مسلسل 14 گھنٹے ہوم ورک کرنے پر بچہ اسپتال منتقل

رات 11 بجے تک، جب بچہ بستر پر لیٹا، تو اس کی حالت اچانک بگڑ گئی

چین کی تعلیمی شدت پسندی نے ایک بار پھر انسانی جانوں کی قیمت پر سرخیوں میں جگہ بنا لی ہے، جہاں ہونان صوبے کے شہر چانگشا میں ایک 11 سالہ بچہ، جس کا نام ليانگ ليانگ بتایا جاتا ہے، نے 14 گھنٹے مسلسل ہوم ورک کرنے کے بعد شدید طبی حالت کا شکار ہو گیا۔ یہ واقعہ، جو گزشتہ ماہ 26 اگست کو پیش آیا، سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جہاں والدین کی بے رحمانہ نگرانی اور تعلیمی دباؤ کی وجہ سے بچہ اسپتال پہنچ گیا۔ صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک بغیر کسی آرام کے ہوم ورک کرنے والا یہ بچہ رات 11 بجے تک بے چین اور سانس کی تیز رفتاری کا شکار ہو گیا، جو ہائپر وینٹیلیشن اور جذباتی دباؤ کی واضح علامت تھی۔ یہ داستان نہ صرف چین کی تعلیمی پالیسیوں پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے، جہاں وقفوں کی کمی ایک جان لیوا خطرہ بن سکتی ہے۔

واقعہ کی تفصیلات

چانگشا، ہونان صوبے کا ایک مصروف شہر، جہاں تعلیم کو کامیابی کی واحد کلید سمجھا جاتا ہے، اس واقعے کا گواہ بن گیا۔ ليانگ ليانگ، جو صرف 11 سال کا ہے، نے والدین کی نگرانی میں اپنا سارا سمر ہوم ورک ایک ہی دن میں مکمل کرنے کی کوشش کی۔ صبح 8 بجے شروع ہونے والا یہ سلسلہ رات 10 بجے تک جاری رہا، بغیر کسی وقفے، پانی پینے، یا آرام کے۔ بچہ، جو امتحانوں کی تیاری میں مصروف تھا، نے پورا دن کتابوں اور نوٹس میں گھل مل کر گزار دیا، جو والدین کی تعلیمی جبر کی ایک واضح مثال ہے۔

رات 11 بجے تک، جب بچہ بستر پر لیٹا، تو اس کی حالت اچانک بگڑ گئی۔ بے چینی نے جنم لیا، سانس لینے کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز ہو گئی، چکر آنے لگے، شدید سر درد شروع ہوا، اور ہاتھ پاؤں، ہونٹوں، اور دیگر اعضا میں سنسناہٹ پھیل گئی۔ انگلیاں اکڑنے لگیں، جو ‘چکن کلا ہینڈز’ کی حالت تھی، اور بچہ تکلیف سے کراہنے لگا۔ والدین نے فوری طور پر اسے چانگشا سینٹرل ہاسپٹل لے جانا ضروری سمجھا، جہاں ایمرجنسی وارڈ میں داخل کیا گیا۔ یہ علامات، جو جذباتی دباؤ اور جسمانی تھکاوٹ کی مشترکہ وجہ سے تھیں، بچوں میں بڑھتے ہوئے تعلیمی دباؤ کی ایک خطرناک جھلک پیش کرتی ہیں۔

طبی تشخیص

ہاسپٹل میں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے فوری معائنہ کیا، جس میں ہائپر وینٹیلیشن سنڈروم کی تشخیص ہوئی ایک ایسی حالت جو تیز اور گہری سانس لینے سے پیدا ہوتی ہے، جو جذباتی تناؤ کی وجہ سے ہوئی۔ یہ سنڈروم، جو ہارمونل عدم توازن اور آکسیجن کی زیادتی سے جڑا ہے، دل کی دھڑکن تیز کر دیتا ہے، عضلات میں شل شدن پیدا کرتا ہے، اور شدید صورتوں میں جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ ڈاکٹر ژانگ شیاوفو، جو ہاسپٹل کی پیڈیاٹرک ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ہیں، نے بتایا کہ بچے کو فوری طور پر سانس کی ماسک لگائی گئی، جس سے اس کی سانس کی رفتار کو نارمل کیا گیا۔ آرام اور آکسیجن تھراپی کے بعد علامات آہستہ آہستہ کم ہوئیں، اور بچہ چند دنوں میں مستحکم ہو گیا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ حالت والدین کے دباؤ، امتحان کی پریشانی، اور طویل گیجٹ استعمال کی وجہ سے ہوئی، جو ہونان صوبے میں اگست میں 30 سے زائد بچوں کے ساتھ پیش آئی۔ یہ واقعہ چین کی تعلیمی نظام کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں بچے سمر ہالیڈیز میں بھی ہوم ورک کی بھاری بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں، جو ان کی صحت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

تعلیمی دباؤ کا پس منظر

چین میں تعلیم کو کامیابی کی واحد راہ سمجھا جاتا ہے، جہاں والدین اور اسکول بچوں پر بے رحمانہ دباؤ ڈالتے ہیں۔ ہونان جیسے صوبوں میں، سمر ہوم ورک کی مقدار اتنی ہوتی ہے کہ بچے چھٹیوں میں بھی کتابوں میں گم رہتے ہیں۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، جہاں صارفین نے والدین کی سختی پر تنقید کی اور کہا کہ "اگر یہ دباؤ پہلے نہ ہوتا تو بچہ ایک دن میں سب مکمل نہ کرتا”۔ ایک صارف نے لکھا کہ "میں نے بھی تین دنوں میں سارا ہوم ورک کیا، مگر یہ حد سے بڑھ گیا”۔ ہاسپٹل کے مطابق، اگست میں ایمرجنسی میں 30 سے زائد بچے اسی طرح کی حالت میں لائے گئے، جو تعلیمی دباؤ کی ایک وبا کی نشاندہی کرتا ہے۔

بچوں کی صحت کی حفاظت

یہ واقعہ بچوں کی صحت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ہوم ورک کے دوران وقفے دینا ناگزیر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو ہر 45-50 منٹ کے بعد 10-15 منٹ کا بریک دینا چاہیے، جو نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں بھی، جہاں بچوں پر تعلیمی دباؤ بڑھ رہا ہے، یہ سبق اہم ہے کہ والدین اور اساتذہ توازن برقرار رکھیں۔

یہ واقعہ چین کی تعلیمی شدت پسندی کی ایک تلخ تصویر پیش کرتا ہے، جہاں والدین کی بے رحمی اور نظام کی سختی بچوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ 14 گھنٹے بغیر وقفے ہوم ورک ہائپر وینٹیلیشن جیسی جان لیوا حالت کا باعث بنا، جو جذباتی دباؤ کی وجہ سے ہوئی، اور ہونان میں 30 سے زائد بچوں کی ایمرجنسی اس کی وبا کی نشاندہی کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی، جہاں بچوں پر امتحانوں کا دباؤ عام ہے، والدین کو بریکس کی اہمیت سمجھنی چاہیے—ہر 45 منٹ کے بعد 10 منٹ کا وقفہ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کو بچاتا ہے۔ حکومتوں کو تعلیمی پالیسیوں میں توازن لانا چاہیے، جہاں کامیابی صرف نمبروں تک محدود نہ ہو—ایک ایسا سبق جو بچوں کی مستقبل کی بنیاد رکھے گا، اگر بروقت اپنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین