واشنگٹن: (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی میں توسیع سے متعلق اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور وہ فی الحال اس پر غور بھی نہیں کر رہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ موجودہ جنگ بندی کی مدت بڑھانے کے حوالے سے ان کی انتظامیہ نے کوئی حتمی حکمت عملی اختیار نہیں کی۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ “مجھے واقعی لگتا ہے کہ آپ آئندہ دو دنوں میں کچھ حیرت انگیز دیکھیں گے”، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر یقینی ہو گئی ہے۔
ان کے اس بیان کو ماہرین مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں، جہاں کچھ اسے ممکنہ پیش رفت قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی سمجھتے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ عندیہ بھی دیا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع یا تو مذاکرات کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے یا پھر فوجی کارروائی کے ذریعے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور کسی بھی سمت جا سکتی ہے۔
جنگ بندی میں توسیع نہ ہونے کی صورت میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ موجود ہے، جبکہ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں حالات بہتر بھی ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا اندازِ بیان اکثر غیر متوقع ہوتا ہے اور یہی بات اس بیان میں بھی واضح نظر آتی ہے۔
ایک طرف وہ جنگ بندی میں توسیع سے گریز کی بات کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب “حیران کن پیش رفت” کا عندیہ دے رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ پسِ پردہ کچھ اہم سفارتی یا عسکری فیصلے زیر غور ہو سکتے ہیں۔
ایسے بیانات عام طور پر مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کے لیے بھی دیے جاتے ہیں، اس لیے آئندہ چند دن خطے کی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔





















