لاہو:منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے ایک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ فکری نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آفات اور تکالیف کو اصلاح احوال کا موقع جانیں۔ سچی توبہ کر لیں قدرت کاملہ سے یہی سیلاب اور بارشیں نفع بخش بن جائیں گی۔ جو سمندر حضرت موسیٰ ؑاور ان کے فرمانبردا امتیوں کے لئے راستہ بنا فرعون اور اس کے حواری اسی سمندر میں غرق ہو گئے۔آپؐ کی بعثت کا مقصد انسانوں کے اخلاق و کردار سنوارنا اور انہیں گناہوں کی زندگی سے تائب کرنا تھا۔
انہوں نے فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب اخلاق رذیلہ غلبہ پا لیں تو پھر آسمان سے آفات نازل ہوتی ہیں اور انسانی نظم و نسق، معیشت اور معاشرت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ آج عالم اسلام وسائل کی کثرت کے باوجود انجانے خوف، عدم استحکام، بے اطمینانی اورآفات سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اُمت بدامنی، بیروزگاری، قدرتی آفات، غربت، بھوک، انجانے دشمن کی دہشت کے خوف میں مبتلا ہے مگر اس کے باوجود کوئی اصلاح احوال کی طرف متوجہ ہونے کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپؐ نے زندگی کے ہر شعبہ میں اچھے اخلاق کی ترغیب و تعلیم دی اور ہر اس عادت اور عمل سے منع فرمایا جو اللہ کی نافرمانی، فرائض و واجبات کی ادائیگی سے روکے اور دلوں کو فساد اور بگاڑ کا مسکن بنائے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال سیلاب آتے ہیں، لاکھوں لوگوں کامال و اسباب پانی میں بہہ جاتا ہے، پل جھپکتے محلات والے سڑکوں پر آ بیٹھتے ہیں، مشکل کی گھڑی میں لوگ رو رو کر دعائیں مانگتے ہیں مگر کتنے لوگ ہیں جو ان آزمائشوں کے بعد سچے دل کے ساتھ اصلاح احوال اور اللہ کی طرف لوٹ جانے کا مصمم عہد کرتے ہیں؟۔ کورونا کی وبا آئی اور اس نے زندگی کا پہیہ جام کر دیا،لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہو گئے، لوگ بیماریوں کی وجہ سے مرنے لگے، ہر طرف خوف اور یاس کا عالم تھا، سوال یہ ہے کہ وباء کے خاتمے پر من حیث الجموع کتنے لوگ تائب ہوئے اور انہوں نے گناہ کی زندگی کو ترک کرنے کا ارادہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اللہ کی طرف نہیں لوٹیں گے، گناہوں سے تائب نہیں ہوں گے تو پھر قدرتی آفات اور سیلاب مسلط ہوتے رہیں گے اور دشمن کا خوف ہماری نیندوں کو اڑائے رکھے گا۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی فکری نشست میں کی گئی گفتگو ایک گہری بصیرت اور فکری رہنمائی کی مثال ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آفات اور مشکلات صرف تباہی کے مواقع نہیں بلکہ اصلاح احوال اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا ایک موقع بھی ہیں۔ ان کا یہ نظریہ انسانی زندگی کے لیے امید اور رہنمائی کا پیغام دیتا ہے، کہ قدرت کی طرف رجوع اور سچی توبہ ہر قسم کے بحران کا حل ہے۔
ڈاکٹر حسن محی الدین نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے فرمانبردار امت کے واقعہ کو بطور مثال پیش کیا، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی ہدایت پر عمل کرنے والوں کے لیے راستے کھل جاتے ہیں اور برائی پر چلنے والے خود نقصان اٹھاتے ہیں۔ یہ تعلیم آج کے مسائل جیسے سیلاب، بیماریوں، بیروزگاری اور خوف کے تناظر میں بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے اخلاقیات کی اہمیت پر زور دیا اور بتایا کہ جب انسانوں کے دل اور معاشرت میں اخلاقی پستی اور رذائل غالب ہو جاتی ہیں تو قدرتی آفات اور معاشرتی بحران پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فرد اور معاشرہ اپنی اصلاح کے بغیر کسی بھی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے قابل نہیں ہوتا۔
خصوصاً موجودہ دور میں، جہاں عالم اسلام وسائل کے باوجود بے اطمینانی، خوف، اور غربت کا شکار ہے، ڈاکٹر صاحب کا پیغام یہ ہے کہ اصلاح احوال، توبہ اور اخلاقی تربیت ہی معاشرتی اور معاشی استحکام کی بنیاد ہیں۔ سیلاب اور وباؤں جیسے بحران بھی اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ انسان کو اللہ کی طرف لوٹنے اور گناہوں سے تائب ہونے کی ضرورت ہے۔
آخر میں، یہ بات نہایت حوصلہ افزا ہے کہ ڈاکٹر حسن محی الدین نے انسانی کردار کی تعمیر اور اصلاح احوال کو مرکزی حیثیت دی۔ ان کی گفتگو ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ہر بحران ایک موقع ہے — اگر ہم اسے درست فہم اور توبہ کے ذریعے استعمال کریں تو نہ صرف ہماری زندگی میں نفع و برکت آتی ہے بلکہ معاشرتی استحکام بھی قائم ہوتا ہے۔ یہ فکری پیغام آج کے مسلمان معاشرے کے لیے نہایت مؤثر اور ضروری ہے۔





















