دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب

دہشت گردی نے نئے خطرات پیدا کر دیے :ہوم سیکرٹری پنجاب ، جامعات مکالمہ کو فروغ دیں: ڈاکٹر نیاز احمد

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)منہاج یونیورسٹی لاہور میں اسکول آف پیس اینڈ کاؤنٹر ٹیررازم اسٹڈیز، فورم فار انٹرنیشنل ریلیشنز ڈویلپمنٹ برطانیہ (پاکستان چیئر) اور پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس ان کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم کے اشتراک سے پرتشدد انتہا پسندی کے تدارک کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ معاشرے کے فعال اور متحرک کردار کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سماجی انصاف اور عوام دوست طرزِ حکمرانی ناگزیر ہے، جبکہ محض طاقت کا استعمال دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی کا صرف ایک جزو ہے، مکمل حل نہیں۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ دہشت گردی نے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے اور اس کے نتیجے میں معاشرتی ڈھانچہ بھی کمزور ہوا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے فروغ میں نظریاتی گمراہی، معاشی محرومی اور ادارہ جاتی کمزوریاں بنیادی عوامل کے طور پر کارفرما ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تین بنیادی اصول بھی بیان کیے اور کہا کہ اسلامی فکری و انتظامی روایات کی بحالی، انتہا پسندانہ بیانیے کی مستند اور مضبوط تردید، اور پاکستان کے آئینی و قانونی ڈھانچے کو مؤثر بنا کر ہر قسم کے فکری انتشار اور انتہا پسندی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو قرآن انسانی جان کی حرمت پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے، اُس کے پیروکار کسی بے گناہ کی جان کیسے لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اسلام میں ایک سنگین جرم ہے، اور اس حوالے سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 600 صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی فتویٰ جاری کیا ہے جس میں قرآن و سنت کی روشنی میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور خودکش حملوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

ہوم سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات نے نئی شکل اختیار کر لی ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مربوط تعاون انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس اہم موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر منہاج یونیورسٹی لاہور کو مبارکباد بھی پیش کی۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات کو انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تحقیق اور مکالمے پر مبنی علمی کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو برداشت، مثبت تنقید اور اعتدال پسندی کے اصولوں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چیئرمین رحمۃ للعالمین اتھارٹی خورشید ندیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ پچیس سال گزرنے کے باوجود ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کیوں لڑ رہے ہیں، اور اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ مؤثر حکمت عملی بنانے میں کہاں کمی رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں صرف علم فراہم نہیں کرتیں بلکہ علم کی تخلیق کا ذریعہ بھی ہوتی ہیں، لہٰذا انتہا پسندی کے حوالے سے مذہب اور بنیادی حقوق دونوں کو سنجیدگی سے ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب

انہوں نے مزید کہا کہ مدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم دینے سے سوچ میں تبدیلی نہیں آتی، سوچ بدلنے کے لیے نصاب میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے، اور ملک میں یکساں نظامِ تعلیم کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جب مسلک کی بنیاد پر بورڈز دیے جائیں گے تو مسلکی تقسیم ہی فروغ پائے گی، لہٰذا اس رجحان کو تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سکیورٹی اسٹیٹ کے تصور سے آگے بڑھ کر ویلفیئر اسٹیٹ کی طرف جانا ہوگا اور اس حوالے سے ہمیں حضور نبی اکرم ﷺ کی مبارک زندگی سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔

بین الاقوامی کانفرنس سے لیفٹیننٹ جنرل(ر) غلام مصطفی، ڈاکٹر برائن جے فلپس، پروفیسر طحہٰ قریشی، ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالہ، رجسٹرار منہاج یونیورسٹی لاہور ڈاکٹر خرم شہزاد، ہیڈ ڈیپارٹمنٹ آف پیس اینڈ کاؤنٹر ٹیرارزم سٹڈیز ڈاکٹر حسن فاروق مشوانی نے بھی خطاب کیا۔ناظم اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر خرم نواز گنڈاپور،بریگیڈیر (ر) ڈاکٹر محمد فیاض، بریگیڈیئر(ر) عمر حیات، کرنل(ر) خالد جاوید، سہیل احمد رضا، شہزاد رسول، سابق آئی جی شوکت جاوید سمیت منہاج یونیورسٹی کے ڈینز،فیکلٹی ممبرز اور طلبہ نے شرکت کی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور میں منعقد ہونے والی پرتشدد انتہا پسندی کے تدارک پر بین الاقوامی کانفرنس محض ایک علمی نشست نہیں بلکہ پاکستان کے موجودہ سماجی، فکری اور سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں ایک اہم پالیسی ڈسکشن کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس کانفرنس میں ریاستی اداروں، تعلیمی حلقوں اور فکری رہنماؤں نے ایک ہی پلیٹ فارم پر آکر اس بات پر اتفاق کیا کہ انتہا پسندی کا مسئلہ صرف سکیورٹی آپریشنز سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ایک جامع، فکری اور سماجی حکمت عملی ناگزیر ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں جس بنیادی نکتے کو اجاگر کیا وہ یہ تھا کہ انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ صرف معاشرے کی فعال شمولیت سے ممکن ہے۔ ان کا یہ مؤقف اس جدید سوشل سائنس کی بحث سے ہم آہنگ ہے جس میں دہشت گردی کو محض ایک سکیورٹی ایشو کے بجائے ایک سماجی و فکری مظہر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے سماجی انصاف، عوام دوست گورننس اور ادارہ جاتی مضبوطی کو بنیادی ستون قرار دیا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ریاستی ڈھانچے میں انصاف اور برابری کمزور ہو تو فکری خلا انتہا پسندی کے لیے جگہ پیدا کرتا ہے۔

کانفرنس میں یہ نکتہ بھی بار بار سامنے آیا کہ پاکستان میں دہشت گردی نے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کیا بلکہ معاشرتی اعتماد، اداروں پر یقین اور اجتماعی ہم آہنگی کو بھی متاثر کیا ہے۔ یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ جب معاشرے میں معاشی محرومی، تعلیمی ناہمواری اور ادارہ جاتی کمزوری بڑھتی ہے تو وہ عناصر جنم لیتے ہیں جو نوجوانوں کو منفی راستوں کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی جانب سے پیش کیے گئے تین بنیادی اصول—اسلامی فکری و انتظامی روایات کی بحالی، انتہا پسندانہ بیانیے کی علمی و مستند تردید، اور آئینی و قانونی ڈھانچے کی مضبوطی—اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف مذہبی یا سکیورٹی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک مکمل فکری جنگ ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی جان کی حرمت کو مرکزی اصول قرار دیا اور دہشت گردی کو اسلام کی روح کے منافی قرار دیا، جو انتہا پسندانہ بیانیوں کے رد کے لیے ایک مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتا ہے۔

ہوم سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے جس مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا وہ ریاستی پالیسی کے نقطۂ نظر سے انتہائی اہم ہے۔ ان کا یہ مؤقف کہ تعلیمی اداروں، ریاستی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون ناگزیر ہے، دراصل ایک “ہول آف سوسائٹی اپروچ” کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو جدید انسدادِ انتہا پسندی کی پالیسیوں کا بنیادی جزو ہے۔

چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے جامعات کے کردار کو صرف تدریسی اداروں تک محدود نہ رکھنے بلکہ انہیں “علم پیدا کرنے والے مراکز” کے طور پر دیکھنے کی بات کی۔ یہ تصور اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اگر اعلیٰ تعلیمی ادارے تحقیق، تنقیدی سوچ اور مکالمے کو فروغ دیں تو معاشرے میں برداشت اور اعتدال پسندی کو مضبوط کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب چیئرمین رحمۃ للعالمین اتھارٹی خورشید ندیم نے ایک اہم فکری سوال اٹھایا کہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیوں ممکن نہیں ہو سکا۔ ان کی تنقید اس پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پالیسی سطح پر تسلسل، گہرائی اور فکری اصلاحات کی کمی رہی ہے۔ انہوں نے نصاب، یکساں نظام تعلیم اور مسلکی تقسیم پر مبنی ادارہ جاتی ڈھانچے پر بھی سوال اٹھائے، جو پاکستان کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کی دیرینہ ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

مجموعی طور پر اس کانفرنس کا تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کا مستقبل صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ فکری، تعلیمی اور سماجی اصلاحات سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ریاست، تعلیمی ادارے اور مذہبی و سماجی قیادت ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں تو نہ صرف انتہا پسندی کے رجحانات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ پرامن، برداشت پر مبنی اور مستحکم معاشرہ بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فکری، معاشی اور ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں:منہاج یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالمی کانفرنس میں ماہرین کا خطاب

 

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین