کراچی :چیئرمین ایئر کراچی و معروف بزنس مین حنیف گوہر نے ایک حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تربیلا ڈیم کی مٹی میں 636 ارب ڈالر مالیت کے سونے کے ذخا موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان اور آرمی چیف کو باضابطہ بریفنگ دی جاچکی ہے ، اور آرمی چیف نے اس انکشاف پر فوری مثبت ردعمل دیا ہے۔
کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف گوہر نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے غوطہ خوروں کے ذریعے تربیلا ڈیم کے اندر سے مٹی کے نمونے حاصل کیے ، جنہیں مختلف لیبارٹریز میں ٹیسٹ کیا گیا ۔
ان کے مطابق "ہم نے مٹی کے نمونوں میں سونے کی آمیزش کی شرح معلوم کی، پھر اس شرح کو ڈیم کے سونے سے بھرپور حصے کی کل کیوبک فٹ مٹی سے ضرب دی، جس کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا کہ تربیلا ڈیم کی مٹی میں تقریباً 636 ارب ڈالر مالیت کا سونا موجود ہے۔”
حکومتی و عسکری سطح پر بریفنگ
حنیف گوہر نے مزید بتایا کہ اس انکشاف کے بعد انہوں نے وزیراعظم اور آرمی چیف دونوں کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا ۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آرمی چیف کو بتایا کہ تربیلا ڈیم میں سونے کے ذخائر موجود ہیں اور اس مٹی کو نکالنے کی فوری ضرورت ہے۔ تربیلا ڈیم کو بنے ہوئے ساٹھ سال گزر چکے ہیں مگر ایک بار بھی اس کی مٹی نہیں نکالی گئی۔”
ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے اس پر ایس آئی ایف سی (Special Investment Facilitation Council) کے سربراہ جنرل سرفراز کو ذمہ داری سونپی۔ بعد ازاں وہ جی ایچ کیو گئے جہاں جنرل سرفراز کو تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کے بعد یہ معاملہ اُس وقت کے چیئرمین واپڈا سجاد غنی کے حوالے کیا گیا۔
نجی سرمایہ کاری کی پیشکش
حنیف گوہر نے بتایا کہ انہوں نے چیئرمین واپڈا کو تجویز دی کہ یا تو واپڈا خود یہ منصوبہ مکمل کرے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ان کی کمپنی خود سرمایہ کاری کرکے ڈریجنگ کا کام مکمل کرے گی ۔
انہوں نے کہا:
ہماری پیشکش ہے کہ ہم ڈیم کی مٹی سے سونا نکالنے کا مکمل کام خود کریں گے، اور حاصل شدہ سونا سو فیصد حکومتِ پاکستان کے حوالے کردیا جائے گا ۔ ہم حکومت کے جواب کے منتظر ہیں۔”
عالمی پارٹنرشپ کی تیاری
چیئرمین ایئر کراچی نے مزید بتایا کہ اس مقصد کے لیے وہ ہالینڈ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کرچکے ہیں، کیونکہ ڈریجنگ کے جدید ترین منصوبے اسی ملک میں کیے جاتے ہیں۔
ایمسٹرڈیم اور کینیڈا میں ہمارے پارٹنرز موجود ہیں، جن سے بات چیت مکمل ہوچکی ہے۔ اگر حکومت اجازت دے تو ہم اس منصوبے کو فوری طور پر شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ تربیلا کے سونے کے ذخائر ملک کے قرضے ختم کرسکتے ہیں۔”
ایئر کراچی کے آپریشنز پر اعلان
حنیف گوہر نے اس موقع پر ایئر کراچی کے فضائی آپریشن سے متعلق تفصیلات بھی بتائیں۔
انہوں نے کہا کہ:
ایئر کراچی کا ڈومیسٹک آپریشن 23 مارچ سے شروع ہوگا، جس میں تین سے پانچ ایئربس طیارے شامل ہوں گے۔ یہ اندرونِ ملک پروازیں ایک سال تک جاری رہیں گی ، اس کے بعد بین الاقوامی آپریشن کا آغاز کیا جائے گا۔”
حیدرآباد میں فائیو اسٹار معیار کا فور اسٹار ہوٹل
کاروباری منصوبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف گوہر نے بتایا کہ حیدرآباد میں پہلی بار ایک فور اسٹار ہوٹل تعمیر کیا جا رہا ہے جو پانچ ایکڑ رقبے پر محیط ہوگا ۔
انہوں نے کہا کہ کنسٹرکشن انڈسٹری ملک کی اقتصادی بحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن افسوس کہ کراچی میں نظام بیک فٹ پر کام کر رہا ہے، فرنٹ فٹ پر نہیں۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ ارضیات اور اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تربیلا ڈیم میں سونے کی موجودگی کے یہ دعوے سائنسی اعتبار سے درست ثابت ہوجاتے ہیں تو پاکستان کی معیشت کے لیے یہ ایک تاریخی موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرِ معدنیات ڈاکٹر فاروق احمد کے مطابق:
پاکستان میں سونے کے چھوٹے ذخائر کی موجودگی کا پہلے بھی کئی بار عندیہ دیا گیا ہے، لیکن اگر تربیلا ڈیم جیسی بڑی جگہ پر سونا واقعی موجود ہے تو یہ ملک کے لیے گیم چینجر ہوگا۔ البتہ اس کے لیے جدید جیولوجیکل ویریفکیشن اور بین الاقوامی اسٹینڈرڈز کے مطابق لیبارٹری ٹیسٹ ناگزیر ہیں۔”
ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر حنا فاطمہ کا کہنا ہے کہ:636 ارب ڈالر مالیت کا سونا اگر جزوی طور پر بھی حاصل ہو جائے تو پاکستان کا بیرونی قرضہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں تاریخی اضافہ ممکن ہے۔ تاہم اس منصوبے کی شفاف نگرانی، ماحولیات کے تحفظ اور بین الاقوامی شراکت داری ناگزیر ہے۔”
تجزیہ
تربیلا ڈیم میں سونے کے ذخائر کی موجودگی کا انکشاف اگر سچ ثابت ہوتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے معاشی آزادی کی سمت پہلا بڑا قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ منصوبہ نہ صرف ملکی قرضوں کی ادائیگی میں مددگار ہوسکتا ہے بلکہ ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرسکتا ہے۔
حنیف گوہر کی یہ پیشکش کہ وہ بغیر حکومتی سرمایہ کے، اپنی کمپنی کے ذریعے یہ کام مکمل کرکے سونا ملک کے حوالے کرنے کو تیار ہیں ، یقیناً ایک قابلِ تعریف قومی جذبہ ہے۔
اگر حکومت اس منصوبے کو شفاف، تکنیکی اور ماحولیاتی اصولوں کے مطابق آگے بڑھائے تو پاکستان نہ صرف معدنی وسائل میں خودکفیل ہوسکتا ہے بلکہ خطے میں ایک معاشی طور پر مضبوط ملک کے طور پر ابھر سکتا ہے۔





















