روزانہ دانتوں پر کتنی مرتبہ برش کرنا ضروری ہے؟

مسوڑوں کے امراض اور منہ کے انفیکشنز الزائمر اور ڈیمینشیا کے خطرے کو بڑھاتے ہیں

دانتوں کی صفائی نہ صرف مسکراہٹ کی خوبصورتی بڑھاتی ہے بلکہ دل، دماغ، اور عمومی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں میٹھے کھانوں اور تمباکو کا استعمال عام ہے، دانتوں کی صحت پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ ماہرین کی رہنمائی اور سائنسی تحقیق کے مطابق، یہ رپورٹ دانتوں کی صفائی کے بہترین طریقوں اور اس کے صحت پر اثرات کو بیان کرتی ہے۔

کتنی بار برش کرنا چاہیے؟

  • ماہرین کی رائے: روزانہ دو بار، صبح اور رات، کم از کم دو منٹ تک فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ سے برش کریں۔
  • فوائد:
    • فلورائیڈ دانتوں کے انامیل کو مضبوط کرتا ہے اور کیویٹیز کو روکتا ہے۔
    • مسوڑوں کی سوزش اور پلاک کے جمع ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
  • فلاسنگ کی اہمیت: روزانہ دو بار فلاسنگ سے دانتوں کے درمیان خوراک کے ذرات اور بیکٹیریا ہٹتے ہیں۔
  • خاص حالات: مسوڑوں کے امراض یا زبانی مسائل کے شکار افراد کو ڈاکٹر کے مشورے سے دو بار سے زیادہ برش کرنا پڑ سکتا ہے۔
  • بزرگوں کے لیے: عمر رسیدہ افراد کو زبانی صحت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے، کیونکہ ان کے دانت اور مسوڑھے کمزور ہوتے ہیں۔

دانتوں کی صحت اور دماغی امراض

  • تحقیقی انکشاف: مسوڑوں کے امراض اور منہ کے انفیکشنز الزائمر اور ڈیمینشیا کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
  • وجہ: سوزش اور بیکٹیریا خون کے ذریعے دماغ تک پہنچ سکتے ہیں، جو دماغی خلیات کو نقصان دیتے ہیں۔
  • دل کی بیماریوں سے تعلق: ناقص زبانی صحت امراض قلب اور قبل از وقت موت کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔

برش کرنے کا بہترین وقت

  • صبح: ناشتے سے پہلے برشنگ رات بھر کے بیکٹیریا ہٹاتی ہے اور لعاب کی پیداوار بڑھاتی ہے۔
  • رات: سونے سے پہلے برش کرنا سب سے اہم ہے، کیونکہ یہ پلاک اور بیکٹیریا کی افزائش روکتا ہے۔
  • اہم مشورہ: تیزابی کھانوں (جیسے لیموں، سوڈا) کے بعد فوراً برش نہ کریں۔ 30 منٹ انتظار کریں یا پانی سے کلی کریں تاکہ انامیل کو نقصان نہ پہنچے۔

عملی تجاویز

  • ہر 3-4 ماہ بعد ٹوتھ برش تبدیل کریں۔
  • نرم برسلز والا برش استعمال کریں اور زیادہ زور سے برش نہ کریں۔
  • ہر چھ ماہ بعد ڈینٹسٹ سے چیک اپ کرائیں۔

دانتوں کی صحت مجموعی تندرستی کا ایک اہم حصہ ہے۔ دو بار برش اور فلاسنگ کا معمول نہ صرف دانتوں اور مسوڑوں کو صحت مند رکھتا ہے بلکہ دل اور دماغی امراض سے بھی بچاتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں، جہاں زبانی صحت کے مسائل عام ہیں، اس سادہ معمول کو اپنانا ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اپنے معالج سے مشورہ کریں اور آج سے ہی اپنی زبانی صحت کا خیال رکھیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین