اسلام آباد / نیویارک :عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کی معیشت میں 3 فیصد کی توسیع ریکارڈ کی گئی ہے، جو گزشتہ سال کی 2.6 فیصد شرح نمو سے کچھ بہتر ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلاب کے باعث آنے والے مالی سال میں بھی ترقی کی رفتار اسی سطح پر محدود رہنے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی بینک کی رپورٹ، جس کا عنوان ’’ترقی اور روزگار کے راستے پر قائم رہنا‘‘ ہے، میں واضح کیا گیا کہ جون 2025 میں اختتام پذیر مالی سال کے دوران پاکستان نے نسبتاً بہتر معاشی کارکردگی دکھائی۔ اس بہتری کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما رہے، جن میں مالیاتی نظم و ضبط، موزوں مانیٹری پالیسی اور اعتماد کی بحالی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کی مالیاتی پالیسی نے مہنگائی پر قابو پانے، بیرونی کھاتوں کے توازن کو بہتر کرنے اور مالی خسارے میں کمی لانے میں مدد فراہم کی۔ ان پالیسیوں نے ملک کی معیشت کو مشکل عالمی حالات کے باوجود ایک مضبوط بنیاد فراہم کی، جب کہ صنعتی اور خدماتی شعبوں میں بہتری کا رجحان برقرار رہا۔
اسے بھی پڑھیں: دس کھرب ڈالر سیلری پیکج پر تنازع، ایلون مسک کی ٹیسلا چھوڑنے کی دھمکی
البتہ رپورٹ میں اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ زرعی شعبہ گزشتہ سالوں کی طرح اس بار بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔ اس کی بنیادی وجوہات میں غیر موافق موسمی حالات، کیڑوں کی وبائیں اور زرعی زمینوں کی تباہی شامل ہیں، جنہوں نے فصلوں کی پیداوار کو متاثر کیا۔
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ مجموعی طور پر پاکستان کے لیے معاشی امکانات مثبت دکھائی دیتے ہیں، مگر حالیہ شدید بارشوں اور سیلابوں نے اس ترقی کی رفتار کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ قدرتی آفات نہ صرف شہری آبادیوں کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ زرعی معیشت کو بھی سخت دھچکا لگا رہی ہیں، جس کے اثرات آئندہ کئی ماہ تک محسوس کیے جائیں گے۔
پاکستان کے لیے عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آنگاابازر نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ سیلابوں نے انسانی زندگیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی معیشت کو بھی گہرے زخم دیے ہیں۔ ان کے مطابق اس تباہی نے نہ صرف ترقی کے امکانات کو کمزور کیا بلکہ ملک کے مالی استحکام پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیلابوں سے ہونے والے نقصانات نے غربت میں اضافے اور روزگار کے مواقع میں کمی کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کو نہ صرف فوری ریلیف اقدامات بلکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے تاکہ معیشت دوبارہ مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہو سکے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی محمد کاشف جان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی معیشت اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ترقی کی امیدیں اور خطرات دونوں ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ عالمی بینک کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ معیشت میں اعتدال پسند بہتری دیکھنے میں آئی ہے، مگر یہ بہتری اب بھی غیر مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے۔
3 فیصد کی شرح نمو اگرچہ ماضی کے مقابلے میں کچھ بہتر ہے، لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ رفتار پائیدار ترقی کے لیے ناکافی سمجھی جاتی ہے۔ ملک کو نہ صرف سیلابوں، موسمی تبدیلیوں اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے بلکہ توانائی بحران، برآمدات میں کمی اور مہنگائی جیسے اندرونی چیلنجز بھی اس کی راہ میں حائل ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہوگی جب حکومت زراعت، صنعت اور برآمدات کے شعبوں میں جامع اصلاحات نافذ کرے۔ زرعی شعبہ جو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بار بار قدرتی آفات اور ناقص منصوبہ بندی کا شکار ہوتا رہا ہے۔ اگر اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، پانی کے مؤثر استعمال اور زمینوں کی بحالی پر توجہ دی جائے تو معیشت کو نمایاں سہارا مل سکتا ہے۔
مزید برآں، پاکستان کو اپنی ماحولیاتی پالیسیوں پر بھی ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور غیر معمولی بارشوں کے نتیجے میں آنے والے سیلابوں نے واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی خطرات اب محض سائنسی بحث نہیں بلکہ براہِ راست معاشی خطرہ بن چکے ہیں۔
عالمی بینک کی یہ رپورٹ ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان کے لیے پائیدار ترقی کا راستہ صرف مالیاتی نظم سے نہیں بلکہ جامع معاشی منصوبہ بندی، موسمیاتی لچک اور عوامی فلاحی پروگراموں سے ممکن ہے۔
اگر حکومت بہتر حکمتِ عملی اپناتی ہے، نجی شعبے کو فعال کردار دیتی ہے اور زرعی و صنعتی اصلاحات پر عملدرآمد یقینی بناتی ہے تو آنے والے برسوں میں پاکستان نہ صرف معاشی استحکام حاصل کر سکتا ہے بلکہ علاقائی سطح پر مضبوط اقتصادی قوت بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔





















