خرم نواز گنڈاپور نے سیلاب متاثرین کیلئے فوری ریلیف پلان پیش کر دیا

خزانے کی پائی پائی سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے،ایوانوں اور سرکاری دالانوں کے ظہرانوں،عشائیوں پر پابندی لگا دی جائے

لاہور:پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی راہ نما خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ خزانے کی پائی پائی سیلاب متاثرین کی بحالی پر خرچ کی جائے۔ ایوانوں اور سرکاری دالانوں کے ظہرانوں،عشائیوں اور وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ کی اشتہاری مہم ایک سال کے لئے بند کر دی جائے۔ حکمران طبقہ سادگی اختیار کر کے متاثرین سیلاب کو شانہ بشانہ ہونے کا عملاً احساس دلائے۔

اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے حکومتی اقدامات اور مشینری بے بس ہو چکی ہے۔ سیلاب کو تو نہیں روکا جا سکا مگر سرکاری خزانے کا بے جا استعمال تو روکا جا سکتا ہے، ایک سال کے لئے ہر طرح کے غیر ملکی دورے، پرتعیش تقاریب اور لاؤ لشکر کے ساتھ گھومنے کا شوق بھی ایک سال کے لئے ترک کر دیا جائے تاکہ متاثرین کے لئے وسائل دستیاب ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے، پنجاب کے بعد اب صوبہ سندھ سیلاب کی تباہی کی زد پر ہے، صرف پنجاب میں 28اضلاع میں 13لاکھ سے زائد ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، پنجاب میں نقصانات کا ابتدائی تخمینہ ساڑھے چار سو ارب روپے سے زائد ہے۔ آنے والے دنوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 30فیصد تک اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ تشویش اور تکلیف حکمرانوں کے قول و فعل اور بودوباش میں بھی نظر آنی چاہیے، اب فینسی بیانات اور مہنگی ترین اشتہاری مہم سے لوگ مطمئن نہیں ہوں گے، عملاً کچھ کرنا ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن سمیت متعدد آرگنائزیشنز امدادی کارروائیاں کرتی نظر آتی ہیں، اس کار خیر کا سلسلہ مزید بڑھنا چاہیے اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہ چھوڑا جائے، ہر شخص امدادی مہم میں شریک ہو۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی اورنگزیب خان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ خرم نواز گنڈاپور کا یہ مطالبہ کہ ’’خزانے کی پائی پائی متاثرین پر خرچ کی جائے اور حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے‘‘ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت بن چکا ہے۔

یہ وقت تقریروں اور اشتہاری مہمات کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ سیلاب متاثرین خیموں میں بیٹھے ہیں، ان کے بچے بھوکے ہیں، ان کی عورتیں محفوظ پانی اور طبی امداد کو ترس رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایوان اقتدار میں پرتعیش ظہرانے، عشائیے اور مہنگے ترین دورے جاری ہیں۔ ایسے میں عوام کا اعتماد کیسے بحال ہوگا؟ حکمران طبقے کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ آج کے دور میں فینسی اشتہارات اور دعوے عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ لوگ عملی ریلیف چاہتے ہیں، فوری مدد چاہتے ہیں اور انہیں یہ یقین دلایا جانا ضروری ہے کہ وہ اکیلے نہیں۔

معاشی طور پر بھی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ پنجاب میں ساڑھے چار سو ارب روپے سے زائد کا نقصان تخمینہ کیا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں تیس فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے والی ہے جو متوسط اور غریب طبقے کے لیے زندگی مزید مشکل بنا دے گی۔ ایسے میں اگر حکمران غیر ملکی دوروں، حکومتی اشتہارات اور پروٹوکول کے اخراجات کو ایک سال کے لیے معطل کر دیں تو یہ نہ صرف وسائل کی بچت ہوگی بلکہ عوام کو یہ پیغام بھی جائے گا کہ ان کے حکمران ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اور دیگر ادارے قابلِ تحسین ہیں جو متاثرین کی مدد کر رہے ہیں، لیکن اصل ذمہ داری ریاست کی ہے۔ این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز کو فوری طور پر مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ تباہ شدہ فصلوں کے لیے کسانوں کو معاوضہ دینا ہوگا، متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کو روکنے کے لیے طبی ٹیمیں بھیجنی ہوں گی اور بے گھر ہونے والے افراد کے لیے فوری عارضی رہائش کا انتظام کرنا ہوگا۔

اس وقت سیاسی قیادت کے لیے یہ لمحہ امتحان ہے۔ اگر انہوں نے اپنی ترجیحات درست کر لیں تو یہ بحران ایک موقع بن سکتا ہے کہ قوم کو متحد کیا جائے اور عوامی اعتماد دوبارہ جیتا جائے۔ بصورت دیگر، عوام کا حکمرانوں پر اعتماد مزید کمزور ہو جائے گا اور یہ خلیج بڑھتی جائے گی۔

وقت کا تقاضا یہی ہے کہ حکمران طبقہ اپنی طرزِ زندگی میں سادگی اختیار کرے، سرکاری خزانے کے فضول اخراجات روکے اور ہر دستیاب وسیلہ سیلاب متاثرین کے لیے وقف کرے۔ یہ فیصلہ نہ صرف انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے بلکہ سیاسی طور پر بھی حکمرانوں کے لیے نجات کا راستہ بن سکتا ہے۔ آج جو قیادت عملی اقدامات کرے گی، کل عوام اسی کو یاد رکھیں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین