لاہور (خصوصی رپورٹ :رمیض حسین)صوبائی دارالحکومت میں جرائم پیشہ افراد کی نقل و حرکت پر مؤثر نظر رکھنے کے لیے لاہور پولیس اور سیف سٹی اتھارٹی نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا باقاعدہ استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں شہر کے چھ بڑے داخلی راستوں پر ہائی ٹیک فیشل ریکگنیشن کیمرے نصب کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے سیف سٹی کے ڈیٹا بیس میں موجود ہر مطلوب شخص کی لاہور میں داخلے کے ساتھ ہی شناخت اور گرفتاری کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کیمرے ناکوں سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر لگائے گئے ہیں، جو گاڑیوں میں موجود افراد کے چہرے اسکین کرکے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی جدید سافٹ ویئر کے ذریعے فوری الرٹ جاری کرتے ہیں۔ جیسے ہی سسٹم کسی مشکوک شخص کی نشاندہی کرتا ہے، ناکے پر موجود اہلکار لمحوں میں کارروائی کرتے ہوئے گاڑی یا ڈرائیور کو روک کر ضروری قانونی اقدامات کر سکتے ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق لاہور پولیس نے تمام ناکوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے، اور ٹیکنالوجی سے مدد لے کر شہر کے سکیورٹی سسٹم کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام نہ صرف جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں کو محدود کرے گا بلکہ بروقت اور مؤثر گرفتاری کو بھی یقینی بنائے گا، جس سے مجموعی طور پر شہر میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔
اسے بھی پڑھیں: بھارت :جرائم کی شرح میں خطرناک اضافہ، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو رپورٹ نے ہلچل مچادی
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی رمیض حسین نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا لاہور میں فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا نفاذ سکیورٹی کے جدید تقاضوں کے مطابق ایک انتہائی اہم اور بروقت قدم ہے۔ بڑے شہروں میں جرائم کی پیچیدہ شکلیں اور مجرموں کی تیز رفتار نقل و حرکت روایتی پولیس نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ ایسے میں لاہور پولیس اور سیف سٹی اتھارٹی کی جانب سے داخلی راستوں پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی چہرہ شناسائی سسٹم کی تنصیب نہ صرف نگرانی کو مؤثر بناتی ہے بلکہ جرائم کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ کسی بھی مطلوب یا مشکوک شخص کو شہر میں داخل ہوتے ہی شناخت کر سکیں، جس سے بروقت کارروائی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس سسٹم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسانی غلطی کو کم اور سکیورٹی کے معیار کو بلند کرتا ہے، کیونکہ کیمرے مسلسل 24 گھنٹے بغیر کسی وقفے کے کام کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ ناکوں سے کچھ فاصلے پر کیمروں کی تنصیب ایک حکمتِ عملی ہے، جس سے اہلکاروں کو الرٹ ملتے ہی کارروائی کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے پولیس کو نہ صرف جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری میں آسانی ہوگی بلکہ شہریوں کے تحفظ کا دائرہ بھی وسیع ہو گا۔ تاہم، اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ سیف سٹی کا ڈیٹا بیس کتنا جامع، بروقت اپڈیٹڈ اور درست ہے۔ اگر ریکارڈ مکمل اور درست ہو، تو یہ نظام لاہور کی سکیورٹی کا نقشہ بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ اقدام جدید دنیا میں سکیورٹی کے بدلتے ہوئے رجحانات سے ہم آہنگ ہے اور لاہور پولیس کو ہائی ٹیک سکیورٹی ماڈل کی طرف لے جانے کی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
سکیورٹی ماہرین اس اقدام کو لاہور کے حفاظتی ڈھانچے میں ایک بڑی پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیشل ریکگنیشن کیمرے صرف نگرانی کا نظام نہیں بلکہ ایک ایسی ٹیکنالوجیکل باڑ ہیں جو جرائم پیشہ افراد کے لیے شہروں میں آزادانہ نقل و حرکت مشکل بنا دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید شہروں میں سکیورٹی کے لیے صرف گشت، چوکیاں اور روایتی ناکے کافی نہیں رہتے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کو مربوط کیے بغیر بڑے شہری مراکز کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ممکن نہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ لاہور میں نصب کیے جانے والے کیمرے صرف چہرہ شناخت نہیں کرتے بلکہ ان کی ریزولوشن، زاویۂ دید، اور الرٹ سسٹم انہیں خطے کے جدید ترین سکیورٹی ٹولز میں شامل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نظام نہ صرف مطلوب افراد کی نشاندہی کرے گا بلکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں میں بھی بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ حساس شہروں میں داخلی راستے سب سے اہم ہوتے ہیں۔
سماجی ماہرین اس اقدام کا ایک اور پہلو بھی اجاگر کرتے ہیں کہ جدید نگرانی کے سسٹم شہریوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں، جس سے کاروباری ماحول بہتر ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو حوصلہ ملتا ہے اور شہری اپنے روزمرہ معمولات میں زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ البتہ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایسے نظاموں کی کامیابی کیلئے ڈیٹا پرائیویسی، غلط نشاندہی کے روک تھام، اور سسٹم کی مسلسل اپ گریڈیشن بھی لازمی ہے۔
قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ جدید نگرانی کے نظام کے ساتھ شہری حقوق کے تحفظ کے لیے واضح ضابطۂ اخلاق اور قانون سازی بھی ضروری ہے تاکہ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف اور صرف جرائم کی روک تھام اور شہریوں کے تحفظ تک محدود رہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی معیار کے مطابق اگر نگرانی، پرائیویسی اور پولیسنگ کا توازن برقرار رکھا جائے تو لاہور کا یہ نیا سکیورٹی ماڈل ملک بھر میں ایک مثال بن سکتا ہے۔





















