لندن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)رمیٹیوڈ آرتھرائٹس (Rheumatoid Arthritis) میں مبتلا افراد کے لیے نئی طبی تحقیق میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے مطابق اس بیماری کے ہزاروں مریض پھیپھڑوں کی ایک خطرناک بیماری رمیٹیوڈ آرتھرائٹس سے وابستہ انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز (RA-ILD) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیماری کی بروقت تشخیص نہ ہو تو مریض کو سنگین پیچیدگیوں اور سانس کی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس ایک خودکار مدافعتی (آٹو امیون) بیماری ہے، جو عموماً جوڑوں میں درد، سوجن اور اکڑاؤ کا باعث بنتی ہے، تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے اثرات صرف جوڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پھیپھڑوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بعض مریض رمیٹیوڈ آرتھرائٹس سے وابستہ انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں میں سوزش پیدا ہوتی ہے اور وقت کے ساتھ ان میں داغ (Scarring) بننے لگتے ہیں، جو سانس لینے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق معروف طبی جریدے دی لانسیٹ ریسپائریٹری میڈیسن میں شائع ہوئی، جس میں بین الاقوامی ماہرین نے اس بیماری کے خطرے سے متعلق اہم عوامل کی نشاندہی کی ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور نیشنل جیوش ہیلتھ کے انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جوشوا سولومن کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس صرف جوڑوں کی بیماری نہیں بلکہ بعض مریضوں میں پھیپھڑوں کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف صحت بلکہ معیارِ زندگی بھی متاثر ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے ہر چھ میں سے ایک مریض میں پھیپھڑوں کی کسی نہ کسی قسم کی خرابی پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ہر دس میں سے ایک مریض رمیٹیوڈ آرتھرائٹس سے وابستہ انٹرسٹیشل لنگ ڈیزیز کا شکار ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بیماری کی بروقت تشخیص کر لی جائے تو سوزش کم کرنے، پھیپھڑوں میں داغ بننے کے عمل کو سست کرنے اور سانس لینے کی صلاحیت برقرار رکھنے والی ادویات کے ذریعے اس کا مؤثر علاج ممکن ہے، جس سے مریض کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
طبی ماہرین نے رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر انہیں مسلسل کھانسی، سانس پھولنے، سینے میں بھاری پن یا معمولی جسمانی سرگرمی پر بھی سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ کئی دائمی بیماریاں صرف ایک عضو تک محدود نہیں رہتیں بلکہ جسم کے دیگر اہم حصوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے مریضوں میں پھیپھڑوں کی باقاعدہ جانچ مستقبل میں سنگین پیچیدگیوں سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
عوامی رائے
صحت سے متعلق سوشل میڈیا صفحات پر اس تحقیق کو خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ متعدد صارفین نے اس نئی معلومات کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ دائمی بیماریوں کے مریضوں میں باقاعدہ طبی معائنہ اور آگاہی انتہائی ضروری ہے۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کے مطابق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے مریضوں میں سانس سے متعلق علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تشخیص اور مناسب علاج بیماری کی شدت کم کرنے اور مریض کی زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
دائمی بیماریوں کے علاج میں صرف علامات پر قابو پانا کافی نہیں بلکہ ان سے جڑی ممکنہ پیچیدگیوں کی بروقت شناخت بھی ضروری ہے۔ جدید تحقیق اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ احتیاط، آگاہی اور بروقت تشخیص ہی مؤثر علاج کی بنیاد ہیں۔
میری رائے میں یہ تحقیق رمیٹیوڈ آرتھرائٹس کے مریضوں اور معالجین دونوں کے لیے اہم پیغام رکھتی ہے۔ اگر مریض اپنی بیماری کے ممکنہ اثرات سے باخبر رہیں اور باقاعدگی سے طبی معائنہ کروائیں تو کئی سنگین پیچیدگیوں سے بروقت بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔





















