میں برکلے لا کی جے ایس ڈی امیدوار ہوں، اور 25 سے زائد اے آئی ہیڈ شاٹ جنریٹرز کو آزمانے کے بعد میں نے پایا کہ ان میں سے ہر ایک نے تیار کردہ تصاویر میں میرا حجاب ہٹا دیا۔ اس تجربے نے مصنوعی ذہانت میں تعصب، مذہبی اظہار، نمائندگی اور الگورتھمک نظاموں میں انسانی وقار سے متعلق نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
جب میں نے ایک اے آئی ہیڈ شاٹ جنریٹر میں اپنی سیلفی اپ لوڈ کی تو مجھے ایک نفیس اور پیشہ ورانہ پورٹریٹ کی توقع تھی۔ اس کے بجائے سافٹ ویئر نے حجاب ہٹا دیا، جو میری مذہبی شناخت کا ایک نمایاں اظہار ہے۔ میں نے اسے محض ایک تکنیکی خرابی سمجھا اور ایک دوسری ایپ آزمائی، پھر ایک اور، لیکن نتائج یکساں رہے۔
اس دریافت نے الگورتھمک تعصب کی ایک ایسی نظرانداز شدہ شکل کو اجاگر کیا جس کے امتیازی سلوک کے قانون، شناخت کی نمائندگی اور انسانی وقار پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
میرے یہ نتائج برکلے لا میں ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق کے حوالے سے میری وسیع تر تحقیق کے دوران سامنے آئے۔ امریکا آنے سے قبل میں نے پاکستان میں تقابلی آئینی قانون، فقہ اور قانونِ تعزیر و دیوانی کے مضامین پڑھائے۔ برکلے لا کی علمی تحقیق سے متاثر ہو کر میں نے 2019 میں ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں جے ایس ڈی کے لیے واپس آئی۔ میری ڈاکٹریٹ کی تحقیق اس امر کا جائزہ لیتی ہے کہ قانونی نظام انسانی حقوق سے متعلق وعدوں کو عملی تحفظ میں کس طرح تبدیل کرتے ہیں، جس کے لیے پاکستان میں گھریلو تشدد سے متعلق قانون سازی کو بطور مطالعاتی مثال استعمال کیا گیا ہے۔ میری تحقیق میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے حکمرانی کے چیلنجز کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے۔
میرے نتائج کے بعد برکلے لا کے اساتذہ نے میری تحقیق کو سراہا، کیونکہ اس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز ذاتی شناخت اور انسانی حقوق کو کس طرح چیلنج کرتی ہیں۔ وزٹنگ لا پروفیسر لوراں مایالی نے نشاندہی کی کہ میری تحقیق اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز کے ظہور کے ساتھ قانون کو افراد کے لیے کیا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح پروفیسر آف لا کیتھرین ابرامز نے غیر متوقع حقائق اور شواہد کا تعاقب جاری رکھنے اور ان کی بنیاد پر مشکل سوالات اور مفروضے تشکیل دینے کی میری کوشش کو اجاگر کیا۔ ایرک اسٹوور نے اس بات پر زور دیا کہ میری تحقیق اس حوالے سے ایک اہم تنبیہ ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانی وقار کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔
تقابلی آئینی قانون میں میری دلچسپی نے مجھے اس بات کا جائزہ لینے کی طرف مائل کیا کہ قانونی ڈھانچے ناانصافی کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔ عالمی نقطۂ نظر کے حصول کے لیے میں نے برکلے لا کا انتخاب اس کے بین الاقوامی قانون کے پروگرام اور بین الشعبہ جاتی علمی تحقیق کی وجہ سے کیا۔ ایل ایل ایم کے دوران حاصل ہونے والے تجربے نے مجھے جے ایس ڈی کرنے اور یہ مطالعہ کرنے کی ترغیب دی کہ قانونی نظام نئے نوعیت کے نقصانات سے کس طرح مطابقت پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی اور خاندان میں یونیورسٹی کی پہلی طالبہ کی حیثیت سے برکلے میں ڈاکٹریٹ کی محقق بننا میرے لیے ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے میری تحقیق اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے چیلنجز کے سامنے قانونی ادارے ذمہ داری کا تعین کس طرح کرتے ہیں۔ امتیازی نتائج پیدا کرنے والی مصنوعی ذہانت کے لیے قانونی جواب دہی کا تعین پیچیدہ ہے، کیونکہ اس میں ڈیٹا سیٹس تیار کرنے والے، ماڈل بنانے والے، پلیٹ فارم چلانے والے اور آخری صارفین سب شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ چیلنج سرحد پار معاملات میں مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے، جہاں کیلیفورنیا میں تیار کیا گیا کوئی ماڈل دنیا بھر کے صارفین تک پہنچتا ہے اور کسی دوسرے ملک میں لوگوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ منصوبہ اس وقت شروع ہوا جب میں نے اے آئی ہیڈ شاٹ ایپ آزمائی اور یہ دریافت کیا کہ اس نے میرا حجاب ہٹا دیا۔ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ حجاب مذہبی شناخت اور شخصی خودمختاری کی نمائندگی کرتا ہے، میں نے ایک سال کے دوران اپنی تحقیق کو 25 ایپلی کیشنز تک وسعت دی۔ ہر ایپ نے میرے سر کو ڈھانپنے والے حجاب کو ختم کر دیا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ جب کم نمائندگی رکھنے والے طبقات تربیتی ڈیٹا میں مناسب طور پر موجود نہ ہوں تو اے آئی ماڈلز خاموشی سے ظاہری شناخت کو تبدیل اور نظامی تعصب کو دوبارہ پیدا کر سکتے ہیں۔
وکیلوں اور پالیسی سازوں کو اس معاملے پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ اے آئی ٹولز شناخت کو فعال طور پر مسخ، امتیازی سلوک کو وسیع پیمانے پر پھیلا اور جواب دہی میں بڑے خلا پیدا کر سکتے ہیں۔ روایتی انسدادِ امتیاز قوانین عموماً انسانی نیت کو ثابت کرنے پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے وہ ایسے الگورتھمک نظاموں سے نمٹنے کے لیے پوری طرح موزوں نہیں جہاں ذمہ داری مختلف فریقوں کے درمیان تقسیم ہو اور معاملات بین الاقوامی سرحدوں سے تجاوز کرتے ہوں۔
جیسے جیسے اے آئی ٹولز پیشہ ورانہ پلیٹ فارمز پر پھیل رہے ہیں، قانونی اداروں کو ایسے معاملات کا سامنا بڑھتا جائے گا جہاں الگورتھم خاموشی سے شناخت کے ظاہری اظہار کو تبدیل کرتے ہیں۔ اب میرے نزدیک حکمرانی کے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا قانونی نظام انسانی وقار کو لاحق ان باریک مگر اہم مسخ شدگیوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں؟





















