لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ایک ایسا درجہ حرارت جو لاہور، کراچی، دہلی یا ڈھاکا کے شہریوں کے لیے معمول کی بات سمجھا جاتا ہے، وہی یورپ کے کئی شہروں میں زندگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ حالیہ ہیٹ ویوز نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ جنوبی ایشیا میں قابلِ برداشت کیوں لگتا ہے، مگر یورپ میں چند ہی دنوں کے اندر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جانوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمی کا اثر صرف تھرمامیٹر پر درج عدد سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اصل فرق انسانی جسم کی عادت، مقامی موسم، رہن سہن، عمارتوں کی ساخت، رات کے درجہ حرارت، نمی اور حکومتی تیاریوں سے پیدا ہوتا ہے۔
جنوبی ایشیا کے بیشتر علاقوں میں لوگ طویل عرصے سے سخت گرمی کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔ یہاں موسمِ گرما کئی ماہ تک شدت اختیار کیے رکھتا ہے، اس لیے انسانی جسم نسبتاً زیادہ درجہ حرارت کے ساتھ خود کو ڈھال لیتا ہے۔ اس کے برعکس یورپ کے کئی خطے روایتی طور پر سرد یا معتدل موسم کے عادی رہے ہیں۔ وہاں اچانک 35 ڈگری یا اس سے زائد درجہ حرارت جسمانی نظام پر غیر معمولی بوجھ ڈال دیتا ہے۔
یورپ میں ہیٹ ویوز کا ایک بڑا خطرناک پہلو گرم راتیں بھی ہیں۔ دن بھر گرمی سہنے کے بعد اگر رات کو بھی درجہ حرارت کم نہ ہو تو جسم کو آرام اور ٹھنڈک حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ مسلسل کئی دن اور راتیں گرم رہنے سے جسمانی تھکن، پانی کی کمی، ہیٹ اسٹریس اور ہیٹ اسٹروک جیسے خطرات تیزی سے بڑھ جاتے ہیں۔
عمارتوں کا ڈیزائن بھی اس بحران کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ یورپ کے بہت سے گھروں اور عمارتوں کو سردیوں میں حرارت محفوظ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، مگر یہی تعمیراتی خصوصیت گرمی کے دنوں میں گھروں کو بھٹی جیسا بنا دیتی ہے۔ دوسری طرف جنوبی ایشیا کے کئی علاقوں میں ہوا داری، کھلی چھتیں، صحن، پنکھوں کا استعمال اور گرمی سے بچاؤ کے روایتی طریقے طویل عرصے سے روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔
اس کے علاوہ عوامی تیاری اور بنیادی ڈھانچے کا فرق بھی اہم ہے۔ جنوبی ایشیا میں 35 ڈگری عام موسم سمجھا جاتا ہے، اس لیے لوگ، بازار، کام کے اوقات اور روزمرہ معمولات کسی حد تک گرمی کے مطابق ڈھل چکے ہوتے ہیں۔ یورپ میں یہی درجہ حرارت کئی شہروں کے لیے غیر معمولی صورت حال بن جاتا ہے، جہاں ہر گھر یا عوامی مقام پر ایئرکنڈیشننگ دستیاب نہیں ہوتی۔
نمی بھی گرمی کے اثر کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ جب ہوا میں نمی زیادہ ہو تو پسینہ جلدی خشک نہیں ہوتا، جس سے جسم کا قدرتی ٹھنڈا ہونے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ایک ہی درجہ حرارت مختلف علاقوں میں مختلف شدت سے محسوس ہوتا ہے۔ کہیں خشک گرمی نسبتاً برداشت ہو جاتی ہے، جبکہ مرطوب ماحول میں کم درجہ حرارت بھی شدید گھٹن اور خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ سمیت دنیا کے کئی خطوں میں ہیٹ ویوز زیادہ بار بار، طویل اور شدید ہو رہی ہیں۔ ایسے میں صرف درجہ حرارت دیکھنا کافی نہیں، بلکہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گرمی انسانی جسم، گھروں، شہروں اور صحت کے نظام کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ 35 ڈگری سینٹی گریڈ کہیں معمول کا موسم ہوتا ہے اور کہیں جان لیوا بحران۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی سے ہونے والی اموات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ موسمی شدت کا اثر صرف درجہ حرارت کے عدد سے نہیں بلکہ انسانی جسم، سماجی عادات، تعمیراتی ڈھانچے اور حکومتی تیاری سے بھی وابستہ ہوتا ہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک میں یہی درجہ حرارت عموماً معمول سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ طویل عرصے سے گرم موسم کے عادی ہیں اور ان کی روزمرہ زندگی، لباس، خوراک، کام کے اوقات اور رہائشی انداز کسی نہ کسی حد تک گرمی سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس یورپ کے بیشتر معاشرے تاریخی طور پر سرد موسم کے مطابق ڈھلے ہوئے ہیں، جہاں گھروں اور عمارتوں کی تعمیر بھی حرارت محفوظ رکھنے کے اصول پر کی جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب وہاں مسلسل کئی دن گرمی برقرار رہتی ہے اور راتیں بھی ٹھنڈی نہیں ہوتیں تو انسانی جسم کو بحالی کا موقع نہیں ملتا، نتیجتاً بزرگ، بچے، بیمار افراد اور کمزور طبقات سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ اس صورت حال میں نمی، بند گھروں، ایئرکنڈیشننگ کی محدود دستیابی اور عوامی تیاری کی کمی خطرات کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ یہ بحران دراصل موسمیاتی تبدیلی کا ایک سنگین اشارہ بھی ہے کہ دنیا کے وہ خطے جو ماضی میں شدید گرمی کے عادی نہیں تھے، اب تیزی سے بدلتے موسم کے سامنے غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لیے یورپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے شہری نظام، صحت کے انتظامات، گھروں کے ڈیزائن اور ہیٹ ویو سے نمٹنے کی پالیسیوں کو نئے موسمی حقائق کے مطابق تبدیل کرے، ورنہ آنے والے برسوں میں نسبتاً معمولی سمجھی جانے والی گرمی بھی بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔





















