ایڑی میں درد ایک عام جسمانی شکایت ہے، تاہم ہر بار اسے معمولی تکلیف سمجھ کر نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ یہ درد ایڑی کے اندرونی یا پچھلے حصے کے علاوہ اس کے اطراف میں بھی محسوس ہوسکتا ہے، جبکہ اس کی شدت مختلف افراد میں مختلف ہوسکتی ہے۔
طبی معلومات کے مطابق ایڑی پر مسلسل یا غیر معمولی دباؤ، جسمانی سرگرمی میں اچانک اضافہ اور کسی قسم کی چوٹ اس تکلیف کی عام وجوہات میں شامل ہیں۔ انسانی پاؤں میں 26 ہڈیاں، 33 جوڑ اور 100 سے زائد پٹھے اور دیگر عضلاتی ساختیں موجود ہوتی ہیں، جبکہ ایڑی پاؤں کی سب سے بڑی ہڈی پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے اس حصے پر پڑنے والا مسلسل دباؤ مختلف مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
روزمرہ سرگرمیوں کے دوران ایڑی پر مسلسل دباؤ یا چوٹ بعض اوقات معمولی نوعیت کے درد سے لے کر شدید تکلیف تک کا سبب بن سکتی ہے۔ خاص طور پر وہ افراد جو ورزش یا جسمانی سرگرمی میں اچانک اضافہ کرتے ہیں، ان میں ایڑی سے متعلق مسائل پیدا ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
ایڑی کے درد کی نمایاں وجوہات میں پلانٹر فیشیائٹس شامل ہے۔ اس کیفیت میں پاؤں اور ایڑی کو سہارا دینے والے ٹشوز پر زیادہ دباؤ پڑنے سے سوزش یا نقصان پیدا ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایڑی میں درد محسوس ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ بعض افراد میں روزمرہ چلنے پھرنے کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
ورزش یا دیگر جسمانی سرگرمیوں کے دوران ایڑی کو لگنے والی چوٹ بھی درد کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی طرح ایکیلس ٹینڈنائٹس ایک اور ممکنہ وجہ ہے، جس میں پنڈلی کے پٹھوں کو ایڑی کی ہڈی سے ملانے والے ایکیلس ٹینڈن میں سوزش یا انجری پیدا ہوجاتی ہے۔
اس کے علاوہ جوڑوں کی بعض بیماریاں، پاؤں یا ٹخنے کی موچ اور دیگر مسائل بھی ایڑی کے درد کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس لیے صرف درد کی موجودگی کی بنیاد پر خود سے کسی ایک بیماری کی تشخیص کرنا مناسب نہیں، بلکہ مسلسل یا غیر معمولی تکلیف کی صورت میں اصل وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
کن علامات پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟
اگر ایڑی کا درد اچانک بہت شدید ہوجائے، ایڑی یا اس کے اطراف میں سرخی اور سوجن نمودار ہو یا چلنے پھرنے میں دشواری ہونے لگے تو طبی معائنہ ضروری ہے۔
اسی طرح اگر گھر میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود درد دو سے تین ہفتوں میں بہتر نہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ درد کی اصل وجہ معلوم کی جاسکے اور مناسب علاج تجویز کیا جا سکے۔
معمولی درد کی صورت میں کچھ عرصے کے لیے زیادہ دیر کھڑے رہنے اور ایسی سرگرمیوں سے گریز کیا جاسکتا ہے جن سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہو۔ متاثرہ حصے پر روزانہ دو مرتبہ 10 سے 15 منٹ تک برف کی ٹکور بھی کی جاسکتی ہے۔
عام درد کش دوا ضرورت کے مطابق استعمال کی جاسکتی ہے، تاہم اسے باقاعدگی سے لینے سے پہلے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے، خصوصاً اگر کسی شخص کو پہلے سے کوئی بیماری ہو یا وہ دوسری ادویات استعمال کررہا ہو۔
ایسے جوتوں کا انتخاب بھی اہم ہے جو پاؤں کو مناسب سہارا فراہم کریں اور ایڑی پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں۔ آرام کے دوران پاؤں کو قدرے اونچا رکھنا بھی بعض افراد کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔
ایڑی کے درد سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
ایڑی کے مسائل سے بچنے کے لیے جسمانی وزن کو صحت مند حد میں رکھنا، متوازن غذا لینا اور پاؤں میں تھکن محسوس ہونے پر مناسب آرام کرنا اہم ہے۔ ورزش یا جسمانی سرگرمی کے دوران شدت اچانک بڑھانے کے بجائے اسے بتدریج بڑھانا بھی انجری کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
خاص طور پر ورزش کرنے والے افراد کے لیے ضروری ہے کہ جسمانی سرگرمی میں اضافہ مرحلہ وار کریں اور ایسے جوتے استعمال کریں جو پاؤں اور ایڑی کو مناسب سہارا فراہم کرتے ہوں۔ مسلسل درد کی صورت میں ورزش جاری رکھنے کے بجائے طبی مشورہ لینا زیادہ مناسب ہے۔
ایڑی کا درد بظاہر ایک معمولی شکایت محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پلانٹر فیشیائٹس، ایکیلس ٹینڈنائٹس، چوٹ، موچ اور جوڑوں کے مسائل میں علامات کی نوعیت مختلف ہوسکتی ہے۔ اس لیے مسلسل یا شدید درد کو صرف وقتی تکلیف سمجھنے کے بجائے اس کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔
عوامی رائے
عام طور پر لوگ ایڑی کے درد کو تھکن یا زیادہ چلنے پھرنے کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ تاہم اگر درد برقرار رہے یا اس کے ساتھ سوجن، سرخی اور چلنے میں دشواری بھی پیدا ہوجائے تو طبی معائنہ کرانا زیادہ مناسب ہے۔
ماہرین کی رائے
ایڑی کے درد میں ابتدائی احتیاط، مناسب آرام، برف کی ٹکور اور پاؤں کو مناسب سہارا دینے والے جوتوں کا استعمال بعض معمولی صورتوں میں مددگار ہوسکتا ہے۔ تاہم مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں خود تشخیص یا طویل عرصے تک خود علاج کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔
ایڑی جسم کے وزن کو سہارا دینے والے پاؤں کے اہم حصوں میں شامل ہے، اس لیے اس میں مسلسل درد روزمرہ زندگی اور چلنے پھرنے کو متاثر کرسکتا ہے۔ بروقت احتیاط اور علامات کی صورت میں طبی مشورہ پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ایڑی میں کبھی کبھار ہونے والا معمولی درد ہر بار خطرے کی علامت نہیں ہوتا، لیکن اچانک شدید درد، سوجن، سرخی، چلنے میں مشکل یا کئی ہفتوں تک درد برقرار رہنے کی صورت میں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اصل وجہ معلوم ہونے کے بعد ہی مناسب علاج کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔





















