امریکی ٹیرف پر پاکستان کا ردعمل بھی آگیا

اسلام آباد: امریکا کی جانب سے پاکستان پر ٹیرف کے نفاذ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دے دیا ہے۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان نے ٹیرف کے نفاذ کا نوٹس لے لیا ہے اور اس معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اس معاملے پر ایک کمیٹی بھی قائم کر دی ہے۔ترجمان نے کہا کہ ٹیرف کا نفاذ ترقی پذیر ممالک پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور اس مسئلے کا مناسب حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا رہا ہے، تاہم اپنی سرحدوں کو آزاد اور محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ شفقت علی خان نے واضح کیا کہ حکومت غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی پر عملدرآمد کر رہی ہے اور یہ پاکستان کا جائز حق ہے کہ اپنی سرزمین پر قانونی آمدورفت کو یقینی بنائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مرحلہ وار طور پر آئی ایف آر پی (Illegal Foreigners Repatriation Plan) پر عمل کر رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ شراکت داروں سے رابطے میں ہے۔
ترجمان نے کہا کہ سرحدوں کا نظم و نسق خارجہ پالیسی کا حصہ ہے، جو وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ صوبائی حکومتوں کی جانب سے افغانستان سے مذاکرات کے ٹی او آرز (Terms of Reference) افغان ڈیسک سے چیک کیے جائیں گے۔

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے حوالے سے ایک سوال پر ترجمان نے کہا کہ وہاں پاکستانی برادری کی بڑی تعداد موجود ہے اور پاکستانیوں کے ویزوں پر مکمل پابندی نہیں لگائی گئی۔
آخر میں، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے بگرام میں ایئر بیس کے قیام کے حوالے سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین