زیورخ / واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب فیفا نے امریکی کھلاڑی فولارین بالوگن کی ایک میچ کی معطلی واپس لینے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد عالمی فٹبال حلقوں میں اس فیصلے پر نئی بحث چھڑ گئی۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیفا صدر جیانی انفانٹینو سے رابطے اور فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کے بعد فیفا نے ضابطہ اخلاق کے تحت بالوگن کی معطلی مؤخر کر دی، جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں شرکت کے اہل ہو گئے ہیں۔
فولارین بالوگن کو بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف گروپ میچ میں وی اے آر جائزے کے بعد مخالف کھلاڑی تارک محرمووچ کے ٹخنے پر خطرناک ٹیکل کرنے پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا، جس کے باعث ان پر ایک میچ کی خودکار معطلی عائد ہوئی تھی۔
امریکی ٹیم کے ہیڈ کوچ ماریسیو پوچیٹینو نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واقعہ ریڈ کارڈ کا مستحق نہیں تھا اور ریفری نے انتہائی سخت فیصلہ کیا۔
بعد ازاں میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا حکام سے رابطہ کر کے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی، جس کے بعد فیفا نے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 27 کے تحت بالوگن کی معطلی ایک سال کی آزمائشی مدت کے لیے مؤخر کر دی۔
فیفا کے مطابق ریڈ کارڈ اپنی جگہ برقرار رہے گا، تاہم اگر آئندہ ایک سال کے دوران بالوگن اسی نوعیت کی کسی اور خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تو موجودہ معطلی فوری طور پر نافذ ہو جائے گی، جبکہ نئی خلاف ورزی پر الگ سے تادیبی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
اس فیصلے کے بعد بیلجیئم کے فٹبال حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی مقابلوں میں تمام ٹیموں کے لیے یکساں قوانین کا اطلاق ہونا چاہیے اور کسی بھی سیاسی یا بیرونی دباؤ کا تاثر کھیل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر سکتا ہے۔
فیفا نے معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ فیصلہ ضابطہ اخلاق کے تحت کیا گیا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اگر کسی بھی کھیل میں قوانین کے نفاذ کے حوالے سے شفافیت پر سوالات اٹھنے لگیں تو اس سے ٹورنامنٹ کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیفا جیسے عالمی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ ہر فیصلے کی قانونی اور انتظامی بنیاد واضح انداز میں سامنے لائی جائے تاکہ کسی قسم کی جانبداری کا تاثر پیدا نہ ہو۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے فیفا کے فیصلے کو مناسب قرار دیا، جبکہ متعدد شائقین نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی صورتحال کسی دوسرے ملک کے کھلاڑی کے ساتھ پیش آتی تو کیا فیصلہ بھی یہی ہوتا۔
ماہرین کی رائے
فٹبال ماہرین کے مطابق عالمی کھیلوں کی ساکھ کا انحصار قوانین کے یکساں اطلاق پر ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک ایسے فیصلوں کی مکمل وضاحت اور شفافیت مستقبل میں تنازعات سے بچنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
بین الاقوامی کھیل صرف مقابلے کا نام نہیں بلکہ انصاف، برابری اور شفافیت کی علامت بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر فیصلہ ایسا ہونا چاہیے جس پر تمام ٹیموں اور شائقین کو یکساں اعتماد حاصل ہو۔
میری رائے میں اگر کسی بڑے کھیل کے فیصلے پر سیاسی اثر و رسوخ کا تاثر پیدا ہو تو اس سے اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ اداروں کی جانب سے مکمل شفافیت اور واضح قانونی وضاحت پیش کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔





















