افغانستان کی طالبان حکومت نے ایک بار پھر اپنے سخت گیر ضابطوں کی ایک نئی مثال قائم کر دی ہے، جہاں شمالی علاقوں میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ پابندی، جو ‘غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام’ کے نام پر عائد کی گئی ہے، ملک کی پانچ بڑی صوبائی آبادیوں—قندوز، بدخشاں، بغلان، تخار اور بلخ—کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، جہاں لاکھوں لوگ اب گھروں، دفاتر اور کاروباری مراکز میں تیز رفتار انٹرنیٹ سے محروم ہو جائیں گے۔ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق، یہ اقدام 16 ستمبر کو بلخ صوبے سے شروع ہوا اور تیزی سے دیگر شمالی صوبوں تک پھیل گیا، جو طالبان کی 2021 کی اقتدار قبضے کے بعد انٹرنیٹ پر پہلی بڑی پابندی ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ڈیجیٹل دنیا کو محدود کر رہا ہے بلکہ آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کو بھی شدید دھچکا پہنچا رہا ہے، جو انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا باعث بن رہا ہے۔
پابندی کا دائرہ
طالبان حکام کی جانب سے جاری کردہ سرکاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی فی الحال صرف فائبر آپٹک کنکشنز پر لاگو ہوگی، جس سے گھریلو اور کاروباری سطح پر تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت ختم ہو جائے گی۔ موبائل فون کے ڈیٹا پیکجز کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت برقرار رہے گی، جو صارفین کو جزوی نجات تو دے گی مگر فائبر کی رفتار اور استحکام کی کمی ایک بڑا نقصان ہوگا۔ بلخ صوبے کے حکومتی ترجمان حاجی عطااللہ زید نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ یہ حکم براہ راست طالبان سربراہ ہبت اللہ اخوندزادہ کا ہے، جو ‘غیر اخلاقی سرگرمیوں’جیسے کہ آن لائن فحش مواد اور مرد و خواتین کے درمیان ‘فلرٹنگ’کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘ضروریات کے لیے متبادل فراہم کیا جائے گا’، مگر اس کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں، جو صارفین میں الجھن کا باعث بن رہی ہیں۔
یہ پابندی شمالی افغانستان کے اہم آبادی مراکز کو متاثر کر رہی ہے، جہاں بلخ (مزار شریف کا صوبہ) جیسی جگہوں پر ٹیلی کام آلات کو فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ انہوں نے چند دن پہلے کنکٹیویٹی کے مسائل کا سامنا کیا اور سروس پرووائیڈر سے رابطہ کیا تو اسے ‘ٹیکنیکل مسئلہ’ بتایا گیا، جو اب واضح ہو گیا ہے کہ یہ حکومتی حکم تھا۔ یہ اقدام طالبان کی پالیسیوں کی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، جو انٹرنیٹ کو ‘زہر آلود’ ذریعہ سمجھتے ہیں اور اسے کنٹرول کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
طالبان کی اخلاقی پالیسیاں
یہ پابندی طالبان کی وسیع تر اخلاقی ضابطوں کی ایک کڑی ہے، جو 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل نافذ کی جا رہی ہیں۔ گزشتہ برس نافذ کردہ ایک قانون کے تحت خواتین کے لیے چہرہ ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا، جبکہ مردوں کو داڑھی رکھنے کی ہدایت کی گئی۔ عوامی مقامات پر موسیقی چلانے پر بھی پابندی عائد ہے، جو ثقافتی اور تفریحی سرگرمیوں کو محدود کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین کی ملازمتوں اور لڑکیوں کے سیکنڈری اسکولوں پر پابندی، بیوٹی پارلرز کی بندش اور بڑی عمر کی لڑکیوں کے لیے مدرسوں تک رسائی کی روک تھام جیسی پالیسیاں طالبان کی سخت گیر تشریح کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان اقدامات نے نہ صرف خواتین کی آزادی کو چیلنج کیا بلکہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کو بھی روک دیا ہے، جو عالمی سطح پر تنقید کا باعث بنے ہیں۔
طالبان کی انٹرنیٹ پالیسیاں بھی اسی تسلسل کا حصہ ہیں، جہاں پرانی حکومت کے دور میں بھی انٹرنیٹ کی نگرانی کی جاتی تھی مگر اب یہ براہ راست بلاک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بلخ جیسے صوبے کا انتخاب، جو تاریخی اور ثقافتی طور پر اہم ہے، یہ اشارہ دیتا ہے کہ یہ پابندی دیگر علاقوں تک پھیل سکتی ہے، جو صارفین کی آزادی کو مزید محدود کر دے گی۔
عالمی ردعمل
اس پابندی نے فوری طور پر عالمی سطح پر تنقید کی لہر برپا کر دی ہے۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان فوری طور پر فائبر آپٹک انٹرنیٹ بحال کریں تاکہ صحافی معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں اور عوام کو درست خبریں مل سکیں۔ سابق امریکی سفیر افغانستان زلمی خلیل زاد نے اسے ‘بے وقوفانہ’ قرار دیا، جو طالبان کی پالیسیوں کی مذمت کی ایک واضح مثال ہے۔ رائٹرز اور سی این این جیسی ایجنسیوں نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ اقدام طالبان کی آن لائن فحش مواد اور ‘فلرٹنگ’ جیسی سرگرمیوں پر تشویش کی عکاسی کرتا ہے، مگر یہ آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہے۔
یہ پابندی ملک کی معاشی ترقی کو بھی متاثر کر رہی ہے، جہاں کاروباری مراکز اور دفاتر کی پیداواری صلاحیت کم ہو جائے گی۔ شمالی صوبوں کی آبادی، جو لاکھوں میں ہے، اب سست موبائل ڈیٹا پر انحصار کرے گی، جو تعلیم، صحت اور تجارت کو چیلنج کرے گی۔
طالبان کی یہ انٹرنیٹ پابندی ان کی سخت گیر اسلامی تشریح کی ایک اور مثال ہے، جو 2021 کے اقتدار قبضے کے بعد سے مسلسل جاری ہے اور اب ڈیجیٹل دنیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ فائبر آپٹک بلاک کرنا، جو تیز رفتار اور قابل اعتماد ہے، نہ صرف صارفین کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرے گا بلکہ صحافت، تعلیم اور کاروبار کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا، جو افغانستان کی معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ بنے گا۔ موبائل ڈیٹا کی استثنیٰ ایک جزوی رعایت ہے مگر یہ بھی نگرانی کی زد میں آ سکتا ہے، جو طالبان کی آن لائن ‘غیر اخلاقیات’ پر تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی تنقید، جیسے کہ سی پی جے اور خلیل زاد کی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرتی ہے، جو طالبان کی تنہائی کو بڑھا سکتی ہے۔ یہ اقدام خواتین کی پابندیوں اور ثقافتی روک تھام کی تسلسل ہے، جو ملک کو الگ تھلگ کر رہا ہے۔ مستقبل میں، اگر یہ پابندی دیگر صوبوں تک پھیلتی ہے تو افغانستان کی ڈیجیٹل ترقی رک جائے گی، اور عالمی برادری کو سفارتی دباؤ بڑھانا ہوگا تاکہ معلومات کی آزادی بحال ہو—ایک ایسا چیلنج جو طالبان کی حکمرانی کی پائیداری کو آزمائے گا۔





















