پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کی ایک نئی صبح نے طلوع کیا ہے، جہاں وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری دورہ ریاض کے دوران دونوں ممالک نے ایک ایسا دفاعی معاہدہ دستخط کر لیا جو خطے کی سلامتی کی نئی ضمانت بن جائے گا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر ہونے والے اس دورے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تاریخی رشتوں کو مزید مستحکم کیا بلکہ ایک ایسا عہد بھی کیا جس کے تحت کسی بھی ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا اور مشترکہ طور پر جواب دیا جائے گا۔ یہ معاہدہ، جو تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کی بنیاد پر قائم ہوا، دونوں ممالک کی خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت کا ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگا، جبکہ خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے مشترکہ مقاصد کو تقویت دے گا۔
سعودی فضائیہ کا شاندار استقبال
وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی عرب آمد ایک ایسی جھلک تھی جو دوستی کی گہرائی کو عیاں کرتی ہے۔ جب ان کا خصوصی طیارہ سعودی فضائی حدود میں داخل ہوا تو سعودی فضائیہ کے F-15 لڑاکا طیاروں نے فوراً اسے حصار میں لے لیا اور ایک شاندار فضائی سلامی پیش کی۔ وزیراعظم نے کاک پٹ میں پہنچ کر مائیک پر شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا، جو اس برادرانہ جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اس موقع پر کہا کہ سعودی ائیر فورس کے جہازوں نے وزیراعظم کے طیارے کی حفاظت کی، جو سعودی حکومت کی محبت اور احترام کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے اسے اللہ کی مہربانی، وزیراعظم کی سفارتی مہارت اور پاکستانی افواج کی کامیابیوں کا ثمر قرار دیا، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی ایک نئی بلندی ہے۔
21 توپوں کی سلامی اور گھوڑ سواروں کا احاطہ
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وزیراعظم اور ان کے وفد کا استقبال ریاض کے نائب گورنر محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز، پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی، سعودی عرب میں پاکستانی سفیر احمد فاروق اور دیگر اعلیٰ سفارتی حکام نے کیا۔ شہر بھر میں سبز ہلالی جھنڈیاں لہرائی گئیں، جو خوش آمدید کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتی تھیں۔ 21 توپوں کی رسمی سلامی اور سعودی مسلح افواج کے چاک و چوبند دستوں نے وزیراعظم کو خراجِ احترام پیش کیا، جو اس دورے کی اہمیت کو دوبالا کر دیا۔
اس کے بعد، وزیراعظم سعودی شاہی دیوان قصر یمامہ پہنچے جہاں سعودی شاہی پروٹوکول کے تحت گھوڑ سواروں نے ان کا استقبال کیا۔ سعودی مسلح افواج کے دستوں نے گارڈ آف آنر پیش کیا، جو دوستی کی ایک زندہ اور پرجوش علامت تھی۔ یہ تمام تقریبات نہ صرف سفارتی مگر جذباتی طور پر بھی ایک ایسا ماحول پیدا کر رہی تھیں جہاں دونوں ممالک کے رشتے کی گہرائی ہر لمحے جھلک رہی تھی۔
ال یمامہ پیلس میں اعلیٰ سطحی ملاقات
قصر ال یمامہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم شہباز شریف کا پرتپاک استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے وفود کی موجودگی میں باضابطہ مذاکرات کا باضابطہ اجلاس منعقد کیا۔ اس ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی بھی شریک تھے۔ اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم نے خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان بھائی چارے کی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے تاریخی اور اسٹریٹجک تعلقات، مشترکہ دلچسپیوں اور علاقائی و عالمی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جو دونوں ممالک کی شراکت داری کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس ملاقات کے نتیجے میں "اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ” (SMDA) پر دستخط ہوئے، جو دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے اور مشترکہ عزم کی ایک روشن علامت ہے۔
مشترکہ اعلامیہ
دورے کے اختتام پر پاکستان اور سعودی عرب کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ نے اس معاہدے کی اہمیت کو واضح کیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ سعودی ولی عہد کی دعوت پر وزیراعظم کا یہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، بھائی چارہ اور اسلامی یکجہتی کی بنیاد پر قائم ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کا جائزہ لیا، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
اعلامیہ کے مطابق، یہ معاہدہ دونوں ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کی تیاری اور انضمام کو بڑھانے کا مقصد رکھتا ہے، جس کی شقوں میں کسی بھی ملک پر بیرونی حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور کرنے کی بات کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد اور ان کے وفد کی فراخدلی اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا، جبکہ شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیراعظم کی صحت اور پاکستان کی ترقی کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ
یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کی ایک نئی بلندی ہے، جو دونوں ممالک کے سربراہان کے دستخط کی وجہ سے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا، جو پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کی عکاسی کرتا ہے۔ معاہدے کے اہم نکات میں پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ مل کر حرمین شریفین کا تحفظ شامل ہے، جو پاکستان کو مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ کی حفاظت میں پہلا ملک بناتا ہے۔
مشترکہ دفاع کی شق کے تحت، دونوں ممالک کسی بھی خطرے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے، اور ایک ملک کی طاقت دوسرے کی دفاع کے لیے دستیاب ہوگی۔ یہ معاہدہ نہ صرف دفاعی بلکہ معاشی اور سفارتی شعبوں میں بھی سود مند ثابت ہوگا، جو دونوں ممالک کی ترقی اور استحکام کو یقینی بنائے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کا یہ دفاعی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے، جو دونوں ممالک کی مشترکہ سلامتی کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک حملہ دونوں پر تصور کرنے کی شق نہ صرف دفاعی تعاون کو مضبوط کرتی ہے بلکہ علاقائی تناؤ—جیسے کہ قطر پر حالیہ حملے—کے تناظر میں سعودی عرب کی امریکی انحصار سے ہٹ کر پاکستان کی طرف مائل ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ پاکستان، جو ایک ایٹمی طاقت ہے، کے لیے یہ معاہدہ حرمین شریفین کی حفاظت کا اعزاز تو دیتا ہے مگر اسے سعودی عرب کی ممکنہ ایٹمی چھتری کی تلاش کی عکاسی بھی کرتا ہے، جو امریکی ضمانتوں پر بڑھتے شکوک کی وجہ سے ہے۔
تاہم، یہ معاہدہ ایران اور دیگر ہمسایوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے، جو علاقائی توازن کو متاثر کرے گا۔ پاکستان کے لیے، یہ سفارتی اور معاشی فوائد کا ذریعہ ہے، جہاں سعودی سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے، مگر اسے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ مجموعی طور پر، یہ معاہدہ دونوں ممالک کی اسلامی یکجہتی کو عملی شکل دیتا ہے مگر اس کی کامیابی کا انحصار عملی نفاذ اور علاقائی استحکام پر ہے—ایک ایسا قدم جو امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے اگر اسے احتیاط سے سنبھالا جائے۔





















