تہران: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر Ismail Qaani نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ مزاحمتی محاذ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ خطے میں موجود مزاحمتی قوتیں مکمل طور پر فعال اور منظم ہیں اور دشمن کو اس بار بھی خالی ہاتھ واپس جانا پڑے گا۔
مزاحمتی محاذ کی تیاری
بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قاآنی کا کہنا تھا کہ پورے خطے میں مزاحمتی قوتیں متحد اور تیار ہیں، اور کسی بھی ممکنہ حملے یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں ایران اور اس کے اتحادی کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔
امریکا اور اسرائیل کو پیغام
قاآنی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے، کیونکہ وہ یمن، باب المندب اور بحیرہ احمر جیسے اہم علاقوں میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس بار بھی دشمن کو کسی قسم کی کامیابی حاصل نہیں ہوگی اور مزاحمتی قوتیں ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں گی۔
سمندری کشیدگی میں اضافہ
دوسری جانب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی کی جا رہی ہے، جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکا یا قبضے میں لیا جا سکتا ہے۔
یہ صورتحال خطے میں سمندری کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب اہم بحری راستے عالمی تجارت اور توانائی کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ممکنہ عالمی اثرات
ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی برقرار رہی یا مزید بڑھی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، خاص طور پر تیل کی ترسیل اور تجارتی راستوں پر پڑ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی بے چینی کا باعث بن سکتی ہے۔
ایران کی جانب سے دیا گیا یہ بیان محض ایک دفاعی اعلان نہیں بلکہ ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کو خبردار کرنا اور اپنے اتحادیوں کو حوصلہ دینا ہے۔
قدس فورس خطے میں ایران کی پالیسی کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے، اور اس کے کمانڈر کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہے۔
دوسری جانب امریکی ناکہ بندی کی اطلاعات اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ صورتحال محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے، جو کسی بھی وقت بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ کشیدگی عالمی توانائی بحران، تجارتی رکاوٹوں اور سیاسی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔





















