تہران: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ تقریباً 270 ارب ڈالر لگاتے ہوئے نہ صرف ان ممالک بلکہ خلیجی ریاستوں سے بھی ہرجانے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس سے خطے میں سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکومت کی ترجمان Fatemeh Mohajerani نے روسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تخمینہ براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے، جس میں انفراسٹرکچر، معیشت اور دیگر اہم شعبوں کو پہنچنے والے اثرات شامل ہیں۔
نقصان کی تفصیل
ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے دوران ملک کے مختلف شعبے شدید متاثر ہوئے، جن میں:
- توانائی اور تیل کا شعبہ
- صنعتی اور تجارتی انفراسٹرکچر
- نقل و حمل اور لاجسٹکس نظام
- مجموعی معاشی سرگرمیاں
شامل ہیں، جن کی بحالی کے لیے بھاری مالی وسائل درکار ہوں گے۔
مذاکرات میں ہرجانے کا مطالبہ
ترجمان کے مطابق جنگی نقصانات کا ازالہ ایران کے لیے ایک بنیادی مسئلہ بن چکا ہے، جسے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات میں بھی باقاعدہ طور پر اٹھایا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہرجانے کا مطالبہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی 10 نکاتی شرائط کا حصہ ہے، جس کے بغیر کسی بھی حتمی معاہدے کا تصور مشکل ہوگا۔
خلیجی ممالک سے بھی مطالبہ
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے António Guterres کے نام خط لکھ کر خلیجی ممالک سے بھی جنگی نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان ممالک میں قطر، سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت شامل ہیں، جن پر ایران نے بالواسطہ کردار یا تعاون کا الزام عائد کیا ہے۔
سفارتی تناؤ میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مذاکراتی عمل پہلے ہی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
یہ مطالبہ نہ صرف امریکا اور اسرائیل بلکہ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
ایران کا 270 ارب ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ ایک غیر معمولی اور سخت سفارتی قدم ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران مذاکرات میں مضبوط پوزیشن اختیار کرنا چاہتا ہے۔
یہ مطالبہ دراصل ایک دباؤ کی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے ایران اپنے نقصانات کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اور معاشی رعایتیں حاصل کرنا چاہتا ہے۔
تاہم خلیجی ممالک کو اس میں شامل کرنا صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ اس سے علاقائی اتحاد اور سفارتی توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر یہ معاملہ شدت اختیار کرتا ہے تو نہ صرف مذاکرات متاثر ہوں گے بلکہ خطے میں ایک نیا سفارتی محاذ بھی کھل سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔





















