واٹس ایپ نے کم عمر اور نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے والدین کو مزید کنٹرول فراہم کرنے والے نئے ٹولز متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان اختیاری پیرنٹل کنٹرولز کا مقصد والدین کو اپنے بچوں کے واٹس ایپ تجربے کی نگرانی اور بعض پرائیویسی و فیچر سیٹنگز کو عمر کے مطابق ترتیب دینے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
نئے نظام کے تحت والدین اپنے بچے یا نوجوان کے واٹس ایپ اکاؤنٹ کو اپنے اکاؤنٹ کے ساتھ لنک کرکے بعض سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات حاصل کرسکیں گے۔ والدین کو یہ معلوم ہوسکے گا کہ بچہ کسی نئے گروپ میں شامل ہوا ہے یا نیا گروپ بنایا ہے، جبکہ بعض دیگر سرگرمیوں سے متعلق نوٹیفکیشنز بھی اپنی ترجیحات کے مطابق فعال یا غیر فعال کیے جاسکیں گے۔
واٹس ایپ کے مطابق والدین کو بچوں کی نجی گفتگو پڑھنے کی سہولت نہیں دی جائے گی۔ بچوں کے ذاتی پیغامات اور کالز بدستور اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کے تحت محفوظ رہیں گے، جس کا مطلب ہے کہ چیٹ کے باہر موجود افراد، حتیٰ کہ والدین یا خود واٹس ایپ، ان نجی پیغامات اور کالز کو پڑھ یا سن نہیں سکتے۔
نئے پیرنٹل کنٹرولز کے ذریعے والدین بچوں کی بعض پرائیویسی سیٹنگز بھی مقرر کرسکیں گے۔ مثال کے طور پر یہ طے کیا جاسکے گا کہ بچے کی پروفائل تصویر یا دیگر معلومات کون دیکھ سکتا ہے اور کون اسے گروپس میں شامل کرسکتا ہے۔ اگر بچہ بعض مقررہ سیٹنگز میں تبدیلی کرنا چاہے تو والدین کی جانب سے مقرر کردہ پن کوڈ کے ذریعے اجازت درکار ہوسکتی ہے۔
واٹس ایپ نے گروپس سے متعلق والدین کے لیے بھی اضافی نگرانی کا آپشن دیا ہے۔ والدین کو بچے کے کسی گروپ میں شامل ہونے یا گروپ بنانے کے بارے میں اطلاع مل سکتی ہے، جبکہ کسی گروپ کے اراکین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہونے پر بھی اطلاع دی جاسکتی ہے۔ والدین اپنی ضرورت کے مطابق بعض سرگرمیوں کی اطلاعات کو ترجیح دے سکتے ہیں۔
نئے نظام میں چینلز، اسٹیٹس اور میٹا اے آئی جیسے فیچرز کے لیے بھی والدین کو کنٹرول فراہم کیے گئے ہیں۔ والدین یہ طے کرسکتے ہیں کہ ان کا بچہ کون سے چینلز دیکھ سکتا ہے، صرف والدین کی منظوری والے چینلز تک رسائی رکھ سکتا ہے یا چینلز استعمال ہی نہ کرے۔ اسی طرح چینل بنانے کی اجازت بھی والدین کی جانب سے محدود کی جاسکتی ہے۔
میٹا اے آئی کے حوالے سے بھی والدین کے لیے مختلف سطح کی سیٹنگز موجود ہیں۔ واٹس ایپ کے مطابق والدین اپنے بچے کے لیے میٹا اے آئی کے استعمال کو معیاری یا محدود تجربے تک محدود کرسکتے ہیں، تاکہ کم عمر صارف کے لیے دستیاب موضوعات کو مزید محدود کیا جاسکے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ نئے پیرنٹل کنٹرولز اختیاری ہیں اور ان کے استعمال کے لیے والدین یا سرپرست کو بچے کے اکاؤنٹ سے اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ لنک کرنا ہوگا۔ واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچرز مرحلہ وار متعارف کرائے جارہے ہیں، اس لیے ممکن ہے کہ تمام صارفین کو یہ سہولیات ایک ہی وقت میں دستیاب نہ ہوں۔
واٹس ایپ پہلے ہی کم عمر بچوں کے لیے Parent-managed Accounts کے نام سے ایک الگ نظام بھی متعارف کراچکا ہے، جس میں والدین یا قانونی سرپرست بچے کے اکاؤنٹ کو ترتیب دیتے ہیں اور یہ طے کرسکتے ہیں کہ بچہ کن لوگوں سے رابطہ کرسکتا ہے اور کن گروپس میں شامل ہوسکتا ہے۔ ایسے اکاؤنٹس میں بنیادی توجہ پیغام رسانی اور کالز پر رکھی گئی ہے۔
واٹس ایپ کی جانب سے ان تبدیلیوں کا مقصد والدین کو بچوں کے آن لائن تجربے میں رہنمائی کا زیادہ اختیار دینا ہے، تاہم کمپنی نے ساتھ ہی نجی گفتگو کے تحفظ کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔ اس طرح والدین کو بچے کی بعض سرگرمیوں اور فیچرز سے متعلق معلومات تو حاصل ہوسکتی ہیں، لیکن نجی چیٹس تک براہ راست رسائی فراہم نہیں کی گئی۔
واٹس ایپ کے نئے پیرنٹل کنٹرولز میں بنیادی توجہ نگرانی کے بجائے والدین کو محدود اور مخصوص اختیارات فراہم کرنے پر ہے۔ والدین گروپس، پرائیویسی، چینلز، اسٹیٹس اور میٹا اے آئی جیسے فیچرز کے استعمال کو اپنی ترجیحات کے مطابق ترتیب دے سکتے ہیں، جبکہ نجی چیٹس اور کالز کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن برقرار رکھی گئی ہے۔
عوامی رائے
بچوں کے سوشل میڈیا اور میسجنگ پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے والدین کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ نگرانی اور نجی زندگی کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ واٹس ایپ کا نیا نظام اسی توازن کے لیے مخصوص کنٹرولز فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ماہرین کی رائے
آن لائن سیفٹی کے تناظر میں والدین کے لیے پرائیویسی سیٹنگز، گروپ رسائی اور مصنوعی ذہانت کے فیچرز کو محدود کرنے کے اختیارات مفید ہوسکتے ہیں۔ تاہم کسی بھی پیرنٹل کنٹرول سسٹم کے ساتھ بچوں کو آن لائن پرائیویسی، مشکوک رابطوں اور محفوظ انٹرنیٹ استعمال کے بارے میں آگاہ کرنا بھی اہم رہتا ہے۔
واٹس ایپ کے نئے فیچرز سے والدین کو بچوں کے اکاؤنٹس پر مخصوص نوعیت کا کنٹرول حاصل ہوگا، تاہم نجی گفتگو کو پڑھنے کی سہولت نہ دینا کمپنی کی جانب سے پرائیویسی اور والدین کی نگرانی کے درمیان ایک واضح حد برقرار رکھنے کی کوشش ظاہر کرتا ہے۔
نئے پیرنٹل کنٹرولز میں سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ والدین بچے کی ہر چیٹ دیکھنے کے بجائے مخصوص سرگرمیوں اور فیچرز کو کنٹرول کرسکیں گے۔ گروپس، چینلز، اسٹیٹس اور میٹا اے آئی کے لیے دستیاب اختیارات والدین کو عمر کے مطابق سیٹنگز ترتیب دینے میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ نجی پیغامات اور کالز کی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن برقرار رہے گی





















