پی سی بی کا بڑا فیصلہ، کرکٹرز کی تنخواہوں اور میچ فیس کے لیے 1.1 ارب روپے مختص

45 قومی کرکٹرز کو پانچ کیٹیگریز میں سینٹرل کنٹریکٹ، مینز اور ویمن کرکٹ میں معاوضوں میں نمایاں اضافہ

لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نئے مالی سال کے لیے قومی کرکٹرز کی مالی مراعات میں نمایاں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہوں اور میچ فیس کی مد میں 1.1 ارب روپے مختص کر دیے ہیں۔ اس فیصلے کا مقصد قومی کرکٹرز کی مالی معاونت کو بہتر بنانا، نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کرنا اور ملکی کرکٹ کے پیشہ ورانہ معیار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

پی سی بی کے بجٹ کے مطابق رواں برس 45 قومی کرکٹرز کو پانچ مختلف کیٹیگریز میں سینٹرل کنٹریکٹس دیے جائیں گے، جبکہ ہر کیٹیگری کے لیے میچ فیس اور ماہانہ معاوضے کی نئی شرح بھی مقرر کر دی گئی ہے۔

اعلان کے مطابق کیٹیگری اے بی (ٹیسٹ اور ون ڈے) میں شامل کھلاڑیوں کو ایک ٹیسٹ میچ کی فیس 15 لاکھ روپے، ایک روزہ میچ کی فیس 7 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کی فیس 5 لاکھ روپے ادا کی جائے گی۔

اسی طرح کیٹیگری اے (ٹیسٹ) کے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ میچ کے لیے 15 لاکھ روپے، ون ڈے کے لیے 6 لاکھ 50 ہزار روپے اور ٹی ٹوئنٹی کے لیے 4 لاکھ 50 ہزار روپے ملیں گے۔

کیٹیگری بی سی (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی) کے کھلاڑیوں کے لیے ٹیسٹ میچ فیس 9 لاکھ روپے، ون ڈے 7 لاکھ 50 ہزار روپے اور ٹی ٹوئنٹی 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ کیٹیگری سی (ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل) میں شامل کرکٹرز کو ٹیسٹ میچ کے لیے 7 لاکھ روپے اور ون ڈے و ٹی ٹوئنٹی دونوں فارمیٹس کے لیے 5،5 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

اس وقت زیرِ معاہدہ 30 قومی کرکٹرز کو ٹیسٹ میچ کے لیے تقریباً 12 لاکھ 57 ہزار روپے، ون ڈے کے لیے 6 لاکھ 44 ہزار روپے جبکہ ٹی ٹوئنٹی میچ کے لیے 4 لاکھ 18 ہزار روپے معاوضہ دیا جاتا ہے، تاہم نئے نظام کے تحت مختلف کیٹیگریز میں نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی بڑی سرمایہ کاری

پی سی بی نے مردوں کی ڈومیسٹک کرکٹ کے سینٹرل کنٹریکٹس میں اگرچہ بنیادی ڈھانچہ برقرار رکھا ہے، تاہم مجموعی طور پر 175 کھلاڑیوں کو چار مختلف کیٹیگریز میں معاہدے دیے جائیں گے۔

اس منصوبے کے تحت پہلی کیٹیگری کے 30 کھلاڑی ماہانہ 3 لاکھ 50 ہزار روپے، دوسری کیٹیگری کے 55 کرکٹرز 2 لاکھ 50 ہزار روپے، تیسری کیٹیگری کے 55 کھلاڑی ڈیڑھ لاکھ روپے جبکہ چوتھی کیٹیگری میں شامل 35 نوجوان کرکٹرز کو ماہانہ ایک لاکھ 40 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

پی سی بی نے قائداعظم ٹرافی کے کھلاڑیوں کے لیے بھی خوشخبری سناتے ہوئے میچ فیس 30 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی ہے، جبکہ ریزرو کھلاڑیوں کا معاوضہ 15 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے فی میچ مقرر کیا گیا ہے۔

ویمن کرکٹرز کو بھی بڑا ریلیف

پاکستان ویمن کرکٹ کی ترقی کے لیے بھی بورڈ نے اہم فیصلے کیے ہیں۔ ویمن سینٹرل کنٹریکٹ کی ابتدائی چار کیٹیگریز میں 33.33 فیصد جبکہ آخری کیٹیگری میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

نئی پالیسی کے مطابق اے کیٹیگری کی خواتین کرکٹرز کو اب 6 لاکھ روپے ماہانہ ملیں گے، جبکہ بی کیٹیگری کا معاوضہ 5 لاکھ روپے، سی کیٹیگری کا 3 لاکھ روپے، ڈی کیٹیگری کا 2 لاکھ روپے اور ای کیٹیگری کا ڈیڑھ لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔

اگرچہ ویمن ڈومیسٹک سینٹرل کنٹریکٹس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، تاہم گولڈ کیٹیگری کی 20 کھلاڑی ماہانہ 55 ہزار روپے جبکہ سلور کیٹیگری کی 50 کرکٹرز 40 ہزار روپے وصول کریں گی۔

اس کے علاوہ خواتین سینئر اور انڈر 19 کرکٹرز کی میچ فیس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب خواتین ون ڈے انٹرنیشنل کی میچ فیس ایک لاکھ سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے جبکہ ٹی ٹوئنٹی کی فیس 60 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ انڈر 19 کھلاڑیوں کے لیے بھی ون ڈے فیس 80 ہزار اور ٹی ٹوئنٹی فیس 40 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

ویمن کرکٹ کے لیے نئے ٹورنامنٹس

پی سی بی نے خواتین کی ڈومیسٹک کرکٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دو نئے ٹورنامنٹس سپر تھری ون ڈے اور سپر تھری ٹی ٹوئنٹی شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جن پر بالترتیب 70.57 ملین اور 59.13 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کی تنخواہوں، میچ فیس اور ڈومیسٹک کرکٹ کے بجٹ میں اضافہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ سرمایہ کاری میرٹ، شفافیت اور بہتر کرکٹ ڈھانچے کے ساتھ جاری رہی تو نہ صرف قومی ٹیم کو فائدہ ہوگا بلکہ نوجوان ٹیلنٹ کو بھی آگے بڑھنے کے بہتر مواقع ملیں گے۔ خصوصاً خواتین کرکٹ میں مالی مراعات بڑھانا مستقبل کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

عوامی رائے

کرکٹ شائقین نے سوشل میڈیا پر پی سی بی کے فیصلوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ قومی اور ڈومیسٹک کھلاڑیوں کی بہتر مالی معاونت سے ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، جبکہ بعض مداحوں نے مطالبہ کیا کہ سہولیات کے ساتھ کھلاڑیوں کی کارکردگی کا معیار بھی سختی سے جانچا جائے۔

ماہرین کی رائے

کرکٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دنیا کی مضبوط کرکٹ ٹیمیں ہمیشہ اپنے ڈومیسٹک نظام میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں بھی اگر کھلاڑیوں کو مالی تحفظ، معیاری سہولیات اور مستقل مواقع فراہم کیے جائیں تو قومی کرکٹ مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ خواتین کرکٹ میں اضافی سرمایہ کاری کو بھی مستقبل کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

کرکٹ صرف قومی کھیل کا جذبہ نہیں بلکہ پاکستان کی عالمی شناخت بھی ہے۔ اگر پی سی بی مالی وسائل کے ساتھ میرٹ، احتساب اور جدید منصوبہ بندی پر بھی یکساں توجہ دے تو یہ سرمایہ کاری مستقبل میں قومی کرکٹ کے لیے دور رس نتائج دے سکتی ہے۔

میری رائے میں کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور میچ فیس میں اضافہ ایک مثبت اقدام ہے، لیکن اس کے ساتھ کارکردگی، فٹنس، نظم و ضبط اور ڈومیسٹک نظام کی مضبوطی کو بھی ترجیح دینا ضروری ہے۔ مستقل سرمایہ کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوگی جب اس کے ثمرات قومی ٹیم کی کارکردگی اور نئے ٹیلنٹ کی تیاری میں واضح طور پر نظر آئیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین