پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی دورہ

چیئرمین آغوش کمپلیکس نے ادارے میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے فراہم کی جانے والی جدید سہولیات کا جائزہ لیا

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)چیئرمین آغوش کمپلیکس اور صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی اور خصوصی دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ادارے میں بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے فراہم کی جانے والی جدید سہولیات کا جائزہ لیا۔

دورے کے دوران جن منصوبہ جات کا معائنہ کیا گیا ان میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پوڈکاسٹ روم، الیکٹرک ڈِش واشنگ مشین، خوبصورتی سے تزئین و آرائش کیے گئے رہائشی کمرے اور اسکول ایکٹیویٹی ہال شامل ہیں، جو بچوں کی تعلیمی، تخلیقی اور رہائشی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی دورہ

اس موقع پر ڈائریکٹر آغوش کمپلیکس کرنل (ر) مبشر اقبال نے منصوبوں کے اغراض و مقاصد، ان کی افادیت اور بچوں کی ہمہ جہت ترقی میں ان کے کردار پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ان سہولیات کا مقصد یتیم بچوں کو ایک محفوظ، باوقار اور جدید ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے ان ترقیاتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کرنل (ر) مبشر اقبال اور آغوش کمپلیکس کے تمام اسٹاف کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثالی فلاحی ماڈل قرار دیا اور اس کے تسلسل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی دورہ

اس موقع پر اپنے خصوصی بیان میں پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ فلاحی کام محض خدمت نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جس کے ذریعے معاشرے کے کمزور طبقات کو سہارا دے کر انہیں باعزت زندگی فراہم کی جا سکتی ہے۔ آغوش کمپلیکس جیسے ادارے نہ صرف یتیم بچوں کی کفالت کر رہے ہیں بلکہ انہیں تعلیم، تربیت اور خود اعتمادی کے زیور سے آراستہ کر کے ایک روشن مستقبل کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہر بچے کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں نکھار سکے۔ جدید سہولیات کی فراہمی اسی وژن کا حصہ ہے تاکہ یہ بچے کسی بھی میدان میں پیچھے نہ رہیں اور ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ بن سکیں۔

تقریب کے دوران پرنسپل آغوش گرامر اسکول عمران ظفر بٹ، پرنسپل تحفیظ القرآن انسٹیٹیوٹ محمد عباس نقشبندی، ایڈمن مینیجر کیپٹن محمد رمضان، بشیر احمد جان اور ناصر اقبال ایڈووکیٹ بھی موجود تھے، جنہوں نے ادارے کی ترقی کے لیے جاری اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی دورہ پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی دورہ پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی دورہ پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی دورہ پروفیسر ڈاکٹر حسین قادری کا آغوش آرفن کیئر ہوم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کا خصوصی دورہ

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ آغوش آرفن کیئر ہوم کے حالیہ ترقیاتی اقدامات دراصل فلاحی شعبے میں ایک جدید، منظم اور انسان دوست وژن کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں یتیم اور بے سہارا بچوں کو محض کفالت ہی نہیں بلکہ ایک باوقار، باصلاحیت اور خود مختار زندگی کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پوڈکاسٹ روم جیسی سہولت اس بات کی علامت ہے کہ ادارہ روایتی فلاحی ماڈل سے آگے بڑھ کر بچوں کو اظہارِ خیال، تخلیقی سوچ اور ڈیجیٹل مہارتوں کی طرف لے جا رہا ہے، جو آج کے دور کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں۔ اسی طرح الیکٹرک ڈِش واشنگ مشین اور تزئین و آرائش شدہ رہائشی کمرے نہ صرف عملی سہولت اور صفائی ستھرائی کے معیار کو بلند کرتے ہیں بلکہ بچوں کے لیے ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں وہ خود کو محفوظ، باعزت اور ایک خاندانی نظام کا حصہ محسوس کریں۔ اسکول ایکٹیویٹی ہال کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلیم کو صرف نصابی حد تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کی شخصیت سازی، اعتماد اور قائدانہ صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا اس تمام پیش رفت پر اطمینان اور حوصلہ افزائی دراصل اس بات کی توثیق ہے کہ ادارے کی سمت درست اور وژن پائیدار ہے۔ ان کا فلاحی کاموں کو محض خدمت کے بجائے اجتماعی ذمہ داری قرار دینا اس فکری پہلو کو اجاگر کرتا ہے کہ معاشرے کی ترقی صرف اس وقت ممکن ہے جب کمزور طبقات کو مضبوط بنیادیں فراہم کی جائیں۔ آغوش کمپلیکس جیسے ادارے دراصل اس سماجی خلا کو پُر کر رہے ہیں جو اکثر ریاستی اور سماجی سطح پر محسوس کیا جاتا ہے، اور بچوں کو ایسا ماحول دے رہے ہیں جہاں وہ محرومی کے احساس کے بغیر اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات نہ صرف ادارے کی انتظامی بہتری کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ ایک ایسے سماجی ماڈل کی طرف اشارہ بھی ہیں جو ہمدردی، جدیدیت اور عملی تربیت کو یکجا کر کے ایک روشن اور متوازن معاشرے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین