاتی اور سماجی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ریل سروس سڑکوں پر گاڑیوں کے دباؤ کو نمایاں طور پر کم کرے گی، جس سے ٹریفک جام اور آلودگی جیسے مسائل میں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ شہریوں کی زندگیوں میں ایک مثبت تبدیلی لائے گا، جو روزمرہ کے سفر کو ایک خوشگوار تجربے میں تبدیل کر دے گا۔

جڑواں شہروں کے لیے ایک نیا دور

راولپنڈی اور اسلام آباد، جو ملکی معاشی اور سیاسی سرگرمیوں کے مراکز ہیں، کے درمیان یہ ریل سروس ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔ روزانہ ہزاروں افراد جو دونوں شہروں کے درمیان سفر کرتے ہیں، اب اس طویل اور تھکا دینے والے سفر سے نجات پائیں گے۔ موجودہ حالات میں، جہاں ٹریفک جام اور ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں، یہ منصوبہ ایک امید کی کرن ہے۔ صرف 20 منٹ میں سفر مکمل کرنے کی سہولت نہ صرف وقت کی بچت کرے گی بلکہ شہریوں کے معیار زندگی کو بھی بہتر بنائے گی۔

یہ جدید ریل سروس منصوبہ پاکستان کے شہری ترقی کے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو نہ صرف جڑواں شہروں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنائے گا بلکہ شہری منصوبہ بندی اور پائیدار ترقی کے لیے ایک رول ماڈل بھی پیش کرے گا۔ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس کی بروقت تکمیل اور معیاری عمل درآمد پر ہے، کیونکہ ماضی میں کئی بڑے منصوبوں کو تاخیر اور فنڈز کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ جدید ٹرینوں کی درآمد ایک خوش آئند فیصلہ ہے، لیکن اس کے ساتھ مقامی وسائل اور تکنیکی صلاحیت کو بھی استعمال میں لانا چاہیے تاکہ طویل مدتی اخراجات کم کیے جا سکیں۔

مزید برآں، یہ منصوبہ ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے بھی اہم ہے، کیونکہ ٹریفک کے دباؤ میں کمی سے کاربن اخراج میں کمی آئے گی، جو پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم، اس منصوبے کی کامیابی کے لیے عوامی آگاہی اور سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانا بھی ضروری ہوگا، خاص طور پر کم آمدنی والے شہریوں کے لیے کرایوں کو سستا رکھنا ایک چیلنج ہوگا۔ مجموعی طور پر، یہ منصوبہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں عوامی ریلیف کے وژن کو عملی شکل دیتا ہے اور مستقبل کے شہری ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین