چین میں کٹے ہوئے ناخنوں کو بیچنے کا رواج آخر کیوں عام ہوتا جارہا ہے؟

شہری اپنے ناخن جمع کرتے ہیں اور انہیں TCM (روایتی چینی طب) کے اجزاء کے طور پر بیچ رہے ہیں

چینی شہریوں میں اپنے کٹے ہوئے ناخن بیچنا معمول بنتا جارہا ہے اور باقاعدہ اس کے بدلے میں قیمت بھی دی جارہی ہے۔ تاہم حیران ہونے کی بات نہیں ہے، یہ معاملہ کچھ مخصوص کلچرل اور روایتی طب سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ٹرینڈ شمالی چین کے ہوبی صوبے (Hebei) میں شروع ہوا ہے، جہاں ایک خاتون نے بچپن سے جمع کیے گئے کٹے ناخنوں کو آن لائن بیچنا شروع کیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ کٹے ناخنوں کی قیمت تقریباً 150 یوان (تقریباً 21 امریکی ڈالر) فی کلوگرام ہے، جو روایتی چینی طب (TCM) میں استعمال ہونے والے اجزاء کی بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ رپورٹ 28 ستمبر 2025 کو شائع ہوئی، جو اس رواج کی ثقافتی جڑوں اور جدید ٹرینڈ کو بیان کرتی ہے۔

ٹرینڈ کا آغاز اور پھیلاؤ

شہری اپنے ناخن جمع کرتے ہیں اور انہیں TCM (روایتی چینی طب) کے اجزاء کے طور پر بیچ رہے ہیں۔ یہ ٹرینڈ شمالی چین کے ہوبی صوبے میں شروع ہوا ہے، جہاں ایک خاتون نے بچپن سے اپنے کٹے ناخنوں کو جمع کیا اور اب انہیں آن لائن پلیٹ فارمز پر بیچ رہی ہے۔ چینی میڈیا آؤٹ لیٹ "کانکان نیوز” کے مطابق، یہ خاتون نے یہ کام مالی فائدے کے لیے شروع کیا، اور اس کی پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ہزاروں لائکس اور شیئرز حاصل کیے۔ مانگ بڑھنے کی وجہ سے طبی کمپنیاں اب اسکولوں اور دیہاتوں سے بھی ناخن اکٹھے کر رہی ہیں، جو اس رواج کو مزید عام بنا رہی ہے۔ یہ ٹرینڈ خاص طور پر ان لوگوں میں مقبول ہو رہا ہے جو TCM کو ترجیح دیتے ہیں، اور آن لائن مارکیٹ پلیسز پر کٹے ناخنوں کی خرید و فروخت عام ہو گئی ہے۔

ناخنوں کو چینی طب میں “Jin tui” کہتے ہیں۔ ان کا استعمال "گرمی اور زہریلے مادوں” کو کم کرنے، زخموں کو بھرنے اور بعض دیگر روایتی علاج میں کیا جاتا رہا ہے۔ TCM کے مطابق، انسانی ناخن "heat-clearing and detoxifying” کے طور پر کام کرتے ہیں، جو جسم سے زہریلے عناصر کو نکالنے اور جلد کی بیماریوں کے علاج میں مدد دیتے ہیں۔ پروسیسنگ کے عمل میں ناخنوں کو دھونے، جراثیم کش کرنے، حرارت سے پروسیس کرنے اور پیس کر پاؤڈر بنانے کے بعد استعمال کیا جاتا ہے، جو انہیں محفوظ بناتا ہے۔ چینڈو یونیورسٹی آف ٹریڈیشنل چائنیز میڈیسن کے پروفیسر لِی جِمین کا کہنا ہے کہ یہ پرانا رواج ہے، جو 1960 کی دہائی سے کم ہوا تھا کیونکہ نیل پالش کی مقبولیت بڑھنے سے ناخن "داغدار” ہو گئے تھے، مگر اب قدرتی اور آرگینک اجزاء کی مانگ سے یہ واپس لوٹ آیا ہے۔

 پرانی کتابوں میں نسخے

پرانے طبی رواج جیسا کہ ٹینگ ڈائنیسٹی کے ڈاکٹر سن سماؤ کی کتاب Qianjin Yaofang، میں ناخن سے متعلق نسخے درج ہیں، مثلاً بچے کے پیٹ پھول جانے پر ناخن جلا کر چھاتی پر لگائے جاتے تھے اور دودھ کے ساتھ دیا جاتا تھا۔ یہ کتاب 652 عیسوی میں لکھی گئی تھی اور TCM کی بنیادوں میں سے ایک ہے، جو ناخنوں کو جسم کی "آگ” (heat) کو کم کرنے والا جزو قرار دیتی ہے۔ جدید TCM میں بھی، Jin tui کو جلد کے زخموں، الرجیز اور انفیکشنز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو اس رواج کی جڑیں مضبوط کرتا ہے۔

ممکنہ خطرات

تاہم اس کے باوجود بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان اجزا سے کوئی نقصان بھی ہو سکتا ہے اگر صفائی نہ کی جائے۔ TCM کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر پروسیس کیے ناخنوں میں جراثیم یا آلودگی ہو سکتی ہے، جو انفیکشن کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے، صرف معتبر کمپنیوں سے حاصل کیے گئے پروسیسڈ اجزاء کا استعمال تجویز کیا جاتا ہے۔ یہ رواج، اگرچہ ثقافتی طور پر دلچسپ ہے، مگر جدید طبی معیاروں کی پابندی ضروری ہے۔

یہ رواج چین کی روایتی چینی طب (TCM) کی زندہ دلیلی ہے، جو نہ صرف ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ جدید صحت کے رجحانات کو بھی جوڑتا ہے، جو TCM کی عالمی مقبولیت کو بڑھا رہا ہے۔ سب سے پہلے، یہ ٹرینڈ TCM کی قدرتی اور سستے علاج کی طرف واپسی کی عکاسی کرتا ہے، جو کورونا وبا کے بعد قدرتی صحت کی مانگ بڑھنے کا نتیجہ ہے۔ ہوبی صوبے کی خاتون کی کہانی، جو بچپن سے جمع کیے گئے ناخنوں کو بیچ کر 150 یوان فی کلو کماتی ہے، ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ روزمرہ کی "بے فائدہ” چیزیں بھی قیمتی ہو سکتی ہیں اگر ان کی ثقافتی قدر کو سمجھا جائے۔ یہ نہ صرف انفرادی سطح پر مالی فائدہ دیتا ہے بلکہ TCM کی صنعت کو فروغ دیتا ہے، جو چین کی معیشت کا 2.3 ٹریلین یوان کا حصہ ہے اور عالمی سطح پر 1 بلین سے زائد لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔

دوسرا، یہ رواج TCM کی تاریخی جڑوں کو زندہ کرتا ہے، جیسے Qianjin Yaofang جیسی کتابوں سے، جو 1400 سال پرانی ہیں مگر آج بھی استعمال ہو رہی ہیں۔ Jin tui جیسے اجزاء کی پروسیسنگ (دھونا، جراثیم کش کرنا، پیسنا) جدید سائنس اور روایتی علم کی ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے، جو TCM کو محفوظ اور سائنسی بناتی ہے۔ یہ ٹرینڈ دیہی علاقوں میں روزگار پیدا کرتا ہے، جہاں کمپنیاں اسکولوں اور گاؤں سے ناخن اکٹھے کرتی ہیں، جو غربت کم کرنے میں مددگار ہے۔ مزید برآں، یہ قدرتی علاج کی طرف رجحان بڑھاتا ہے، جو کیمیکل ادویات کے ضمنی اثرات سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے، خاص طور پر جلد کی بیماریوں اور detoxification کے لیے۔

تیسرا، سوشل میڈیا کی وجہ سے یہ ٹرینڈ وائرل ہوا، جو TCM کو نوجوان نسل تک پہنچا رہا ہے۔ آن لائن بیچنے کا سہولت دیتی ہے، جو دیہی شہریوں کو مارکیٹ تک رسائی دیتی ہے۔ تاہم، صفائی کے خطرات کو اجاگر کرنا بھی مثبت ہے، جو عوام کو آگاہ کرتا ہے اور TCM کی معیاری ترقی کو یقینی بناتا ہے۔

آخر میں، یہ رواج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ثقافتی روایات کو جدید دور میں زندہ رکھنا ممکن ہے، جو نہ صرف صحت بلکہ معاشی اور سماجی فوائد بھی دیتا ہے۔ چین کی TCM کی یہ جڑیں عالمی سطح پر قدرتی علاج کی تحریک کو تقویت دیں گی، اور ایسے ٹرینڈز سے ہم اپنے روایتی علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا سیکھ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین