علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں 4 کروڑ 30 لاکھ افراد کی شرکت؟ ایرانی میڈیا کا بڑا دعویٰ

چھ روزہ تعزیتی تقریبات کو ملکی تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شامل قرار، شرکا کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہ ہو سکی

تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی چھ روزہ آخری رسومات میں مجموعی طور پر 4 کروڑ 10 لاکھ سے 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی، جسے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے جنازوں اور عوامی جلوسوں میں شامل تھیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تعزیتی تقریبات ایران اور عراق کے پانچ اہم شہروں تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں منعقد کی گئیں، جہاں مختلف مراحل میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

سرکاری تقریبات کا آغاز گزشتہ ہفتے تہران کے گرینڈ مصلیٰ مذہبی کمپلیکس سے ہوا، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے تابوت کی آخری زیارت کی۔ بعد ازاں مختلف شہروں میں نمازِ جنازہ، تعزیتی اجتماعات اور جلوسوں کا انعقاد کیا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ان تقریبات میں شریک افراد نے قومی اور مذہبی قیادت سے وابستگی کا اظہار کیا، جبکہ پورے ملک میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات بھی کیے گئے۔

تاہم ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری کیے گئے شرکا کے اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی بین الاقوامی ادارے نے اس حوالے سے باضابطہ اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تعزیتی تقریبات ایران کے لیے مذہبی، سیاسی اور سماجی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کی حامل تھیں، جبکہ ایرانی قیادت نے انہیں قومی اتحاد اور یکجہتی کی علامت کے طور پر بھی پیش کیا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق بڑے عوامی اجتماعات میں شرکا کی تعداد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آنا معمول کی بات ہے۔ ان کے مطابق ایسے اعداد و شمار کو حتمی تصور کرنے سے قبل آزاد اور قابلِ اعتماد ذرائع سے تصدیق ضروری ہوتی ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر ایرانی میڈیا کے دعوؤں پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے بڑی عوامی شرکت کو ایرانی عوام کی وابستگی قرار دیا، جبکہ دیگر نے شرکا کی تعداد کے آزادانہ تصدیق شدہ اعداد و شمار جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے اجتماعات میں شرکا کی درست تعداد کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے سرکاری دعوؤں کی تصدیق آزاد ذرائع سے ہونا ضروری سمجھی جاتی ہے۔

بڑے عوامی اجتماعات سے متعلق اعداد و شمار کی درستگی صحافتی اعتبار سے انتہائی اہم ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں تصدیق شدہ معلومات اور غیر جانب دار ذرائع پر انحصار ہی ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے۔

میری رائے میں اس خبر کا اہم پہلو صرف شرکا کی تعداد نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ اس حوالے سے آزادانہ تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی۔ اسی لیے اس قسم کے دعوؤں کو سرکاری مؤقف کے طور پر پیش کرنا اور تصدیق نہ ہونے کی وضاحت شامل کرنا صحافتی دیانت داری کا تقاضا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین