بھارت خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے، آئی ایس پی آر

بھارت کی 'غیر ضروری گھمنڈ' اور 'متنازند' بیانات کو خطے کے لیے 'سنگین خطرہ' قرار ہے

پاک فوج نے بھارتی فوجی قیادت کے متنازعہ بیانات کو ایک طنز آمیز اور پر اعتماد جواب دیا ہے، جو جنوبی ایشیا کی سیاسی اور عسکری سطح پر ایک نئی ہلچل مچا رہا ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں بھارت کو سرحد پار دہشت گردی کا ‘حقیقی چہرہ’ اور علاقائی عدم استحکام کا ‘مرکز’ قرار دیا گیا، جو بھارتی انتخابی مہم کے پس منظر میں جاری پروپیگنڈا کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ ردعمل نہ صرف بھارتی عسکری مشین کی ‘غلط بیانی’ پر طنز کرتا ہے بلکہ پاکستانی قوم اور مسلح افوامی کی دفاعی صلاحیتوں پر فخر کا اظہار بھی کرتا ہے، جو کسی بھی جارحانہ اقدام کا ‘تیز اور فیصلہ کن’ جواب دینے کا عزم رکھتی ہے۔ یہ بیان معرکہ حق کے 5 ماہ بعد سامنے آیا، جو بھارتی قیادت کی ‘تاریخ کی من پسند شکل’ دینے کی کوششوں کو چیلنج کرتا ہے۔

بھارتی بیانات کا پس منظر

آئی ایس پی آر کا یہ بیان بھارتی فوجی قیادت کے روایتی اور اشتعال انگیز پروپیگنڈا پر مبنی ہے، جو ہر ریاستی انتخاب سے قبل دہرایا جاتا ہے۔ ایک ایٹمی قوت کی قیادت کا سیاسی دباؤ میں آ کر ‘غیر ذمہ دارانہ’ بیانات جاری کرنا افسوسناک ہے، جو بھارتی عوام اور عالمی برادری کے سامنے اس کی عسکری مشین کو ‘مزاح کا نشانہ’ بنا رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی پریس ریلیز میں تضادات اتنی واضح ہیں کہ ان کا جواب دینا مناسب نہیں، جو بھارتی قیادت کی ‘غلط بیانی’ اور ‘فلمی مناظر’ کی کوششوں کی ناکامی کو واضح کرتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف بھارتی انتخابی مہم کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

بھارت کی ‘غلبہ پسند’ پالیسی

آئی ایس پی آر نے بھارت کی ‘غیر ضروری گھمنڈ’ اور ‘متنازند’ بیانات کو خطے کے لیے ‘سنگین خطرہ’ قرار دیا، جو مہم جوئی اور غلبہ پسندی کی پالیسیوں پر مبنی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ دنیا بھارت کو سرحد پار دہشت گردی کا ‘حقیقی چہرہ’ اور علاقائی عدم استحکام کا ‘مرکز’ تسلیم کر رہی ہے، جو اس کی پالیسیوں کا نقصان نہ صرف عوام بلکہ ہمسایہ ممالک کو بھی پہنچا رہا ہے۔ یہ تنقید بھارتی قیادت کی تاریخ کو ‘اپنی من پسند شکل’ دینے کی کوششوں پر مبنی ہے، جو معرکہ حق کی ‘فیصلہ کن شکست’ کو قبول کرنے سے قاصر ہے۔ یہ بیان نہ صرف بھارتی پروپیگنڈا کی ناکامی کو واضح کرتا ہے بلکہ علاقائی امن کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو بھارتی پالیسیوں کی تباہ کاری کو روکنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

پاکستانی قوم کا عزم

ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستانی قوم اور مسلح افواج ملکی سالمیت کے دفاع کے لیے ‘پوری طرح اہل’ اور ‘مصمم عزم’ رکھتی ہیں، جو کسی بھی جارحانہ اقدام کا ‘تیز، فیصلہ کن، اور شدید’ جواب دیں گی۔ یہ جواب ‘آئندہ نسلوں کے لیے یادگار’ ہوگا، جو پھر سے دفاعی صلاحیتوں اور قومی اتحاد کی طاقت کو واضح کرتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف بھارتی دھمکیوں کا رد ہے بلکہ پاکستانی عوام کی دفاعی تیاریوں کی ایک واضح تصویر بھی پیش کرتا ہے، جو علاقائی امن کی ضمانت ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

آئی ایس پی آر کا یہ بیان سوشل میڈیا پر فوری ردعمل پیدا کر چکا ہے، جہاں پاکستانی صارفین نے اسے ‘حقیقت کی آئینہ’ قرار دیا، جیسے "بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو گیا”۔ بھارتی صارفین نے اسے ‘پروپیگنڈا’ کہا، جو دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔ یہ ردعمل نہ صرف بیان کی اہمیت کو بڑھاتا ہے بلکہ علاقائی امن کی ضرورت پر بھی غور و خوض کو فروغ دیتا ہے۔

اہم نکات کا خلاصہ جدول

پہلو تفصیلات
بھارتی بیانات انتخابی مہم میں پروپیگنڈا؛ غیر ذمہ دارانہ، تضادات سے بھرپور
آئی ایس پی آر کا ردعمل بھارت کو دہشت گردی کا مرکز؛ گھمنڈ علاقائی خطرہ
پاکستانی عزم دفاعی صلاحیت پوری، جواب تیز اور فیصلہ کن؛ نسلوں کی یادگار
بھارتی پالیسی مہم جوئی، غلبہ پسندی؛ تاریخ کی غلط بیانی
سوشل میڈیا ردعمل پاکستانی فخر، بھارتی تنقید؛ امن کی ضرورت

آئی ایس پی آر کا یہ بیان بھارتی فوجی پروپیگنڈا پر ایک طنز آمیز اور پر اعتماد جواب ہے، جو معرکہ حق کی ‘فیصلہ کن شکست’ کو تسلیم کرنے سے قاصر بھارتی قیادت کو آئینہ دکھاتا ہے۔ ‘غلط بیانی’ اور ‘فلمی مناظر’ کی تنقید بھارتی انتخابی مہم کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے، جبکہ بھارت کو ‘دہشت گردی کا مرکز’ کہنا علاقائی عدم استحکام کی ذمہ داری کو واپس لوٹاتا ہے۔ پاکستانی عزم کا ‘تیز جواب’ کا وعدہ دفاعی صلاحیتوں کی طاقت کو واضح کرتا ہے، جو بھارتی ‘گھمنڈ’ کو چیلنج کرتا ہے۔

تاہم، یہ بیان تناؤ بڑھا سکتا ہے، جو سفارتی مذاکرات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کی فخر کی لہر قومی اتحاد کو مضبوط کرتی ہے، جو امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ بیان علاقائی امن کی جانب ایک سفارتی کشمکش ہے، جو پاکستان کی دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرتا ہے – یہ ایک ایسا لمحہ ہے جو سیاسی پروپیگنڈا کو ناکام بنا سکتا ہے، بشرطیکہ سفارتی کوششیں جاری رہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین