ایک انچ زمین کسی کو نہیں دیں گے، امریکا کے خلاف مزید 20 سال لڑنے کو تیار ہیں، افغانستان

افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی فورس کی واپسی کو قبول نہیں کیا جائے گا

افغانستان کی طالبان حکومت نے امریکی صدر کی بگرام ایئر بیس واپس لینے کی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جو ایک ایسا اعلان ہے جو خطے کی سلامتی اور خودمختاری کی جدوجہد کو نئی جہت دے رہا ہے۔ افغان حکام نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر واشنگٹن کو ان کی سرزمین پر دوبارہ قبضہ کرنا ہے تو وہ اگلے 20 سال تک اس کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں، اور بیرونی فوج کی موجودگی کی کسی بھی کوشش کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بیان امریکی صدر کی حالیہ دھمکیوں کا جواب ہے، جو برطانیہ کے سرکاری دورے کے دوران دی گئی تھیں، جہاں انہوں نے بگرام ایئر بیس واپس نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی بات کی تھی۔ یہ تنازع نہ صرف افغانستان کی آزادی کی علامت ہے بلکہ 2021 کے امریکی انخلاء کے بعد کی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو خطے کی جغرافیائی سیاست کو ہلا رہا ہے۔

’20 سال لڑنے کو تیار’

اتوار کو کابل میں میڈیا بریفنگ کے دوران افغان وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد نے امریکی خواہش کا براہ راست جواب دیا، جہاں انہوں نے کہا کہ بگرام ایئر بیس واپس لینے کی کسی بھی کوشش کا مطلب ہے اگلے دو دہائیوں تک مسلسل جدوجہد۔ مجاہد کا یہ بیان، جو طالبان کی فوجی تیاریوں کی عکاسی کرتا ہے، افغان عوام کی آزادی کی پوری قوم کی آواز کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی غیر ملکی فورس کی واپسی کو قبول نہیں کیا جائے گا، جو امریکی انخلاء کے بعد حاصل شدہ آزادی کی حفاظت کی علامت ہے۔

اس بیان کی تائید جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے نائب اول ملا تاجمیر جواد نے کی، جو موجودہ نظام کی حفاظت پر افغان حکومت کی پوری پختگی کو بیان کرتے ہیں۔ جواد کا کہنا تھا کہ افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت انتہائی اہم ہے، اور کوئی بھی بیرونی مداخلت اسے چیلنج نہیں کر سکتی۔ افغان وزارت خارجہ کے سیاسی ڈائریکٹر ذاکر جلالی نے بھی واشنگٹن کی واپسی کی کسی بھی تصور کو مسترد کر دیا، جہاں انہوں نے کہا کہ افغان عوام کبھی بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کو قبول نہیں کریں گے، اور کسی بھی مکالمے میں دوبارہ فوجی قبضے کا معاملہ خارج ہونا چاہیے۔ یہ بیانات ایک متحد افغان موقف کی نشاندہی کرتے ہیں، جو امریکی دھمکیوں کو سفارتی اور فوجی دونوں سطحوں پر چیلنج کر رہے ہیں۔

بگرام ایئر بیس

بگرام ایئر بیس، جو افغانستان کا سب سے بڑا اور اسٹریٹیجک ایئر بیس ہے، امریکی فورسز کا 20 سالہ قبضے کا مرکز رہا، جہاں سے انہوں نے آپریشنز چلائے اور لاکھوں فوجیوں کی نقل و حرکت کی۔ 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد یہ بیس طالبان کے کنٹرول میں آیا، جو ان کے لیے ایک فوجی اور علامتی فتح تھی۔ صدر ٹرمپ کی حالیہ دھمکی، جو برطانیہ کے دورے کے دوران دی گئی، میں انہوں نے کہا کہ بگرام واپس نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو ‘سنگین نتائج’ بھگتنے پڑیں گے، جو ایک غیر واضح مگر دھمکی آمیز لہجہ تھا۔ یہ بیان امریکی انخلاء کے بعد کی ناکامیوں اور افغان حکومت کی مضبوطی کی وجہ سے سامنے آیا، جو واشنگٹن کو پرانی پوزیشن واپس لینے پر مجبور کر رہا ہے۔

افغان وزارت دفاع کے چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ حال ہی میں کچھ لوگوں نے بگرام ایئر بیس واپس لینے کے لیے مذاکرات کی بات کی ہے، مگر افغانستان کی سرزمین کا ایک انچ بھی کسی کے حوالے کرنے کا کوئی معاہدہ ممکن نہیں، اور ہمیں اس کی ضرورت بھی نہیں۔ یہ بیان افغان عوام کی آزادی کی پوری قوم کی آواز ہے، جو امریکی انخلاء کی کامیابی کو تسلیم کرتا ہے اور کسی بھی دوبارہ قبضے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ سرکاری بیان میں مزید خبردار کیا گیا کہ افغانستان کی آزادی اور علاقائی سالمیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں شدید ردعمل کا سامنا ہوگا۔

امریکی انخلاء کی تلخ یاد

یہ ردعمل امریکی انخلاء کی تلخ یادوں کو تازہ کرتا ہے، جہاں 2021 میں واشنگٹن نے بگرام سمیت تمام بیسز چھوڑ دیے تھے، جو 20 سالہ مہم جوئی کا خاتمہ تھا۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ یہ انخلاء افغان عوام کی مزاحمت کی فتح تھی، اور اب کوئی بھی بیرونی قوت اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔ صدر ٹرمپ کی دھمکی، جو ہفتے کو دی گئی، امریکی انخلاء کی ناکامیوں کی وجہ سے سامنے آئی، جو واشنگٹن کو پرانی پوزیشن واپس لینے پر مجبور کر رہا ہے۔ افغان حکام کا یہ عزم نہ صرف فوجی بلکہ سفارتی طور پر بھی ایک مضبوط موقف ہے، جو عالمی برادری کو افغان خودمختاری کی حمایت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

افغانستان کی طالبان حکومت کا یہ کڑا جواب امریکی دھمکیوں کے تناظر میں ایک اسٹریٹیجک موقف ہے، جو 2021 کے انخلاء کی فتح کو تسلیم کرتا ہے اور بگرام ایئر بیس جیسی علامتی جگہوں کی حفاظت کو قومی فخر کا معاملہ بناتا ہے۔ وزیر دفاع مجاہد کا ’20 سال مزید لڑنے’ کا بیان افغان عوام کی مزاحمتی روح کی عکاسی کرتا ہے، جو امریکی انخلاء کی تلخ یادوں سے جڑا ہے اور واشنگٹن کو سفارتی دباؤ کا سامنا کروانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ذاکر جلالی اور فصیح الدین فطرت جیسے حکام کی متحد آواز یہ واضح کرتی ہے کہ افغانستان کی آزادی غیر قابلِ مذاکرات ہے، جو خطے میں استحکام کی بنیاد ہے۔

تاہم، یہ تنازع امریکی انخلاء کے بعد کی پیچیدگیوں کو بڑھا سکتا ہے، جہاں واشنگٹن کی دھمکیاں—جو غیر واضح ہیں—افغانستان کو تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔ پاکستان، چین، اور روس جیسے اتحادیوں کی حمایت سے طالبان مضبوط ہو سکتے ہیں، مگر عالمی برادری کو افغان خودمختاری کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ دوبارہ تنازع نہ جنم لے۔ مجموعی طور پر، یہ بیان افغان آزادی کی پختگی کی نشاندہی کرتا ہے، مگر سفارتی مکالمے کی ضرورت ہے جو دونوں فریقوں کو فوائد پہنچائے—ایک ایسا راستہ جو امن کی طرف لے جائے، اگر دھمکیوں کی جگہ بات چیت ہو۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین