لاہور :پنجاب حکومت نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ طلبہ کیلئے ایک اہم ریلیف پیکیج تیار کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو تجویز پیش کی ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کے طلبہ کی رجسٹریشن اور سمسٹر فیس مکمل طور پر معاف کر دی جائے، تاکہ وہ اپنی تعلیم بغیر کسی مالی دباؤ کے جاری رکھ سکیں۔ وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ اس تجویز کی حتمی منظوری وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے دی جائے گی اور فیصلے کا اطلاق پبلک سیکٹر کے تمام کالجز اور یونیورسٹیوں پر ہوگا۔
رواں برس پنجاب اور جنوبی پنجاب کے کئی اضلاع میں شدید بارشوں کے نتیجے میں دریاؤں میں طغیانی آئی جس نے ہزاروں گھروں کو نقصان پہنچایا اور سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ زرعی زمینوں پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، جس سے مقامی معیشت پر شدید منفی اثر پڑا۔ تعلیمی ادارے کئی ہفتوں تک بند رہے اور ہزاروں طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہو گئے۔ ایسے حالات میں سیلاب متاثرہ خاندانوں پر مالی دباؤ بڑھ گیا، کیونکہ انہیں مکانات کی مرمت، روزگار کی بحالی اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ وسائل درکار ہیں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے مجوزہ پیکیج میں رجسٹریشن اور سمسٹر فیس معافی جیسے اقدامات شامل ہیں، جو پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو فائدہ پہنچائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے میں سہولت فراہم کرنا اور متاثرہ خاندانوں پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت متاثرہ طلبہ کو کتابوں اور اسٹیشنری میں رعایت، ہاسٹل فیس میں کمی اور آن لائن کلاسز کے آپشنز دینے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھ سکیں۔
تعلیمی شعبہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتا ہے اور آفات کے بعد اس کی فوری بحالی انتہائی ضروری ہے۔ سیلاب جیسے قدرتی آفات نہ صرف جسمانی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ تعلیمی تسلسل کو بھی بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان میں شرح خواندگی پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے جائیں تو متاثرہ علاقوں میں ڈراپ آؤٹ ریٹ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
پنجاب حکومت کا یہ اقدام نہ صرف متاثرہ طلبہ کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ یہ پیغام دیتا ہے کہ تعلیم کو حکومت کی اولین ترجیح حاصل ہے۔ اس فیصلے سے ہزاروں نوجوانوں کو دوبارہ تعلیم کی جانب لایا جا سکتا ہے، جو مستقبل میں ملکی معیشت کے لیے کارآمد ثابت ہوں گے۔ تعلیمی پالیسی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات کو مستقل بنیادوں پر لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی آفت کی صورت میں طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
مزید یہ کہ، اس ریلیف پیکیج کے ساتھ حکومت کو نفسیاتی بحالی کے پروگرامز بھی متعارف کرانے چاہئیں، کیونکہ آفات متاثرین پر ذہنی دباؤ بڑھا دیتی ہیں۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق تعلیم میں رکاوٹ نوجوانوں کے مستقبل کو براہ راست متاثر کرتی ہے، لہٰذا یہ اقدام بروقت اور انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔





















