لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں جمعرات کے روز نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف مذہبی اسکالر اور خطیب میر حمزہ زخمی ہو گئے، جبکہ اسی گاڑی میں موجود لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس نذیر غازی محفوظ رہے۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے اچانک گاڑی پر فائرنگ کی اور واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ میر حمزہ کو معمولی نوعیت کے زخم آئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کر دی گئی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال کسی کو حراست میں نہیں لیا جا سکا۔
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان حالیہ حملوں کی کڑی معلوم ہوتا ہے جن میں جماعۃ الدعوۃ سے وابستہ شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات مختلف شہروں میں پیش آ چکے ہیں، جس سے ایک منظم مہم کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
میر حمزہ ماضی میں اپنے ایک بیان کی وجہ سے خبروں میں آئے تھے، جس میں انہوں نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تعریف کی تھی، جس پر خاصی بحث ہوئی تھی۔
تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم بعض حلقوں کی جانب سے غیر ملکی مداخلت کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ماضی میں ایسے واقعات کے حوالے سے بھارت پر الزامات عائد کرتا رہا ہے، تاہم نئی دہلی نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔





















