آئی ایم ایف کی نئی شرائط یا مہنگائی کا نیا طوفان؟ جی ایس ٹی، سولر اور الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز نے تشویش بڑھا دی

آئی ایم ایف نے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے

اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ پر جاری مشاورت کے دوران ٹیکسوں میں ممکنہ اضافے سے متعلق خبریں سامنے آنے کے بعد عوام، کاروباری حلقوں اور معاشی ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی ٹیکس بڑھانے کی سفارشات زیر غور ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں الیکٹرک گاڑیوں پر جی ایس ٹی ایک فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد، ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 8.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد اور سولر پینلز پر جی ایس ٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی سفارش شامل ہے۔

اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو نہ صرف سولر انرجی منصوبوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ ماحول دوست گاڑیوں کی خریداری بھی عام شہری کی پہنچ سے مزید دور ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے جی ایس ٹی میں اضافے کی تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کے مطابق پہلے ہی عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور کسی بھی نئے ٹیکس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑے گا۔

ادھر ریٹیل سیکٹر کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت میں آئی ایم ایف نے فکسڈ ٹیکس اسکیم کی توثیق کر دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 20 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار رکھنے والے ریٹیلرز 25 ہزار روپے مقررہ ٹیکس ادا کریں گے جبکہ انہیں آڈٹ سے استثنیٰ بھی حاصل ہوگا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ ایف بی آر کو رواں مالی سال کے محصولات کا ہدف حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پہلے گیارہ ماہ میں 11 ہزار 232 ارب روپے ٹیکس جمع کیے جا چکے ہیں، تاہم مقررہ ہدف حاصل کرنے کیلئے جون کے مہینے میں مزید 2 ہزار 747 ارب روپے درکار ہوں گے جو ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایف بی آر ذرائع نے جی ایس ٹی میں اضافے سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور مختلف تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔ اسی طرح سولر پینلز، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے کے حوالے سے بھی کوئی باضابطہ فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان اس وقت ایک ایسے معاشی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں حکومت کو ایک طرف محصولات بڑھانے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری جانب عوام کو مزید مہنگائی سے بچانا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر سولر پینلز پر ٹیکس بڑھا دیا گیا تو حکومت کی قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینے کی پالیسی متاثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان میں ہزاروں شہری لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی سے بچنے کیلئے سولر سسٹمز کی طرف جا رہے ہیں، ایسے میں اضافی ٹیکس ان کیلئے نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بیشتر ممالک اس شعبے کو ٹیکس چھوٹ دے رہے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر شہریوں کی بڑی تعداد نے ممکنہ ٹیکس اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

کئی صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ اشیاء کی بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے، ایسے میں مزید ٹیکس عوام کیلئے ناقابل برداشت ہوں گے۔

بعض شہریوں نے کہا کہ اگر سولر پینلز پر بھی بھاری ٹیکس عائد کر دیا گیا تو متبادل توانائی کی طرف منتقلی مزید مشکل ہو جائے گی۔

تاجروں اور کاروباری حلقوں نے فکسڈ ٹیکس اسکیم کو نسبتاً مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے کاروباروں کو کچھ سہولت مل سکتی ہے۔

معاشی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کو محصولات بڑھانے کیلئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت دستاویزی معیشت، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کرنے پر توجہ دے تو محصولات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق سولر اور الیکٹرک گاڑیوں پر اضافی ٹیکس ماحولیات اور توانائی کے قومی اہداف کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔

میرے خیال میں حکومت کو فوری ریونیو کے حصول اور طویل المدتی معاشی مفادات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں جیسے شعبے مستقبل کی معیشت اور توانائی کے نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ان پر زیادہ ٹیکس لگا دیا گیا تو عوام کی دلچسپی کم ہو سکتی ہے اور ملک متبادل توانائی کے اہداف سے دور جا سکتا ہے۔

البتہ ٹیکس نظام میں اصلاحات، ٹیکس چوری کی روک تھام اور نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ حکومت محصولات بڑھانے کیلئے عوام پر مزید ٹیکس لگائے یا ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر نئے ذرائع سے آمدن حاصل کرے؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین