مذاکرات ناکام، امریکا کی نئی حکمت عملی سامنے آ گئی

امریکی قیادت کے پاس مکمل فضائی مہم شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے،ٹرمپ

واشنگٹن: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر Donald Trump ایران کے خلاف محدود فضائی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کی حکمت عملی بھی زیرِ بحث ہے۔

امریکی اخبار The Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ اقدامات ایسے وقت میں زیر غور آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

مذاکرات میں تعطل اور نئی حکمت عملی

رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کو مذاکرات میں تعطل ختم کرنے اور ایران پر دباؤ بڑھانے کے ایک ممکنہ طریقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی قیادت کے پاس مکمل فضائی مہم شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، تاہم اس آپشن کو فی الحال کم ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

محدود کارروائی یا مکمل جنگ؟

ذرائع کے مطابق محدود فضائی حملے ایک درمیانی راستہ سمجھے جا رہے ہیں، جس کے ذریعے دباؤ بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے اور مکمل جنگ سے بھی گریز کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ طویل المدتی جنگوں سے گریز کی پالیسی رکھتے ہیں، اسی لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کے بجائے محدود اقدامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

رپورٹ کے مطابق ایک اور اہم آپشن کے طور پر آبنائے ہرمز میں محدود مدت کی ناکہ بندی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکا اپنے اتحادی ممالک پر یہ دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے کی سیکیورٹی کے لیے طویل المدتی ذمہ داری سنبھالیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔

ممکنہ عالمی اثرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے محدود فضائی کارروائیاں یا ناکہ بندی جیسے اقدامات کیے تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر گہرے ہوں گے، خاص طور پر تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر۔

یہ صورتحال نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکا ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں سفارتکاری اور طاقت کے استعمال کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

محدود فضائی کارروائیوں کا آپشن دراصل ایک دباؤ کی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد مکمل جنگ سے بچتے ہوئے مخالف فریق کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوتا ہے۔

تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس نوعیت کے محدود اقدامات اکثر بڑے تنازعات کا پیش خیمہ بھی بن سکتے ہیں، خصوصاً ایسے خطے میں جہاں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہو۔

اگر آبنائے ہرمز متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے، جس سے توانائی، تجارت اور مالیاتی نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین