مٹن کی جگہ چکن پیش کرنے پر شادی کی تقریب میدانِ جنگ بن گئی، 12 افراد زخمی

کھانے کے مینیو پر تنازع شدت اختیار کر گیا، پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں

بہار، بھارت (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بھارت کی ریاست بہار کے ضلع ویشالی میں ایک شادی کی تقریب اس وقت ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گئی جب مہمانوں کو مٹن کے بجائے چکن پیش کیے جانے پر تنازع کھڑا ہو گیا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی اور گھونسوں تک جا پہنچا۔ جھگڑے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق تقریب میں کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بعض مہمانوں کو معلوم ہوا کہ کھانے کے مینیو میں شامل مٹن کی جگہ چکن پیش کیا جا رہا ہے۔ اس پر مہمانوں اور میزبانوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو چند ہی لمحوں میں شدید جھگڑے میں تبدیل ہو گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق پہلے زبانی تکرار ہوئی، پھر متعدد افراد ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے، جس سے تقریب کا ماحول مکمل طور پر خراب ہو گیا اور شادی کی خوشیاں بدنظمی میں بدل گئیں۔

اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو کھانے کے مقام پر کرسیاں الٹی پڑی تھیں، جبکہ متعدد مہمان موقع چھوڑ کر جا چکے تھے۔ زخمی افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ حکام کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مینیو میں تبدیلی کیوں کی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے کسی مقدمے کے اندراج کی تصدیق کی گئی ہے۔

مقامی حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں شادیوں کے دوران کھانے کے انتظامات پر تنازعات کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ خاص طور پر مٹن کو شادیوں کی ایک اہم اور مہنگی ڈش سمجھا جاتا ہے، جبکہ چکن کو نسبتاً کم قیمت متبادل تصور کیا جاتا ہے، جس کے باعث بعض اوقات مہمانوں میں ناراضی پیدا ہو جاتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق شادی بیاہ کی تقریبات میں معمولی اختلافات بعض اوقات غیر ضروری تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے بقول ایسے واقعات معاشرتی برداشت اور نظم و ضبط کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، جہاں اختلاف رائے کو تشدد کے بجائے گفتگو کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس واقعے پر دلچسپ اور تنقیدی ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کئی صارفین نے اسے غیر ضروری ردعمل قرار دیا، جبکہ بعض نے لکھا کہ شادی کی تقریبات میں کھانے سے زیادہ خوشیوں کو اہمیت دینی چاہیے۔

ماہرین کی رائے

سماجی ماہرین کے مطابق عوامی تقریبات میں بہتر انتظامات، واضح منصوبہ بندی اور برداشت کا مظاہرہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

معاشرتی تقریبات خوشیاں بانٹنے اور رشتوں کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ معمولی اختلافات کو تشدد میں تبدیل کرنا نہ صرف تقریب کا حسن خراب کرتا ہے بلکہ معاشرتی رویوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

میری رائے میں شادی کی تقریبات میں اصل اہمیت باہمی احترام، خوش اخلاقی اور برداشت کی ہوتی ہے۔ کھانے یا دیگر انتظامات پر اختلاف کو تشدد تک لے جانا کسی بھی صورت مناسب رویہ نہیں، اور ایسے معاملات کو تحمل اور مکالمے سے حل کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین